یومِ سیاہ، ملک گیر ہڑتال کی کال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل نے کراچی میں ہونے والی خونریزی کے خلاف اتوار کو یوم سیاہ اور پیر کو ملک گیر ہڑتال کی کال دی دے ہے جبکہ پنجاب بھر کے وکلاء نے بھی پیر کو ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یوم سیاہ اور ہڑتال کرنے کا اعلان کیا گیا۔ مجلس عمل کے شعبۂ نشر و اشاعت سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حزب مخالف کی جماعتوں سے مشورے کے بعد ایم ایم اے کے صدر قاضی حسین احمد نے ’ایم کیو ایم کی غنڈہ گردی کے خلاف تیرہ مئی کو یوم سیاہ اور چودہ مئی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔‘ دوسری طرف جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل سید منور حسن نے بھی لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یوم سیاہ اور ہڑتال کا اعلان کیا۔ منور حسن نے بتایا کہ سنیچر کی شام تک کراچی میں بدترین دہشتگردی کے نتیجے چھبیس افراد ہلاک ہوئے جن کا تعلق حزب مخالف کی جماعتوں سے ہے جبکہ 130 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ منور حسن نے الزام عائد کیا کہ اس قتل عام میں ایم کیو ایم ملوث ہے جسے فوجی حکومت کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ ان کے مطابق ’ایم کیو ایم نے پہلے کراچی میں سندھیوں، پٹھانوں اور پنجابیوں کا خون بہایا اور اب اپنے ناپاک عزائم کے لیے وہ ان مہاجرین کا خون بہا رہے ہیں جن کا وہ اب تک رونا روتے آئے ہیں۔ ‘ لاہور سے بی بی سی کے نمائندے عبادالحق کے مطابق پنجاب بھر کے وکلاء نے چیف جسٹس کو کراچی ہوائی اڈے میں محبوس رکھنے اور کراچی کے پرتشدد واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں پر 14 مئی کو ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر پنجاب بھر کی عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جائے گا اور وکلاء جلسے، جلوس اور ریلیاں نکالیں گے۔ یہ فیصلہ سنیچر کی شام پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین طارق جاوید وڑائچ کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں ملیر بار ایسوسی ایشن کے صدر ظہور الحق مہر کو زخمی کرنے، وکلاء کو ملیر بار ایسوسی ایشن کی عمارت میں داخل ہونے سے روکنے ، لیڈیز ونگ بار کو آگ لگانے اور کراچی میں دیگر پرتشدد واقعات اور ان کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں اور ایک نجی ٹی وی پر فائرنگ کے واقعات کو افسوس ناک قرار دیا گیا اور اس کی بھر پور مذمت کی گئی۔ لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری شمیم الرحمن ملک نے بتایا کہ لاہور کے وکلا کراچی کے واقعات پر 14مئی کو ایوان عدل سے پنجاب اسمبلی تک احتجاجی ریلی نکالیں گے جبکہ لاہور ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس بھی سوموار کو طلب کرلیا گیا ہے۔ پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی پاکستان کے چیف جسٹس افتخار چودھری کے کراچی کے دورے موقع پر ہونے والے ہنگاموں کی مذمت کرتے ہوئے پیر کو صوبہ سرحد میں مکمل طور پر پہیہ جام ہڑتال کرنے کا اعلان کیاہے۔ پشاور پریس کلب میں ایک ہنگامی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے چیئرمین لطیف آفریدی نے کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں کی ذمہ داری پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف، کور کمانڈر کراچی، وزیراعلی سندھ، گورنر سندھ اور ایم کیو ایم پر براہ راست عائد کی اور کہا کہ ان کے خلاف مقدمات قائم کیے جائیں گے۔ لطیف آفریدی نے الزام لگایا کہ ایم کیو ایم نے وکلاء کی ایک پرامن تحریک کو پرتشدد بنانے کی سازش کی ہے اور بقول ان کے جنرل پرویز مشرف نے اسے غنڈہ گردی اور ظلم کی مکمل چھوٹ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سرحد کے وکلاء تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کے ساتھ ملاقات کر کے انہیں پیر کو ہڑتال میں تعاون کی اپیل کریں گے۔ لطیف آفریدی نے نجی ٹی وی چینل’ آج ، پر ہونے والے حملے کی بھی مذمت کی اور الزام عائد کیا کہ مذکورہ چینل کو عوام تک حقائق پہنچانے کی وجہ سے حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے اعلان کردہ ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کراچی میں ہونے والے ہنگاموں کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ایم کیو ایم وزیراعظم شوکت عزیز کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے بیان کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے لاہور کے دورے کے موقع پر چھبیس گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے باوجود ایک بھی پتھرنہیں پھینکا گیا جبکہ بقول ان کے ایم کیو ایم نے ایک منظم سازش کے تحت کراچی میں چیف جسٹس کے اترنے کے ساتھ ہی ہنگاموں کا سلسلہ شروع کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ان کے پارٹی کے صوبائی صدر شاہی سید پر حملے میں ان کی پارٹی کا ایک کارکن جان بحق جبکہ صوبائی ایڈیشنل سیکریٹری بشیر خان زخمی ہوگئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||