BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سہراب گوٹھ سے ہنگاموں کا آغاز

شہر میں کئی جنازے اٹھائے گئے اور دن بھر کشیدگی کا دور دورہ رہا
اتوار کو صبح سے ہی پشتون آبادی والے علاقے سہراب گوٹھ میں ہنگامہ آرائی کی ابتدا ہوچکی تھی۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں کراچی کی پوری پولیس اور رینجرز بے بسی کا اظہار کرچکے ہیں۔

اس علاقے کے اطراف سے لڑکے نکلتے ہیں اور پتھراؤ کر کےگلیوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ پولیس ان تنگ گلیوں میں جانے کی کبھی ہمت نہیں کرتی۔

شہر کی تمام سڑکیں جہاں روزانہ زندگی دوڑتی ہے، ان پر ویرانی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ گرو مندر کے علاقے میں واقع ’آج‘ ٹی وی کے دفتر کے باہر جلی ہوئی ایک گاڑی کا ڈھانچہ پڑا ہوا تھا جس سے واضح تھا کہ چینل کی انتظامیہ کو کس قدر تک دہشت زدہ کیا گیا ہے۔

لسبیلہ چوک کی طرف جانے والے راستے پر بڑے بڑے پتھر پھینک کر اسے بلاک کیا گیا اور کچھ نوجوانوں نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کرکٹ کھیلنا شروع کردی تھی۔

پولیس اہلکار کی تجویز
ایک پولیس اہلکار نے ہمیں روک لیا اور تجویز دی کہ آپ لوگوں پینٹ شرٹ پہنے ہوئے ہیں اس لیے آگے نہ جائیں۔ ہم نے اس اہلکار سے معلوم کیا کہ اس سے کیا فرق پڑتا تو اس نے بتایا کہ پینٹ شرٹ پہنے ہوئے جو بھی شخص جاتا ہے، پشتو بولنے والے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

اس رستے پر ایک نذر آتش ہونے والی بس میں سے کچھ بچے اور کچھ بڑے لوہا نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں نے جیسے کیمرہ کا رخ ان کی طرف کیا تو ایک نوجوان نے سب سے کہا کہ منہ چھپا لو ورنہ پولیس تمہیں گرفتار کرلے گی۔

ایم اے جناح روڈ پر جماعت اسلامی کے دو کارکنوں کی جنازہ نماز ادا کی گئی۔ اس دوران جب رینجرز کا ایک ہیلی کاپٹر گشت کرتے ہوئے نظر آیا تو لوگوں نے زمین سے پتھر اٹھا کر اوپر کی طرف دکھائے۔ اس کے بعد اس ہیلی کاپٹر نےاس طرف کا رخ نہیں کیا۔

واٹر پمپ سے جیسے ہی سہراب گوٹھ کے پل کے لیے روانہ ہوئے تو ایک پولیس اہلکار نے چند گز کے فاصلے پر روک لیا اور تجویز دی کہ آپ لوگوں پینٹ شرٹ پہنے ہوئے ہیں اس لئے آگے نہ جائیں۔ ہم نے اس اہلکار سے معلوم کیا کہ اس سے کیا فرق پڑتا تو اس نے بتایا کہ پینٹ شرٹ پہنے ہوئے جو بھی شخص جاتا ہے، پشتو بولنے والے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

شاہراہ فیصل ایسے صاف کی گئی تھی جیسے گزشتہ روز یہاں کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔

کراچی شہر میں ویسے ہر کوئی دور سے سے لاتعلق رہا ہوا نظر آتا ہے مگر حالات خراب ہونے کے بعد ہر شخص دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کردیتا ہے۔

نشتر پارک بم دھماکے کے بعد سات دن شہر بند رہا مگر جب آٹھویں دن شہر کھلا تو سب کچھ معمول پر آگیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔

اسی بارے میں
کراچی میں ہائی الرٹ
26 January, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد