BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 May, 2007, 02:55 GMT 07:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن میں بیٹھ کر کراچی پر حکومت

الطاف حسین
’پاکستان میں جان کاخطرہ ہے‘
لندن کی بورو بارنیٹ میں ایک دفتر ہے جہاں سے پاکستان کے شہر کراچی کےلاکھوں لوگوں کے لیے احکامات جاری ہوتے ہیں۔ متحدہ قومی مومنٹ کا ’انٹرنیشنل سکریٹیریٹ‘ لندن کے علاقے ایجویئر میں ہے۔ وہاں ایک عمارت کی پہلی منزل سے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کراچی کے لاکھوں شہریوں سے خطاب کرتے ہیں۔

الطاف حسین کا کہنا ہے کہ وہ لندن میں اس لیے رہتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر وہ پاکستان جائیں گے تو انہیں قتل کر دیا جائے۔

اس پارٹی میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے خاندان تقسیم کے وقت ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔

الطاف حسین ٹیلی فون کی کانفرنس لائن کے ذریعے اپنے حامیوں سے بات کرتے ہیں یہ لائن کراچی کے مختلف علاقوں میں لاؤڈ سپیکروں سے جڑی ہوتی ہے۔

ہزاروں لوگ کام کاج چھوڑ کر لندن سےان کا خطاب سنتے ہیں حالانکہ الطاف حسین 1992 سے پاکستان واپس نہیں گئے ہیں۔ان کی کچھ تقریریں چار گھنٹے سے بھی زیادہ طویل رہی ہیں۔

بارہ مئی کو کراچی میں ہونے والے تشدد کے واقعات کے بعد سے ایم کیو متنازعہ پارٹی بن گئی ہے کیونکہ حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ تشدد بھڑکانےمیں ایم کیو ایم کی قیادت کا ہاتھ ہے۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا الزام ہے کہ پارٹی نے اپنے حامیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو معطل کرنے کے صدر مشرف کے فیصلے کے دفاع کے لیے سڑکوں پر نکل پڑیں۔

ایم کیو ایم پاکستانی پارلیمان میں صدر مشرف کے حامیوں کی اتحادی ہے۔ حزبِ اختلاف کا الزام ہے کہ اتوار کو جب چیف جسٹس کراچی آئے تو ایم کیو ایم کے حامیوں نے انہیں ائر پورٹ سے نکلنے نہیں دیا۔

ایم انوار
ایم کیو ایم کے کوآرڈینیٹر ایم انوار کہتے ہیں کہ ان کی جماعت طالبانائیزیشن کے خلاف ہراول دستہ ہے

لندن میں مقیم پارٹی کے سینئیر رابطہ کار ایم انور کا کہنا تھا ’میں اس بات کی سختی سے تردید کرتا ہوں کہ ہمارے حامی کسی طرح کے تشدد میں ملوث تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ کراچی کی ہلاکتوں کے لیے ذمہ دار پی پی پی، عوامی نیشنل پارٹی اور اسلامی جماعتوں کا اتحاد ہے جو چیف جسٹس کے مسئلے کو سیاسی رنگ دینا چاہتے تھے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا الطاف حسین کھی واپس پاکستان جائیں گے انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز الطاف حسین کومسلسل خبردار کرتی رہتی ہیں کہ اگر وہ پاکستان گئے تو ان کی جان کو ملاؤں اور جہاد کے حامیوں سے خطرہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان کے وزیر اعظم اور صدر پر جان لیوا حملے ہو سکتے ہیں تو ’میرے خیال میں الطاف حسین کا پاکستان جانا ٹھیک نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد