الطاف کے خلاف مقدمے کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں متحدہ حزب اختلاف نے ایک جلسہ عام میں کراچی میں بارہ مئی کو تشدد کے واقعات کے حوالے سے صدرگونر اور وزیر اعلی سندھ کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف قتل اور اقدام قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ منگل کے روز میزان چوک پر اتحاد برائے بحالئی جمہوریت اور اپنے آپ کو محکوم اقوام کہلوانے والی جماعتوں کے اتحاد پونم کے قائدین نے ایک بڑے احتجاجی جلسے سے خطاب کیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے حکومت کے خلاف اور متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف شدید نعرہ بازی کی ہے۔ اس جلسہ عام میں منظور کی گئی قرار دادوں میں ایک قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کراچی میں بارہ مئی کو تشدد کے واقعہ پر صدر پرویز مشرف، گونر، وزیراعلی سندھ اور متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف قتل اور اقدام قتل کا مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔ عوامی نینشل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عنایت اللہ نے کہا ہے کہ اس وقت تمام سیاسی اور جمہوری جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صوبائی جنرل سیکرٹری بسم اللہ کاکڑ نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر سخت تنقید کی ہے۔ نیشنل پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر اسحاق نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔ اس جلسہ عام سے پختونخواہ ملی عوامی پارٹی بلوچستان نیشنل پارٹی پاکستان مسلم لیگ نواز جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے قایدین نے بھی خطاب کیا ہے۔ | اسی بارے میں چیف جسٹس کی واپسی، ہنگاموں میں 34 ہلاک12 May, 2007 | پاکستان ’لاڈلوں نے کراچی سے انتقام لیا‘13 May, 2007 | پاکستان معطلی کا معاملہ، پونم کی ہڑتال11 March, 2007 | پاکستان ’خودمختاری کانفرنس دِکھاوا ہے‘06 March, 2007 | پاکستان بلوچستان پر سیمینار میں گلے شکوے27 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||