اوکاڑہ: کرنل اور اہلخانہ کا قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اوکاڑہ میں پاکستان آرمی کے حاضر سروس کرنل کو ان کی بیوی اور دو کم سن بچوں سمیت قتل کر دیا گیا ہے۔ کرنل ابرار احمد کو چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا گیا جبکہ ان کی بیوی سمبل ابرار، نو سالہ بیٹے مصطفیٰ اور چھ سالہ خضر کو جلا کر ہلاک کیاگیا ہے۔ مقتول کرنل ابرار احمد کی لاش گھر کے صحن جبکہ ان کی بیوی اور دونوں بچوں کی جلی ہوئی لاشیں باورچی خانے سے ملیں ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اوکاڑہ چھاؤنی کی چودہ ڈوژن کے کرنل ان کی بیوی اور دونوں بچوں کے قتل کی اس واردات کا علم سنیچر کو صبح نو بجے کے بعد ہوا جس کے بعد فوجی حکام اور مقامی پولیس نے مقتول کرنل کی آفیسرز کالونی میں واقع رہائش گاہ پہنچ کر نعشیں قبضے میں لے لیں اور ابتدائی تفتیش شروع کر دی ہے۔ واقعہ کے بعد فوج نے اوکاڑہ چھاؤنی کی چودہ ڈویژن کے علاقے کو بھی سِیل کر دیا ہے اور اس طرف فوجی اہلکاروں کے علاوہ کسی کی بھی آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ چھانوی میں واقع سکولوں میں اپنے بچوں کو سکول لے کر جانے والے ان والدین کو بھی چھٹی کے وقت چھاؤنی جانے نہیں دیا گیا جن کو چھاؤنی انتظامیہ نے آنے جانے کے لیے خصوصی پاس جاری کر رکھے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد اوکاڑہ چھاؤنی کے فوجی حکام کے علاوہ تحقیقات کے لیے راولپنڈی سے بھی ایک خصوصی ٹیم اوکاڑہ بھیج دی گئی ہے۔ ایس پی انویسٹیگیشن اوکاڑہ نے واقعہ کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ مکمل تفتیش کے بعد ہی واقعہ کے متعلق کچھ بتایا جا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں اوکاڑہ میں پانچ خواتین کا قتل22 June, 2004 | پاکستان اوکاڑہ محاصرہ: مویشی خطرے میں26 July, 2004 | پاکستان اوکاڑہ: ووٹوں نے فیصلہ کر دیا28 August, 2005 | پاکستان اوکاڑہ:مدرسہ میں قتل، مظاہرہ06 June, 2005 | پاکستان ’اوکاڑہ تنازعہ، انتظامیہ بے بس‘07 December, 2004 | پاکستان اوکاڑہ: رپورٹنگ پر صحافی گرفتار 02 August, 2004 | پاکستان اوکاڑہ:صحافی کی گرفتاری 02 August, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||