جلسے جلوسوں پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کو ہنگاموں، فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں چھ افراد کی ہلاکت کے بعد صوبائی حکومت نے شہر میں رینجرز کی نفری میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ پورے صوبے میں جلسوں کے انعقاد اور جلوسوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ گورنر ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں امن و امان کی صورتِ حال قابو میں رکھنے کے لیے نقصِ امن پیدا کرنے والے سیاسی رہنماؤں کو صوبہ بدر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ جلسے اور جلوسوں پر پابندی ایک مہینے تک عائد رہے گی اور محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی جگہ میٹنگ کرنے اور اسلحہ لیکر چلنے کی کسی کو اجازت نہیں ہوگی۔ ادھر خبررساں ادارے رائٹرز نے وفاقی سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ کے حوالے سے کہا ہے کہ حکومت نے رینجرز کو شرپسند عناصر پر فائرنگ کرنے کا اختیار دے دیا ہے جبکہ گورنر سندھ عشرت العباد نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے۔ گورنر ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک اعلان میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں امن امان اور روادری کے لئے تمام سیاسی قوتوں سے مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اتوار کو تشدد کے زیادہ تر واقعات پشتون آبادی والے علاقوں میں ہوئے۔ پولیس کو قائد آباد کے علاقے سے سیف الرحمنٰ نامی شخص کی لاش ملی ہے، جسے سر میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ شہر کے علاقے واٹر پمپ میں نامعلوم افراد نے متعدد دکانوں کو آگ لگا دی ہے۔ تمام متاثرہ دکانوں کے مالکان پشتون بتائے جاتے ہیں۔ ایم کیو ایم اور پولیس ایمرجنسی سینٹر پر حملے ہوئے ہیں بنارس چوک اور قصبہ کالونی میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں محمد علی نامی شخص ہلاک ہوا ہے جبکہ نیول کالونی ابراہیم حیدری سے ایک شخص کی لاش ملی ہے، جس کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی۔
سہراب گوٹھ کے پشتون آبادی والے علاقے سے پینٹ شرٹ پہن کر گزرنے والے ہر شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا جبکہ بعض مسلح افراد نے رکاوٹیں کھڑی کر کے سپر ہائی وے کو بلاک کیے رکھا۔ اس تمام ہنگامہ آرائی کے باوجود شہر کی سڑکوں پر پولیس کی موجودگی بہت کم تھی۔ شہر میں سنیچر سے پھوٹنے والے پُرتشدد ہنگاموں میں اب تک چالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ شہر کے دوسرے داخلی راستے قائد آباد پر بھی ہنگامہ آرائی ہوئی، جہاں نامعلوم افراد نے دو موٹر سائیکل جلائیں جبکہ علاقے سے فائرنگ کی آوازیں بھی آتی رہیں۔ اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام کے تحت صدارتی ریفرنس کا سامنا کرنے والے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی گولڈن جوبلی تقریبات میں شریک ہونے کے لیے بارہ مئی کو کراچی آئے تھے، لیکن انہیں کئی گھنٹے ایئر پورٹ پر مبینہ طور محصور رہنے کے بعد اسلام آباد واپس لوٹنا پڑا تھا۔ ان کی آمد کے موقع پر وکلاء تنظیموں اور حزب مخالف کے جماعتوں نے ان کی حمایت جبکہ صدر مشرف کی حلیف جماعت ایم کیو ایم نے ’عدلیہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے‘ کے خلاف ریلیاں نکالیں۔ اس کشیدہ ماحول میں متحارب سیاسی گروہوں کے درمیان ہونے والے تصادم کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوئے تھے۔ اتوار کو جماعت اسلامی نے ہلاک ہونے والے اپنے دو کارکنوں کی نماز جنازہ مزار قائد کے نزدیک ادا کی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے منور حسن سمیت کئی رہنماؤں نے اپنے خطاب میں الیکشن کمیشن آف پاکستان سے ایم کیو ایم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء شاہی سید کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی جماعت کے ہلاک ہونے والے کارکنوں کی نمازہ جناز ان کے متعلقہ علاقوں میں ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔ ’لیکن کارکنان اگر اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو حالات ان کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ سہراب گوٹھ اور لانڈھی میں کشیدگی ہے اور جب وہاں سے جنازے اٹھیں گے تو لوگ مشتعل ہوں گے۔ اتوار کو شہر میں تمام بازار بند رہے اور سڑکیں ٹرانسپورٹ سے خالی رہیں جبکہ بیشتر پٹرول پمپ دوسرے دن بھی بند تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||