BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 February, 2007, 14:29 GMT 19:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوادر پورٹ سنگاپور کے حوالے

معاہدے کے تحت سنگاپور کی کمپنی چالیس سال تک گوادر پورٹ کاانتظام سنبھالے گی
گوادر بندرگاہ کو سنگاپور پورٹ اتھارٹی کے حوالے کرنے کے لئے پاکستان اور سنگاپور پورٹ اتھارٹی نے معاہدے پر دستخط کردیے۔ گوادر میں منگل کے روز ہونے والے معاہدے پر سنگاپور پورٹ کے چیف ايگزيکٹیو آفیسر اے ڈی ٹے اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین کموڈور منیر واحد نے دستخط کیے۔

اس معاہدے کے تحت سنگاپور کی کمپنی چالیس سال تک گوادر پورٹ کاانتظام سنبھالے گی۔ معاہدے کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ٹیکسوں کی مد میں بیس سال کے لئے چھوٹ دی گئی ہے۔ جبکہ کارپوریٹیو ٹیکس میں چالیس سال کی چھوٹ دی گئی ہے۔

معاہدے کی تقریب سے وزیراعظم شوکت عزیز نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ سنگاپور پورٹ اتھارٹی گوادر بندرگاہ کو جدید طریقے سے چلائے گی۔ جو دنیا میں بہتری نظرآرہی ہے وہ گوادر پورٹ پر بھی دکھائی دے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’گوادر بندرگاہ منفرد محل وقوع پر ہے۔ یہاں سے وسطی ایشیا، خلیجی ممالک اور افغانستان سامان لانے لے جانے میں آسانی پیدا ہوگی۔‘ انہوں نے کہا کہ سنگاپور پورٹ اتھارٹی کا پہلا کام بڑے بحری جہازوں کو یہاں لانا اور سرمایہ کاری کرنا ہے۔

وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا کہ اس سے پہلے کراچی میں بڑے بحری جہازوں کو لانے کی سہولت موجود نہیں تھی اور بڑے جہاز کولمبو۔ سلالہ اور دبئی جاتے تھے جس سے وقت زیادہ لگتا اور خرچہ زیادہ آتا تھا لیکن گوادر بندرگاہ کے بعد دونوں میں کمی ہوگی۔

صوبے سے مشورہ نہیں
وزیراعلی بلوچستان جام یوسف نے کہا کہ گوادر بندرگاہ سے ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی جس سے صوبائی حکومت کو چار تا پانچ بلین روپے سالانہ رائلٹی کی مد میں ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ کے لئے صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لینے کی ضرورت نہیں ہے۔گوادر پورٹ ایک نجی کمپنی کو عارضی طور پر چلانے کے لئے دیا جارہا ہے ہمیشہ کے لئے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’گوادر کا جو خواب تھا وہ پورا ہورہا ہے، ترقی و خوشحالی کا انقلاب آرہا ہے، بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونگے۔ ضرورت پڑی تو لوگوں کو فنی تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔‘

اس موقع پر وزیراعلی بلوچستان جام یوسف نے کہا کہ گوادر بندرگاہ سے ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی جس سے صوبائی حکومت کو چار تا پانچ بلین روپے سالانہ رائلٹی کی مد میں ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ کے لئے صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لینے کی ضرورت نہیں ہے۔گوادر پورٹ ایک نجی کمپنی کو عارضی طور پر چلانے کے لئے دیا جارہا ہے ہمیشہ کے لئے نہیں۔

بلوچستان میں قوم پرست جماعتیں گوادر میگا پراجیکٹ کی مخالفت کر رہی ہیں۔ نیشنل پارٹی کے لیڈر حاصل بزنجو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گوادر کے منصوبے کے حوالے سے انہیں خدشات لاحق ہیں اور اس کا اظہار انہوں نے ہر وقت کیا ہے۔

سنگاپور پورٹ اتھارٹی کو اس کا انتظام دینے کے حوالے سے حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے وہ اس کی ضمانت نہیں دے سکتے کہ مستقبل میں اگر حکومت تبدیل ہوتی ہے تو موجودہ فیصلوں پر اسی طرح عملدرآمد ہوگا۔

یاد رہے سابق کور کمانڈر اور سابق گورنر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے دور میں وفاقی حکومت گوادر کو اسلام آباد کے زیرانتظام ایک سیکٹر کے طور پر لینا چاہتی تھی لیکن انہوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔

قوم پرست جماعتوں کے مطابق وفاقی حکومت براہ راست بلوچستان کے معاملات میں مداخلت کر رہی ہے۔ حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ گوادر کے حوالے سے بلوچستان اسمبلی اور سینیٹ میں بحث کرکے متفقہ فیصلہ کیا جانا چاہیے۔

گوادر میں گہرے پانی کی بندرگاہ چین کی مدد سے قائم کی جارہی ہے اور اس کے پہلے مرحلے کے لیے اگست دو ہزار ایک میں جو معاہدہ طے ہوا تھا اس کے تحت اس منصوبے پر دو سو اڑتالیس ملین امریکی ڈالر خرچ ہوگا جس کے لیے چین ایک سو اٹھانوے ملین ڈالر اور حکومت پاکستان پچاس ملین ڈالر دے گا۔

وزیر اعظم نے پہلے کہا تھا کہ گوادر بندرگاہ کے پہلے مرحلے کا افتتاح جنوری میں ہوگا لیکن اب اسے مارچ تک ملتوی کر دیا گیا ہے جس کی کوئی واضح وجوہات نہیں بتائی گئی ہیں۔

گوادر بلوچ کہانی ، 9
گوادر، ترقی یا کالونائزیشن ( دوسرا حصہ)
گوادربلوچ کہانی، 8
گوادر۔ ترقی یا کالونائزیشن (پہلا حصہ)
بلوچ کہانی 9بلوچ کہانی 9
گوادر: شکوے، شکایتیں اور خدشات۔ عدنان عادل
گوادرگوادر میگا سٹی؟
میگا سٹی کے دعوے اور غائب شہری سہولتیں
سنگت گوادر میں سنگت
گوادر میں بی بی سی سنگت کی تصاویر
قبضہ یا تحفظ
بلوچستان میں فوجی چھاؤنیاں کہاں اور کیوں؟
گوادر میں ایرانی اشیاءایران زیادہ قریب ہے
گوادر میں ایرانی اشیاء پاکستانی چیزوں سے ارزاں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد