ہڑتال، مظاہرے، گرفتاریاں، بائیکاٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں ہونے والے ہنگاموں میں اکتالیس افراد کی ہلاکت کے بعد اپوزیشن کی جانب سے پیر کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی ملک گیر کال پر کراچی سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں کاروبارِ زندگی معطل ہے۔ حکومتِ سندھ نے بھی صوبے میں تعطیل کا فیصلہ کر کے یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق شہر میں تمام کاروبار معطل اور سڑکیں ویران ہیں جبکہ پشتون آبادی والے علاقوں میں بڑی تعداد میں رینجرز تعینات کیے گئے ہیں۔ شہر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کی موجودگی دکھانے کے رینجرز نے شہر میں فلیگ مارچ بھی کیا ہے جس میں تیس کے قریب گاڑیوں اور 300 جوانوں نے حصہ لیا۔ رینجرز کے ترجمان کے مطابق شہر میں رینجرز کی 13 ہزار نفری تعینات کی گئی ہے اور مزید تین ہزار نفری کراچی کے باہر سے طلب کی گئی ہے جسے حساس مقامات پر تعینات کیا جائےگا۔
شہر کے حساس علاقوں کے داخلی اور خارجی مقامات پر کنٹینر کھڑے کر کے راستے بند کر دیے گئے ہیں تاکہ ممکنہ کشیدگی کو روکا جا سکے۔ ادھر سہراب گوٹھ کے علاقے میں نوجوانوں نے ٹولیوں کی صورت میں نکل کر گاڑیوں پر پتھراؤ کیا ہے جس کے بعد وہاں ٹریفک معطل ہوگیا۔لیاری، قائد آباد اور ملیر کے علاقوں میں بھی فائرنگ کی آواز سنی گئی ہے جبکہ لیاری کے علاقے پیر آباد میں دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اندرون سندھ سے بھی مکمل ہڑتال کی اطلاعات ہیں اور حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، دادو، نوابشاہ، میرپورخاص، عمرکوٹ سمیت بڑے چھوٹے شہر مکمل بند ہیں اور کئی مقامات پر جلوس نکالے جا رہے ہیں۔ لاہور میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق صوبہ پنجاب کے بیشتر شہروں میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کی اپیل پر ہڑتال کی گئی اور مختلف شہروں میں کراچی میں ہلاک ہونے والوں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اندرون لاہور اور دیگر بیشتر بڑی مارکیٹیں بند رہیں البتہ گلی محلوں اور شہر کے خوشحال علاقوں کی نوے فی صد دکانیں کھلی تھیں۔ جو مارکیٹیں دوپہر تک بند تھیں ان میں شاہ عالم، اکبری منڈی، لنڈابازار، انارکلی، برانڈرتھ روڈ، ہال روڈ، صرافہ بازار، بادامی باغ، نیلا گنبد اور بیڈن روڈ شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گوجرانوالہ میں اسّی فیصد دکانیں بند رہیں اور جی ٹی روڈ پر غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ فیصل آباد میں آٹھ بازاروں سمیت بیشتر مارکیٹیں بند رہیں جبکہ چوک گھنٹہ گھر میں صدر مشرف کا پتلا جلایا گیا۔ ملتان میں پچاس فیصد دکانیں بند رہیں جبکہ ایم ڈی اے چوک میں صدر مشرف کا ایک بڑا سائن بورڈ نذر آتش کیا گیا۔ بہاولپور میں بھی اندرون بازار جزوی طور پر بند رہے جبکہ سرکلر روڈ کی دکانیں بند رہیں۔ بہاولنگر میں دکانداروں نے ہڑتال میں شرکت نہیں کی البتہ سیاسی جماعتوں نے جلوس نکالا اور غائبانہ نماز جنازہ ادا کی ۔ لاہور سے بی بی سی کے عباد الحق کے مطابق وکلاء نے ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور کسی بھی مقدمے کی سماعت نہیں ہو سکی۔ مال روڈ پر کراچی میں انسانی جانوں کے ضیاع پر ایک بڑا احتجاجی جلوس بھی نکالا گیا ہے جس میں وکلاء اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن بہت بڑی تعداد میں شریک ہوئی۔ ریلی کے شرکاء نے چیئرنگ کراس پر ہلاک شدگان کی غائبانہ نمازِ جنازہ بھی ادا کی۔ کوئٹہ سے بی بی سی کے نمائندے عزیز اللہ خان کے مطابق کراچی میں پرتشدد واقعات کے حوالے سے متحدہ حزب اختلاف کی اپیل پر بلوچستان کے تمام اضلاع میں بھی کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہیں جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل کی اپیل پر صوبہ بھر میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔
بلوچ بار ایسوسی ایشن کے صدر صادق رئیسانی نے کہا ہے کہ کراچی میں پرتشدد واقعات کے خلاف ان کا احتجاج جاری رہے گا اور کوئٹہ میں وکلاء ضلع کچہری سے ریلی نکالیں گے اور احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔ پشاور سے بی بی سی کے رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق شہر کے اہم تجارتی مراکز صدر بازار، قصہ خوانی بازار، چوک یادگار، خیبر بازار اور اندرون شہر چھوٹے چھوٹے بازار مکمل طور پر بند رہے جبکہ یونیورسٹی روڈ جزوی طورپر بند رہا۔پشاور کے وکلاء نے بھی عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور ہائی کورٹ سے قصہ خوانی بازار تک جلوس نکالا ہے۔ جلوس کے شرکاء نے پشاور ہائیکورٹ سے چوک شہدا قصہ خوانی تک مارچ کیا جہاں انہوں نے سنیچر کے روز کراچی میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ بعد ازاں وکلاء نے سوئیکارنو چوک خیبر بازار پہنچ کر احتجاجی جلسہ منعقد کیا۔ متحدہ اپوزیشن کی جماعتوں نے بھی وکلاء کے ساتھ ایک مشترکہ جلسہ منعقد کیا جس میں عوامی نیشنل پارٹی، ایم ایم اے، پاکستان پیپلزپارٹی پارلمینٹرینز، تحریک انصاف اور پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
مظاہرین نے اس موقع پر گو مشرف گو کے نعرے لگائے جبکہ صدر جنرل پرویز مشرف اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف نعرہ بازی کی اور حکومت سے فوری طورپر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ یاد رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد اے آر ڈی نے ہڑتال کی کال کا فیصلہ اسلام آباد میں پیپلز پارٹی پارلمنٹیرین اور اے آر ڈی کے چیئرمین مخدوم امین فہیم کی سربراہی میں اتحاد کے ایک ہنگامی اجلاس میں میں کیا تھا جبکہ دینی جماعتوں کا اتحاد ایم ایم اے سنیچر کو ہی ہڑتال کی کال دے چکا تھا۔ گورنر سندھ نے کراچی میں امن کی بحالی کے لیئےعوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی سے رابطہ کیا ہے۔ اس سے قبل گورنر ہاؤس میں اتوار کی شب ہونے والے ایک اجلاس میں نقص امن کے لئے خطرہ بننے والے سیاسی رہنماؤں کو صوبہ بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔صوبہ سندھ میں جلسے، جلوسوں اور مظاہروں پر ایک ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ محکمۂ داخلہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی جگہ میٹنگ کرنے اور اسلحہ لے کر چلنے کی بھی کسی کو اجازت نہیں ہوگی۔ سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی ہڑتال سے انتظامی اور سیاسی طور پر نمٹا جائے گا۔ ’ ہم شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے اس کے لیے جن اقدامات کی ضرورت پڑی گی اٹھائے جائیں گے‘۔ |
اسی بارے میں کراچی: خون سے اخبارات رنگے رہے13 May, 2007 | پاکستان ’لاڈلوں نے کراچی سے انتقام لیا‘13 May, 2007 | پاکستان متحدہ کےخلاف ملک گیرمظاہرے13 May, 2007 | پاکستان مزید ہلاکتیں، رینجرز تعینات13 May, 2007 | پاکستان صدر کے جلسے کی تیاریاں مکمل12 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||