BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 January, 2007, 16:04 GMT 21:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور میں ایم کیو ایم کا پہلا دفتر

الطاف حسین
ایم کیو ایم نے زلزلے کے بعد صوبہ سرحد کے متاثرہ علاقوں میں امدادی مہم چلائی تھی
اس برس متوقع عام انتخابات سے قبل متحدہ قومی موومنٹ اپنے آپ کو ملک کے دیگر صوبوں میں بھی منظم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ پنجاب کے بعد اب اس نے صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں بھی اپنا پہلا دفتر کھولا ہے۔

اس موقع پر لندن سے ٹیلیفون کے ذریعے ایک خطاب میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے صوبہ سرحد کے حقوق کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کو پختونخوا کا نام دیا جائے اور صوبے کو بجلی کے خالص منافع میں اس کا حصہ بھی فوراً دیا جائے۔

الطاف حسین نے سرحد کی حمایت میں اس بات کا بھی مطالبہ کر دیا کہ خوشحال خان خٹک، رحمان بابا اور باچا خان کے قومی دن بھی منائے جائیں۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن بند کرنے اور وہاں ایف سی آر کے قانون میں اصلاحات کا مطالبہ بھی دہرایا۔

پارٹی کے نئے دفتر کے افتتاح کے موقع پر ایم کیو ایم کے مرکزی کنوینر فاروق ستار، وفاقی وزیر سید صفوان اللہ، اراکین قومی اسمبلی حیدر عباس رضوی اور اقبال محمد علی کے علاوہ صوبائی کمیٹی کے نگران روشن خان اور زبیر انجم بھی موجود تھے۔

الطاف حسین نے الیکشن کمیشن سے انتخابات میں ’کتاب‘ کے نشان کے خاتمے کا مطالبہ کیا تاکہ بقول ان کے اس کو پختون ووٹروں کو قرآن قرار دے کر گمراہ نہ کیا جا سکے۔

متحدہ قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم نے لاہور میں گزشتہ برس تیرہ اگست کو پہلا جلسہ عام منعقد کر کے پنجاب کی سیاست میں باضابطہ قدم رکھا تھا۔ تاہم آج کی افتتاحی تقریب سے یہ واضع نہیں ہوسکا کہ وہ سرحد میں اس قسم کے جلسے کا کیا منصوبہ رکھتی ہے۔

ایم کیو ایم نے آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کے تباہ کن زلزلے کے بعد صوبہ سرحد کے بدترین متاثرہ علاقوں میں امدادی مہم چلائی تھی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس وقت مثبت ردِ عمل کی وجہ سے شاید اسے صوبہ سرحد میں منظم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہو۔

تاہم ایم کیوایم کی صدر جنرل پرویز مشرف سے اتحاد کے باعث کئی مبصرین اس کی سرگرمیوں کو شک کی نگاہ سے بھی دیکھ رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایم کیوایم کو ریاستی اداروں کی سرپرستی میں ملک کے دیگر حصوں میں پھیلایا جا رہا ہے تاکہ صدر کے لیئے حمایت میں اضافہ ہوسکے۔

اسی بارے میں
کراچی میں متحدہ کی فتح ریلی
17 November, 2006 | پاکستان
مسرت کی جماعت متحدہ میں ضم
08 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد