اب نہ بحث نہ تبصرے نہ نعرے،سب توہینِ عدالت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے عوام الناس، وکلاء اور ذرائع ابلاغ کو خبردار کیا ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس عدالت عظمیٰ اور سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہے اس لیے اس پر ایسی بحث اور تبصروں سے گریز کیا جائے جو قانونی طریقۂ کار میں مداخلت یا ججوں اور عدالت کو سکینڈلائز کرنے کے مترادف ہو۔ سپریم کورٹ کے ترجمان نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ قانونی عمل، عدالت یا ججوں کا تمسخر اڑانے جیسے کسی بھی تبصرے اور مضمون لکھنے والے کے خلاف توہین عدالت کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ عدالت نے چیف جسٹس اور دیگر کی آئینی پٹیشنز کی ہر سماعت کے روز مقدمات سے متعلقہ اشخاص، وکلا اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے لیے تفصیلی ہدایات بھی جاری کی ہیں جس کے تحت عدالت نے سپریم کورٹ کے احاطے اور ججز کے دروازے کے سامنے کسی قسم کی نعرہ بازی پر پابندی عائد کردی ہے۔ ہدایات میں عدالت نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ایسے وکلاء اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کو عدالتی احاطے میں جانے کی اجازت ہوگی جن کے مقدمات کی تاریخ ہوگی اور متعلقہ افراد کی شناخت کے بعد انہیں عدالتی احاطے میں آنے کی اجازت دی جائے گی۔ وکلاء اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کو بار روم اور عدالتی دفاتر تک دفتری کام کے سلسلے میں رسائی حاصل ہوگی۔ بیان کے مطابق سپریم کورٹ ، ہائیکورٹس یا ماتحت عدالتوں میں جو دروازے ججوں کے لیے مختص ہیں وہ وکلاء یا عام آدمی استعمال کرنے کے مجاز نہیں اور سب کو اس احترام ملحوظ رکھنا چاہیے۔ عدالت عظمیٰ نے وکلاء کی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی غیر متعلقہ شخص عدالت کے احاطے میں یا ججز کے لیے مخصوص دروازے سے عمارت میں داخل نہ ہو۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ کورٹ روم میں ذرائع ابلاغ کے نمائندے رجسٹرار کے دفتر سے جاری ہونے والے پاس کے بغیر داخل نہیں ہوسکتے۔ واضح رہے کہ پیر چودہ مئی سے سپریم کورٹ کا چودہ ججوں پر مشتمل فل کورٹ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور دیگر کی آئینی درخواستوں کی روزانہ سماعت شروع کرے گا۔ قبل ازیں جب چیف جسٹس کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کی سپریم جوڈیشل کونسل میں سماعت ہوا کرتی تھی تو بھی وکلاء، عوام الناس اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے لیے ہدایات جاری کی جاتی تھیں۔ لیکن اس بار جہاں نعرہ بازی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے وہاں عدالت، ججز، اور قانونی طریقہ کار کے متعلق تبصروں پر پابندی عائد کرتے ہوئے توہین عدالت کے تحت کارروائی کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ’کوریج میں احتیاط، میڈیا کو ہدایت‘14 March, 2007 | پاکستان جسٹس کیس: کب کیا ہوا؟05 May, 2007 | پاکستان فل کورٹ کی ہیئت کیا ہوسکتی ہے؟07 May, 2007 | پاکستان جوڈیشل کونسل کی کارروائی معطل07 May, 2007 | پاکستان نشریات کے تعطل پر واک آؤٹ08 May, 2007 | پاکستان پیمرا کا ’آج‘ ٹی وی کو نوٹس23 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||