BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوج ہماری زمین پر قبضہ کر رہی ہے‘

ہم ایک سو سال سے زائد عرصہ سے یہ زمین کاشت کر رہے ہیں: مزارعین
لاہور میں ملٹری فارم کے مزارعین نے کہا ہے کہ فوج ان کی زمین پر قبضہ کےلئے مختلف حربے استعمال کر رہی ہے اور انہیں طرح طرح سے حراسان کیا جا رہا ہے۔

اتوار کو انجمن مزارعین کے زیر اہتمام ملٹری فارم سے ملحقہ ایک دیہات جیندرہ پنڈ میں منعقد کیے جانے والے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مزارعین کے نمائندوں نے کہا کہ انہوں نے زمین پر فوج کے مبینہ قبضہ کے خلاف جدوجہد شروع کر دی ہے۔

جلسہ میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ مزارعین کسی بھی صورت میں زمین کا قبضہ کسی بھی ادارے کو نہیں دیں گے ’چاہے وہ فوج ہی کیوں نہ ہو۔‘

اس سے قبل اوکاڑہ ملٹری فارم کے مزارعین نے بھی وہاں سے بے دخل کیے جانے کے خلاف ایک طویل تحریک چلائی تھی۔ دو ہزار ایک شروع ہونے والی یہ تحریک دو ہزار پانچ تک جاری رہی تھی جس میں رینجرز کے ہاتھوں مبینہ طور پر مزارعین کی ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔ مزارعین کی تحریک کے زور پکڑنے کے بعد حکومت نے رینجرز کو دو ہزار پانچ میں مزید کارروائیوں سے روک لیا تھا اور تقریباً پانچ ماہ قبل وہاں سے رینجرز کو بھی واپس بلا لیا گیا۔

انجمن مزارعین لاہور کے اس جلسہ میں علاقے کے دیہاتوں کے مزارعین نے خطاب کیا اور کہا کہ وہ ایک سو سال سے زائد عرصہ سے یہ زمین کاشت کر رہے ہیں اور اب کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ انہیں بے دخل کرے۔

ہم صرف اپنے حق کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں: محمد اشرف

انجمن مزارعین کے صدر محمد اشرف نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں ہم صرف اپنے حق کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔’ جلسہ میں شرکاء کی تعداد اتنی زیادہ نہیں جتنی سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں ہوتی ہے لیکن یہاں جو بھی بیٹھے ہیں سب کے سب میزائل ہیں جب یہ چلیں گے تو دشمن کو کہیں چھپنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ فارم اور ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی والوں کی باتیں سن سن کر ہم تحریک چلانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ’وہ کبھی ڈی ایچ اے کے لئے ہماری زمینوں سے بڑی سڑک نکالنے کی باتیں کرتے ہیں اور کبھی ہمارے گاؤں مسمار کر کے ڈی ایچ اے کی توسیع کی باتیں کی جاتیں ہیں۔

محمد اشرف نے کہا: ’ہمیں فوج کی نیت کا پتہ ہے۔ ہم نے اگر ان کو راستہ بنانے کے لئے اپنی زمین دی تو وہ تمام مزارعین کو بے دخل کر کے 13 ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ کر لی گی۔‘

انجمن مزارعین کے صدر نے مزارعین کو متحد ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے انہیں سیدھی سادی پنجابی زبان میں کئی مثالیں بھی سنائیں اور کہا کہ اگر وہ متحد رہے تو پھر زمین اور گاؤں بھی ان کے ہی رہیں گے۔ ان کے بقول ’اگر ہم لالچ یا دھمکیوں میں آ گئے تو فوج ہمیں ایک ایک کر کے مار دی دے گی اور ہمیں تدفین کیلئے زمین کا دو گز ٹکڑا بھی نصیب نہیں ہوگا۔‘

لیز کی معیاد 2005ء میں ختم ہو چکی ہے: حاجی محمد حنیف

جلسہ میں دھوتی پہنے ایک مزارعہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا: ’ہمیں پتہ ہے کہ فوج کے ارادے کیا ہیں۔ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے لیکن یہ یہاں سکیمیں بناتے ہیں، بنگلے بناتے ہیں اور سڑکوں کے ٹھیکے لیتے ہیں۔‘

ان کے بقول فوجی ہر قیمتی زمین پر قابض ہو جاتے ہیں اور اب ان کی نظر ان کی زمینوں پر لگی ہوئی ہے۔

لاہور ملٹری فارم شمالی چھاؤنی کے ساتھ برکی روڈ پر واقع ہے اور یہ سات قدیم دیہاتوں پر مشتمل ہے جن میں جیندرہ پنڈ، بھگوان پورہ،. چک بُرج، چک پدری، چک دھوروالہ،. چک رکھٹیڑہ اور چک حبیب اللہ شامل ہیں۔

انجمن مزارعین کے چیئرمن حاجی محمد حنیف کے مطابق پنجاب حکومت کی ملکیت 13 ہزار ایکڑ زمین فوج نے 99 سال کی لیز پر لی تھی جس کی معیاد 2005ء میں ختم ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود فوج فارم کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج نے جیندرہ پنڈ کے قریب کی دس سے پندرہ مربع زمین پر پہلے ہی قبضہ کر کے اسے لاہور چھاؤنی میں شامل کر لیا ہے اور اب مزید زمین پر قبضے کے لئے ملٹری فارم کے ساتھ مل کر مختلف سکیمیں بنائی جا رہی ہیں لیکن ان کی اصل سکیم ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کی توسیع ہے۔

حاجی محمد حنیف کے مطابق ڈی ایچ اے فیز پانچ، چھ اور سات کی توسیع میں پنڈ جیندرہ رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔ فیز پانچ اس گاؤں کے مغرب میں فیز چھ گاؤں کے مشرق میں جبکہ فیز سات اس گاؤں کے جنوب میں آتے ہیں۔ ڈی ایچ اے والے جیندرہ پنڈ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جسکے بعد باقی چھ دیہاتوں کے مزارعین کو بے دخل کرنے میں ان کو آسانی ہو جائے گی۔

چیئرمین کا کہنا تھا: ’ ہم ریونیو بورڈ پنجاب سے لے کر سپریم کورٹ تک فوج کے مقابلے میں کیس جیتتے آئے ہیں اور پنجاب حکومت بھی ہمیں مزارعہ تسلیم کر چکی ہے لیکن اس کے باوجود فوج ہمیں تنگ کر رہی ہے۔ روینیو بورڈ نے تو انیس سو چھیانوے میں ہمیں یقین دلایا تھا کہ فوج کی لیز ختم ہونے کے بعد ہمیں مالکانہ حقوق دیئے جائیں گے لیکن اب فوجی حکومت کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوا حالانکہ فوج کی لیز ختم ہوئے بھی دو سال ہو چکے ہیں۔‘

خاتونسیاسی مصلحت
عورتوں کے حقوق میں رکاوٹ، ملا ملٹری اتحاد
صحافی کی گرفتاری صحافی کی گرفتاری
’میرے بابا کو رینجرز اور پولیس نے بہت مارا‘
اوکاڑہاوکاڑہ میں زیادتی
’ہیومن رائٹس واچ‘ کی فوج پر سخت تنقید
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد