ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا اجلاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے اپنے ایک بیان میں جماعت کی قیادت سے علیحدگی کا عندیہ دیا ہے جبکہ ان کی جماعت کا کہنا ہے کہ وہ بدستور تنظیم کے سربراہ ہیں۔ اپنے بیان میں الطاف حسین نے برہ راست مستعفی ہونے کا اعلان تو نہیں کیا مگر انہوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے ذمہ داران کی ایک بڑی تعداد تحریک کے اندازِ فکر و عمل کو تبدیل کر چکی ہے اور یہ لوگ اپنے آپ کو تنظیم کے نظم و ضبط اور ’قائد کی ہدایات‘ سے بری الذمہ سمجھنے لگے ہیں۔ الطاف حسین نے اپنے بیان میں تنظیم کے عہدیداروں اور کارکنوں میں موجود فرق پر بھی دکھ کا اظہار کیا ہے اور کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تحریک کے مشن کو جاری رکھیں۔ الطاف حسین کی جانب سے تنظیم سے علیحدہ ہونے کا عندیہ دینے کی اطلاع ملنے پر کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ایم کیو ایم کے تنظیمی ہیڈ کوارٹر نائن زیرو پہنچ گئی جہاں متحدہ کے اراکین اسمبلی اور وزراء بھی موجود تھے۔ اس غیر متوقع صورتحال کے بعد کارکن افسردہ نظر آرہے تھے۔ رات گئے متحدہ کے پالیسی ساز ادارے رابطہ کمیٹی کا اجلاس جاری تھا۔ اس اجلاس میں متحدہ کے سینئر رہنماؤں سمیت کراچی کے ٹاؤن ناظمین بھی موجود تھے، جو تنظیمی سربراہ کے عندیے پر غور فکر کر رہے تھے۔ ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ الطاف حسین کا یہ بیان پارٹی کارکنان اور عہدے داروں کے لیے ایک انتباہ ہے اور الطاف حسین سے اس کے متعلق جلد ہی صلاح و مشورہ کیا جائےگا کہ کار کنان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کو یا تو سبکدوش کر دیا جائے یا پھر معطل کیا جائے۔ | اسی بارے میں ایم کیو ایم کا پنجاب میں پہلا قدم16 August, 2006 | پاکستان ’متحدہ کے دفاتر، جرائم میں اضافہ‘05 October, 2006 | پاکستان کراچی میں متحدہ کی فتح ریلی17 November, 2006 | پاکستان حکمراں اتحادمیں شدید اختلاف06 December, 2006 | پاکستان بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||