BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 May, 2007, 05:51 GMT 10:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بدسلوکی کیس میں فیصلہ محفوظ

چیف جسٹس
سابقہ قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے واقعہ کا از خود نوٹس لیا تھا
’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے مقدمہ میں تمام ملزمان کے غیر مشروط معافی مانگ لینے کے بعد سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ اس مقدمے میں سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے چیف کمشنر اور آئی جی پولیس سمیت سات افسران پر فرد جرم عائد کی تھی اور تمام ملزمان نے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔

جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں کام والے تین رکنی بینچ نے تمام ملزمان کی طرف سے غیر مشروط معافی کے بعد اٹارنی جنرل مخدوم علی خان کے دلائل سننے۔ ہتک عدالت کے مقدموں میں اٹارنی جنرل استغاثہ کے طور پیش ہوتا ہے۔

اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر جج یا کسی سائل کو عدالت میں آنے سے روکنے کی کوشش کی جائے تو وہ ہتک عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ اعلی عدالتوں کی روایت رہی ہے کہ جب کوئی ملزم عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لے اور اپنے آپکو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دے تو عدالت اسے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاف کر دیتی ہیں۔

جن اہلکاروں کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں ان میں اسلام آباد کے چیف کمشنر خالد پرویز، ڈپٹی کمشنر، چودھری محمد علی، اسلام آباد پولیس کے آئی جی افتخار احمد، ڈی آئی جی شاہد ندیم بلوچ، ایس ایس پی ظفر اقبال، ڈی ایس پی جمیل ہاشمی، متعلقہ تھانے کے انچارج رخسار مہدی اور آئی جی اسلام آباد کے گارڈ محمد سراج شامل ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اپنے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کے سماعت کے سلسلے میں تیرہ مارچ کو جب پہلی دفعہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہونے کے لیے گھر سے نکلے تھے تو انہیں مبینہ طور پر بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔سرکاری گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کی عمارت تک پیدل جانے کی کوشش کی تو مبینہ طور پر پولیس کے کچھ اہلکاروں نے انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھانے کے کوشش کی تھی۔

سپریم کورٹ کے اس وقت کے قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے چیف جسٹس کے ساتھ بدسلوکی کا نوٹس لیتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعجاز افضل کو تمام واقعے کی تحقیق کے مقرر کیا تھا۔ جسٹس اعجاز افضل کی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ نے ملزمان کو ہتک عدالت کے نوٹس جاری کیے تھے جس پر انہوں نے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد