BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 May, 2007, 00:30 GMT 05:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم کیو ایم اور جرنیلوں کے قصیدے

ایم کیو ایم
آخر کیا وجہ ہے کہ ایم کیو ایم ان دنوں فوج کی تعریف کرتے نہیں تھکتی؟
پاکستانی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں جمعرات کو ویسے تو حکومتی بینچوں پر بیٹھے اراکین کی حزب مخالف کے ساتھی اراکین اسمبلی کے ساتھ نوک جھونک چلتی رہی لیکن اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب متحدہ قومی موومنٹ کے رکن اسرار العباد نے فوجی جرنیلوں کی تعریف کے پل باندھے۔

موصوف نے کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ فوجی جرنیل جمہوریت لائے ہیں جبکہ سیاستدانوں نے عدم استحکام پیدا کیا۔ ان کے بقول پاکستان میں کبھی سیاستدان پیدا ہی نہیں ہوئے بلکہ سیاسی مولوی پیدا ہوتے رہے ہیں۔

اس دوران حزب مخالف کے اراکین نے ان پر ہوٹنگ کرتے ہوئے مذاق اڑانا شروع کیا لیکن اسرار العباد نے اس کی پرواہ کیے بنا اپنی تقریر جاری رکھی اور کہا کہ پاکستان میں سیاستدانوں کے کردار کی وجہ سے پڑوسی ملک کے وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستان میں جتنی جلدی وزیراعظم تبدیل ہوتے ہیں اتنی دیر میں وہ پاجامے بھی تبدیل نہیں کرتے۔

الطاف کا احسان
 پاکستان اگر آج تک سلامت ہے تو وہ ایم کیو ایم کے خود ساختہ جلاوطن رہنما الطاف حسین کی وجہ سے ہے
اسرار العباد

متحدہ مجلس عمل کے ایک رکن فرید پراچہ کے اس الزام پر کہ یہ جماعت (متحدہ قومی موومنٹ) جو بوری بند لاشیں دیتی رہی اور طالبعلموں کو اغوا کرکے ان کے سروں میں ڈرل کرتی رہی اب صدر مشرف کی آلہ کار بنی ہوئی ہے، اسرار العباد نے حزب مخالف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب انہیں مشرقی پاکستان میں انیس سو ستر میں بدترین شکست ہوئی تو انہوں نے وہاں محب وطن بنگالیوں کو غدار قرار دے کر الشمس اور البدر بنوائی اور قتل عام کیا۔

انہوں نے مذہبی جماعتوں پر جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اگر آج تک سلامت ہے تو وہ ان کی جماعت کے خود ساختہ جلاوطن رہنما الطاف حسین کی وجہ سے ہے۔ جس پر ایوان میں خاصا شور پڑ گیا اور کچھ اراکین نے شیم شیم کی آوازیں بھی دیں۔

اسرار العباد نے گزشتہ روز کہا تھا کہ بھارت سے پاکستان کی جمہوریت اچھی ہے کیونکہ پاکستان میں تمام طبقوں کو نمائندگی حاصل ہے اور بھارت کی جمہوریت میں تو فوج بھی شامل نہیں۔

پریس گیلری میں بیٹھے کچھ صحافیوں میں بحث چھڑ گئی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ایم کیو ایم ان دنوں فوج کی تعریف کرتے نہیں تھکتی۔ کسی نے کہا اب تو صدر جنرل پرویز مشرف کے ایم کیو ایم سے پرانے تعلقات کے بارے میں بینظیر بھٹو نے اپنی نطر ثانی شدہ سوانح حیات میں جو لکھا ہے وہ سچ لگتا ہے۔

وضاحت پر بتایا گیا کہ بینظیر بھٹو نے لکھا ہے کہ جب وہ وزیر اعظم تھیں تو جنرل پرویز مشرف کی ترقی کا معاملہ ان کے سامنے لایا گیا اور انہوں نے ان کے ایم کیو ایم کے ساتھ تعلقات کے شبہہ میں ترقی روک دی تھی۔

ایک صحافی نے کہا کہ کل تک فوجی جرنیلوں کو گالیاں دینے والی ایم کیو ایم کی سوچ میں تبدیلی کا کریڈٹ بھی صدر جنرل پرویز مشرف کو جاتا ہے۔

شاید تب ہی جمعرات کو قومی اسمبلی میں بحث کے دوران پیپلز پارٹی کے منظور وسان نے کہا تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف ایم کیو ایم کے سربراہ بننا چاہتے ہیں۔

ایم کیو ایم کراچی ریلی ایم کیو ایم ریلی
’ڈنڈہ و کلاشنکوف بردار شریعت‘ نا منظور
ایم کیو ایممتحدہ اور مسرت
مسرت شاہین کی جماعت متحدہ میں ضم
ایم کیو ایمپنجاب کی سیاست
ایم کیو ایم کا پنجاب میں پہلا قدم
بحران ختم نہیں ہوا
سندھ کا سیاسی بحران ٹلا ہے، ختم نہیں ہوا
تجزیہ: ایم کیو ایم
ایم کیو ایم کیا چاہتی تھی؟
ڈیرہ بگٹی ماضی، حال، مستقبل
برہمداغ اور آغا شاہد کو کون کون سی وزارتیں
’ سیٹ ایڈجسٹمنٹ‘
کراچی:حکومت، اپوزیشن کی سیاسی مفاہمت
اسی بارے میں
حکمراں اتحادمیں شدید اختلاف
06 December, 2006 | پاکستان
کراچی میں متحدہ کی فتح ریلی
17 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد