اوکاڑہ فارم پر زخمی ہونے والا ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکپتن کے قریب آرمی سٹڈ فارم بائل گنج پر رینجرز اور مزارعین کے درمیان چار مئی کو ہونے والے تصادم میں زخمی ہونے والا بیس سالہ نوجوان جمعہ کے روز لاہور کے ایک ہسپتال میں دم توڑ گیا ہے۔ ٹھیکے کی رقم کے معاملہ پر فارم انتظامیہ، رینجرز اور مزارعین کے درمیان چار اپریل کو تصادم ہوا تھا۔ جس میں مزارعین کا الزام ہے کہ رینجرز اہلکاروں نے مزارعین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں بیس سالہ نوجوان ظفر اقبال اور تین اور مزارعین زخمی ہو گئے۔ جن میں ایک دس سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ مزارعین اور رینجرز نے پانچ مئی کو اس واقعہ پر متعلقہ تھانے میں الگ الگ مقدمات درج کروائے۔ رینجرز کی جانب سے دائر مقدمے میں پچیس نامزد مزارعوں کے علاوہ نو سو سے ایک ہزار نامعلوم ملزموں کو شامل کر کے ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے مسلحہ ہو کر فارم کے دفتر پر حملہ کر کے اسے آگ لگانے کی کوشش کی تھی۔ جبکہ مزارعین کی جانب سے ایک شخص خلیل کی درخواست پر دائر مقدمے میں فارم کے ملازمین کو نامزد کیا گیا ہے ۔اس بارے میں مزارعین کا کہنا ہے کہ پولیس نے مقدمہ درج ہی اس شرط پر کیا ہے کہ اس میں رینجرز یا فارم حکام کے نام شامل نہیں کیے جائیں گے۔ ظفر اقبال کو گولی پیٹ میں لگی تھی جس کی وجہ سے اسے انتہائی تشویشناک حالت میں لاہور لایا گیا۔ دو دن قبل اس کا آپریشن بھی کیا گیا تھا۔ ظفر اقبال جنرل ہسپتال میں جمعہ کی شام تک زیر علاج رہا۔ مزارعین کے رہنما چوھدری شبیر کے مطابق جمعہ کی سہ پہر ظفر اقبال کی طبعیت اچانک خراب ہو گئی اور اس کی سانس رکنے لگ گئی جس کی وجہ سے جنرل ہسپتال کے ڈاکٹروں نے یہ کہہ کر مزید علاج کرنے سے انکار کر دیا کہ مریض کی حالت بگڑ گئی ہے اور اسے مصنوعی سانس کی ضرورت ہے لیکن ان کے ہسپتال میں ایسی کوئی مشین موجود نہیں ہے۔ چوھدری شبیر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ظفر اقبال کو جناح ہسپتال لے گئے لیکن وہاں پر بھی مصنوعی سانس دینے کے آلات کی عدم موجودگی کی بنا پر اسے داخل کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ بعد ازاں اسے میو ہسپتال لے جایا گیا لیکن ہسپتال پہنچتے ہی دم توڑ گیا۔ ظفر اقبال اسی سالہ مزارعے بابا نور محمد کا بیٹا ہے جن کو بھی فارم انتظامیہ نے کھیتوں میں کام کرتے وقت تشدد کا نشانا بنایا تھا اور ان کے کندھے کی ہڈی توڑ دی تھی۔ مزارعین ظفر اقبال کی نعش پاک پتن لے گئے ہیں ۔ انجمن مزارعین پنجاب پاکپتن کے صدر چوھدری شبیرنے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ظفر اقبال کی اس وقت تک تدفین نہیں کی جائے گی جب تک مزارعین کو اس زمین کے مالکانہ حقوق نہیں مل جاتے جس کے لیے ظفر نے اپنی جان کی قربانی دی ہے۔ آرمی سٹڈ فارم کے تنازعہ پر دو ہزار دو میں بھی طفیل نامی ایک مزارعہ ہلاک ہوا تھا جو فارم کے پربن آباد گاؤں کا رہائشی تھا۔ جبکہ پانچ سالوں سے جاری اوکاڑہ ملٹری فارم کے تنازعہ میں کئی مزارعین ہلاک ہوئے ہیں۔ پاک پتن کے قریب آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کے زرعی فارم پر مزارعین کی زبردستی بے دخلی کی وجہ سے مزارعین اور فارم کی انتظامیہ میں انیس سو چوراسی سے تنازعہ جاری ہے۔ پنجاب حکومت کی ملکیت گیارہ ہزار پانچ سو ایکڑ اراضی پر واقع فارم سے انتظامیہ نے انیس سو چوراسی میں ایک سو چھ خاندانوں کو زبردستی بے دخل کر دیا تھا۔ بے دخل خاندان اوکاڑہ ملٹری فارم کے مزارعین کی تحریک سے متاثر ہو کر دو ہزار دو میں فارم پر واپس آگئے اور انہوں نے زمین کے کچھ حصے پر قبضہ کر کے کاشت کرنا شروع کر دی۔ فارم انتظامیہ نے حق مزارعیت تسلیم کرنے کے بجائے مزارعین کو زمین ٹھیکے پر دے دی تھی۔ ظفر کی موت بھی ٹھیکے کی رقم پر ہونے والے جھگڑے کے سلسلے میں ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں اوکاڑہ: آرمی فارم تنازع میں شدت11 May, 2007 | پاکستان مزارعے بلڈوزروں کے آگے لیٹ گئے11 May, 2007 | پاکستان سرکاری اراضی لیز پر دینے کی نئی پالیسی 24 April, 2007 | پاکستان اوکاڑہ: کرنل اور اہلخانہ کا قتل21 April, 2007 | پاکستان ’فوج ہماری زمین پر قبضہ کر رہی ہے‘15 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||