قیادت سے علیحدگی کا فیصلہ واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ قومی موومنٹ کے خود ساختہ جلا وطن رہنماء الطاف حسین نے قیادت سے دستبرداری کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ ایم کیو ایم کے لندن میں قائم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز کے مطابق الطاف حسین نے کارکنوں اور ذمہ داران کے اصرار پر تحریک کی قیادت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ الطاف حسین نے جمعہ کو یہ بیان دے کر سب کو چونکا دیا تھا کہ ان کی صحت اب انہیں تحریک کی مزید قیادت کرنے کی اجازت نہیں دیتی اور ساتھ ہی انہوں نے نام لیے بغیر ایم کیو ایم کے کچھ رہنماؤں کے سیاسی طرز عمل پر تنقید کی تھی۔ پریس ریلیز کے مطابق الطاف حسین کی طرف سے قیادت سے دستبرداری کا اعلان سن کر ایم کیو ایم کے رہنماء اور کارکن بڑی تعداد میں (کراچی کے علاقے عزیز آباد میں واقع) اپنے مرکزی دفتر ’نائن زیرو‘ پہنچ گئے۔ قیادت سے دستبرداری کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے الطاف حسین نے ’نائن زیرو‘ میں آئے ہوئے لوگوں سے خطاب کے دوران کہا کہ بعض ذمہ داران یہ بات بھول گئے ہیں کہ ان کو جو مقام ملا ہے وہ تحریک کی وجہ سے ہے اور ان کا طرز عمل نظریاتی کی بجائے جاگیردارانہ ہوتا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’ کارکنوں کو ہاری، مزارعہ یا غلام سمجھنا ان کی تعلیمات کے خلاف ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر ذمہ داران اپنے طرز عمل کو درست نہیں کرتے تو ان کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ یا تو وہ قیادت چھوڑ دیں یا پھر اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالتے ہوئے پاکستان آ جائیں۔ پریس ریلیز کے مطابق اس موقع پر ذمہ داران اور کارکنان جذباتی ہوگئے اور انہوں نے ایک آواز ہو کر کہا ’ہم اپنی اصلاح کرینگے، آپ کسی بھی قیمت پر واپس نہ آئیں، ہم آپ کی زندگی کا خطرہ مول نہیں لے سکتے‘۔ پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی اور تنظیمی کمیٹی کے تمام ارکان نے فرداً فرداً الطاف حسین سے بات کر کے اپنی غلطیوں کی معافی بھی مانگی۔ | اسی بارے میں قیادت کا بوجھ نہیں سنبھال سکتا05 January, 2007 | پاکستان ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا اجلاس05 January, 2007 | پاکستان مسرت کی جماعت متحدہ میں ضم08 December, 2006 | پاکستان حکمراں اتحادمیں شدید اختلاف06 December, 2006 | پاکستان بحران ٹلا ہے ختم نہیں ہوا 03 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||