’گوادر پورٹ پر نوجوانوں کا قبضہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں درجنوں بے روزگار نوجوانوں نے گوادر پورٹ اتھارٹی کے دفتر پر قبضہ کر لیا جبکہ اس کے ڈائریکٹر جنرل کوچندگھنٹوں تک یرغمال بنانے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ گوادر میں بے روزگار نوجوانوں کے ایک نمائندے قاسم عزیز نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ انہوں نے یہ قدم اس لیے اٹھایا ہے کہ وفاقی وزیر بابر غوری نےگوادر پورٹ میں چالیس غیر مقامی افراد کو تعینات کیا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ گوادر کے تقریباً ایک سو پندرہ مقامی نوجوانوں کو حکومت نے ستمبر دو ہزار چار میں اسلام آباد اور کراچی میں ٹیکنکل تربیت دی تھی لیکن تاحال ان کو نوکریاں نہیں ملی ہیں۔ قاسم عزیز کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے چالیس غیر مقامی افراد کی تعیناتی کے خلاف پیر کے شام کو گوادر پورٹ کے دفتر پر قبضہ کرلیا گیا اور انہوں نے ڈائریکٹر جنرل مظفر علی شاہ کو چند گھنٹوں تک یرغمال بنانے کے بعد چھوڑ دیا۔
قاسم عزیز کا کہنا تھا کہ وہ منگل کوقوم پرست جماعتوں کی حمایت سے تحصیل ناظم کے دفتر سے گوادر پورٹ تک ایک احتجاجی ریلی نکالیں گے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر بابر غوری اور مقامی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی بارہا کوشش کی گئی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئیں۔ مقامی بے روزگار نوجوانوں نے یہ قدم ایسے وقت اٹھایا ہے جب پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف منگل کو تجارتی مقاصد کے لیےگوادر پورٹ کا افتتاح کررہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم اور وفاقی وزراء گوادر پہنچ چکے ہیں۔ بلوچستان میں قوم پرست پہلے ہی سے سراپا احتجاج ہیں کہ گوادر پورٹ کے ذریعے مقامی لوگوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جارہا ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ منصوبے کی تکمیل سے بلوچستان میں بے روزگاری میں کمی آئے گی اور علاقے میں معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی۔ | اسی بارے میں گوادر پورٹ کی تکمیل، جلد افتتاح 03 February, 2007 | پاکستان گوادر پورٹ سنگاپور کے حوالے06 February, 2007 | پاکستان گوادر: بندرگاہ تیار، سہولتیں ندارد23 February, 2007 | پاکستان جمہوریت کے لیے مشترکہ جدوجہد16 March, 2007 | پاکستان بلوچستان میں فوج کے خلاف قرار داد19 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||