’مزاروں پر بھی فوج کا قبضہ ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب اسمبلی میں ایک رکن اسمبلی نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبہ میں شہروں میں موجود بزرگان دین کےمزار اور ان کی زمینیں فوج نے اپنی زیر نگرانی لیے ہوئے ہیں جنھیں فوج سے لے کر باقی مزاروں کی طرح محکمہ اوقاف کو دیا جائے۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن اسمبلی صغیرہ اسلام نے آج صوبائی اسمبلی میں ایک ضمنی سوال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج سمیت بعض دیگر افراد ایسی زمینوں پر قابض ہیں جن پر اولیا اللہ کے مزار ہیں اور فوری طور پر یہ زمینیں فوج سے لے کر محکمہ اقاف کے حوالے کی جائیں تاکہ زائرین درباروں پر جا کر اپنی عقیدت کااظہار آزادانہ طور پر کرسکیں۔ صغیرہ اسلام نے ایک سوال میں پوچھا تھا کہ ملتان شہر میں اولیا اللہ کے مزاروں کے نام بتائے جائیں۔ اس کے ضمنی سوال پر انھوں نے نکتہ اٹھایا کہ ملتان شہر میں بابا غریب شاہ کا مزار فوج کی تحویل میں ہے۔ اس پر صوبائی وزیر اوقاف صاحبزادہ سعیدالحسن شاہ نے کہا کہ وہ مزار کنٹونمینٹ علاقہ میں ہے اس لیے فوج کے پاس ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نے کہا کہ یہ مزار کینٹ کے علاقے میں نہیں ہے۔ صوبائی وزیر نے ایوان کو یقین دلایا کہ درباروں کی زمینیں ناجائز قابضین سے واگزار کرائی جائیں گی اور ان کے انتظام کے لیے کمیٹیاں بنائی جائیں گی جن میں ارکان اسمبلی کو بھی شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ تمام درباروں کی آمدن کو ایک جگہ جمع کیا جاتا ہے اور اوقاف بورڈ فیصلہ کرتا ہے کہ کس دربار کی کیا مالی ضرورت ہے۔ ایوان کو یہ بھی بتایا گیا کہ پیر شعلہ شہید کا دربار اوقاف نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا لیکن یہ ابھی تک فوج کے زیر انتظام ہے۔ صوبائی وزیر نے ایوان کوبتایا کہ دربار پیرگوہر شاہ پر کسی قسم کی تجاوازات نہیں کی گئی اور نہ اسے محکمہ کے کسی ملازم کو لیز پر دیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||