گوادر پورٹ کی تکمیل، جلد افتتاح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی تیسری بندرگاہ،گوادر پورٹ مارچ کے آخری ہفتے سے کام شروع کردے گی، اس کا افتتاح صدر جنرل پرویز مشرف کریں گے۔ گوادر بندرگاہ کو چالیس سال کے ٹھیکے پر سنگاپور پورٹ اتھارٹی کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت نے توقع ظاہر کی ہے کہ گوادر پورٹ سے آئندہ چالیس برسوں میں چار بلین ڈالرز کی آمدنی ہوگی۔ شپنگ اور پورٹس کے وفاقی وزیر بابر غوری نے سنیچر کے روز کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ منگل کو گوادر میں وزیر اعظم کی موجودگی میں پاکستان حکومت اور سنگاپور پورٹ اتھارٹی کے درمیان معاہدے پر دستخط کئے جائیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا ہے یہ تاثر غلط ہے کہ گوادر بندرگاہ صرف دفاعی ضروریات کے لیے استعمال ہو گئی۔ انہوں نے کہا یہ صرف کمرشل پورٹ ہے۔اس کےآپریشن سے چالیس سال میں چار ارب ڈالر آمدنی متوقع ہے۔ جبکہ اس کے نزدیک فری زون کی آمدنی اس کے علاوہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گوادر پورٹ سے کراچی کی بندر گاہیں متاثر نہیں ہوں گے۔ کیونکہ یہ ’ہب پورٹ‘ ہے جہاں بڑے جہاز اپنے کنٹینر اتاریں گے اور چھوٹے جہاز ریجنل پورٹس کی طرف سامان لے جائیں گے۔ ان کے مطابق اس پورٹ کا اگر مقابلہ ہے تو دبئی پورٹ سے ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ سنگا پور پورٹ اتھارٹی کے ساتھ معاہدے میں ایک شق یہ بھی شامل ہے کہ اگر فریقین میں کوئی تنازعہ پیدا ہو تو اس کا فیصلہ عالمی عدالتوں میں نہیں بلکہ پاکستانی عدالتوں میں ملکی قوانین کے تحت کیا جائےگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہونے والی کرپشن کے مدنظر حکومت نے معاہدے میں ایک یہ شق بھی شامل کی ہے کہ اگر یہ ثابت ہوگیا کہ اس سودے میں کسی اہلکار کو کمیشن دی گئی ہے تو یہ معاہدہ ختم ہوجائے گا اور پاکستان حکومت پورٹ کا انتظام سنبھال لےگی ۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ گوادر پورٹ میں کوئی صوبائی ٹیکس نہیں ہے اور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے تحریری طور پر صوبائی ٹیکس نہ لگانے کی ضمانت دی ہے۔ بابر غوری کے مطابق پورٹ کی ملازمتیں مقامی لوگوں کو دی جائیں گی، اگر فنی ماہرین موجود نہیں ہیں تو پھر باہر سے تقرریاں کی جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم پرست گوادر پورٹ کے خلاف نہیں ہیں وہ معاملات میں شریک ہونا چاہتے ہیں اور انہیں فیصلوں میں شامل کیا جائے گا۔ حکومت پاکستان پہلے ہی گوادر بندرگاہ کو چالیس سال کے لیے ٹیکس فری قرار دے چکی ہے۔ | اسی بارے میں گوادرمیں سرکاری زمین کی بندر بانٹ22 January, 2007 | پاکستان گوادر: اربوں روپے ڈوبنے کا خدشہ 22 October, 2006 | پاکستان گوادر: زمین سونا بن گئی ہے مگر . . . 01 April, 2005 | پاکستان گوادر میں دھماکے سنے گئے23 June, 2004 | پاکستان قیمتی گوادر بے قیمت گوادری15 August, 2004 | قلم اور کالم چھاؤنیاں کہاں اورکیوں؟21 February, 2005 | پاکستان ’گوادر: آزاد تجارتی علاقہ‘16.06.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||