اوکاڑہ: آرمی فارم تنازع میں شدت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکپتن اور اکاڑہ میں واقع آرمی ویلفیئر ٹرسٹ سٹڈ فارم کا تنازعہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ کچھ روز قبل رینجرز اور فارم کی انتظامیہ کے مزارعین پر مبینہ تشدد، فائرنگ اور اغواء کے واقعہ کے بعد فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف مقدمات درج کرائے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں اسی سالہ بابا نور محمد بھی شامل ہیں جن کی پسلیاں اور کندھے کی ہڈیاں توڑ دی گئی ہیں۔ کئی دنوں سے تمام مزارعین فارم کے اس حصے پر جمع ہیں جس سے انہیں مبینہ طور پر بے دخل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چار مئی کو ٹھیکے کی رقم ادا نہ کرنے اور مزارعین کے فصلیں اجاڑنے کی وجہ سے مزارعین اور رینجرز حکام میں تصادم ہوا تھا جس کی وجہ سے رینجرز اور فارم کے اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ سے ایک بچے سمیت چار مزارعین زخمی جبکہ پندرہ سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں میں ظفر اقبال نامی نوجوان جمعہ کو انتقال کر گیا۔ وہ جنرل ہسپتال لاہور میں زیر علاج تھے ان کو پیٹ میں گولی ماری گئی تھی۔ ظفر اقبال بابا نور محمد کے بیٹے ہیں۔ فائرنگ سے زخمی ہونے والے دیگر مزارعین مقامی ہسپتالوں میں داخل ہیں۔
پاکپتن اور اوکاڑہ کے پانچ گاؤں کی گیارہ ہزار پانچ سو ایکڑ اراضی پر واقع بائل گنج فارم کی زمین سن انیس سو چوراسی سے مزارعین اور آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کے درمیان تنازعے کی وجہ بنی ہوئی ہے۔ انیس سو چوراسی میں فارم انتظامیہ نے مزارعین کے ایک سو چھ خاندانوں کو بے دخل کر دیا تھا۔ یہ فارم پنجاب حکومت کی ملکیتی زمین پر قائم ہے۔ اوکاڑہ، رینالہ سٹیٹ، برکی روڈ لاہور سمیت پنجاب میں متعدد فارموں کے مزارعین انجمن مزارعین پنجاب کے پلیٹ فارم پر مالکانہ حقوق کے لیے ایک عرصے سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ پنجاب حکومت سرکاری اراضی لیزنگ کے متعلق نئی پالیسی تشکیل دے رہی ہے۔
بیل گنج کے مزارعین کے بے دخل خاندان اٹھارہ سال تک دربدر رہنے کے بعد دو ہزار دو میں اوکاڑہ ملٹری فارم میں اٹھنے والی تحریک سے متاثر ہو کر واپس آگئے اور انہوں نے فارم کی زمین پر آکر دھرنا دے دیا۔ مزارعین اپنے کنبوں کے ساتھ گزشتہ پانچ سالوں سے ایسی جھگیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جو کہ نہ تیز ہوا اور گرمی کی شدت سے ان کو محفوظ رکھ سکتی ہیں اور نہ بارش، طوفان اور سردی کے موسم میں ان ساتھ دے سکتی ہیں۔ مزارعہ محمد طفیل نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ نے دو نومبر انیس سو ننانوے کو مزارعین کے حقوق ملکیت کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ جس کو فارم انتظامیہ نے اس کو چیلنج کیا اور اس وقت وہ کیس چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوھدری کی سربراہی میں قائم فل بینچ کے سامنے زیرِ سماعت ہے لیکن چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس کی وجہ سے کیس کی سماعت نہیں ہو رہی۔ انجمن مزارعین پاکپتن کے صدر چوھدری شبیر احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ مزارعین کے قبضے کے بعد آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کے حکام نے مقامی انتظامیہ اور پولیس سے ملکر مزارعین کی حثیت بدلنے کے لیے ان کو زمینیں تین ہزار دو سو رپے فی ایکڑ کے حساب سے ٹھیکے پر دے دیں۔ مزارعین کے مطابق یہ سازش اس لیے کی گئی تا کہ فارم انتظامیہ جس وقت چاہے مزارعین کو زمین سے یہ کہہ کر بے دخل کر دے کہ یہ مزارع نہیں ٹھیکیدار ہیں۔ ان کے مطابق چار مئی کو فارم انتظامیہ نے لاؤڈ سپیکر پر یہ منادی (اعلان) کروائی تھی کہ مزارعین اپنے ٹھیکے کی قسط ٹرسٹ کے دفتر میں جمع کروائیں بصورت دیگر ان کی فصلیں اٹھا لی جائیں گی۔ اور انہیں بے دخل کر دیا جائے گا۔ اس منادی کے بعد فارم کے ایک ملازم نے مزارعہ خلیل فوجی سے اس کی کھیت پر جا کر ٹھیکے کی قسط کا تقاضہ کیا۔ خلیل کے انکار کرنے پر فارم انتظامیہ نے رینجرز کے مسلح اہلکاروں اور دیگر مسلح لوگوں کو بھیج کر خلیل کو کھیتوں سے اٹھوا لیا اور فارم کے دفتر کو بند کردیا۔ دفتر میں اس پر بدترین تشدد کیاگیا اور اس کا ایک بازو توڑ دیا گیا ۔ چھڑانے کے لیے جب مزارعین اکٹھے ہو کر وہاں پہنچے تو رینجرز اور بقول خلیل کے فارم انتظامیہ کے مسلح ملازمین نے مزارعین پر فائرنگ کردی۔ گولی لگنے سے بیس سالہ ظفر اقبال ہلاک جبکہ دس سالہ عثمان، عارف چھینہ اور خالد محمود زخمی ہو گئے۔
مزارعین رینجرز اور فارم انتظامیہ کے خلاف جب پرچہ درج کرانے تھانے گئے تو پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا مزارعین نے تھانے کے سامنے دھرنا دیا جس کے بعد خلیل کی درخواست پر نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جبکہ مزارعین کو یہ کہہ کر مقدمے میں رینجرز اور فارم انتظامیہ کا نام شامل کرنے سے انکار کر دیا گیا کہ ایسا کرنے سے ان کو نقصان ہو سکتا ہے۔ مزارعین کی درخواست پر پانچ مئی کو مقدمہ درج کیا گیا جبکہ بعد میں اسی دن رینجرز کے اہلکار محمد زمان کی درخواست پر مزارعین کے خلاف اقدام قتل، سرکاری ملازموں سے مزاحمت کرنے اور دیگر جرائم کے دفعات کے تحت مزارعین کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا گیا جس میں چوبیس مزارعین کے نام دیے گئے ہیں، جبکہ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ نو سو سے ایک ہزار تک مزارعین کے مسلح جلوس نے ملٹری فارم کی عمارت پر حملہ کر دیا۔ اور اسے آگ لگانے کی کوشش کی ۔ مقدمے میں مزارعین اور ان کے رہنماؤں کو دہشت گرد لکھا گیا ہے۔
خاتوں شہناز نے کہا کہ رینجرز نے ان کے لیے زمین کے اس ٹکڑے کو کشمیر بنا دیا ہے۔ ہمارے معصوم بچوں پر گولیان چلائی جا رہی ہیں۔ بچے سکول نہیں جا سکتے۔ بیمار کو ہسپتال لے کر جانا ہمارے لیے محال ہے۔ عورتوں کی عزتیں ان سے محفوظ نہیں ہیں ۔ عورتین جہاں جاتی ہیں ان کے ’غنڈے‘ ان کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ مزارعین کہ مطابق انیس سو چوراسی تک ملٹری ویلفیئر ٹرسٹ کے پاس صرف پچیس ایکڑ زمین تھی، باقی زمین انہوں نے مزارعین سے چھین کر قبضے میں کر لی ہے۔ پاکپتن کے ضلع ناظم راؤ نسیم ہاشم خان اس تنازعہ کے حل کے لیے مزارعینں اور فارم کی انتظامیہ کے درمیان ثالثی کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں ضلع ناظم کا کہنا ہے کہ اصل میں فارم کی زمین پٹہ چیف آف آرمی سٹاف کے نام ہے۔ اور یہ فارم ریٹائرڈ فوجی افسروں کی فلاح و بہبود کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے مزارعین کے جن خاندانوں کو انیس سو تراسی اور چراسی میں ایک سو چھ خاندانوں کو زبردستی بے دخل کر دیا گیا تھا ان کا فارم انتظامیہ سے تنازعہ چل رہا ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں پر آئے دن امن و امان کی صورتحال خراب ہو جاتی ہے۔ لہٰذا تنازعے کے حل کیلیے ہم کوششیں کر رہے ہیں اور ہم نے فارم انتظامیہ کو اس بات پر آمادہ کرلیا ہے کہ بے دخلی کے وقت جن خاندانوں کے پاس بارہ ایکڑ یا اس سے زیادہ اراضی تھی ان کو چار چار ایکڑ زمین دی جائے۔ لیکن مزارعین بارہ ایکڑ سے کم پر آمادہ نہیں ہو رہے۔ جس کی وجہ سے معاملہ حل نہیں ہو پا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کی پوری کوشش ہے کہ جھگڑا نہ ہو لیکن اس کے باوجود چار مئی کو تصادم ہوا، مزارعین اور رینجرز نے ایک دوسرے کے خلاف مقدمات درج کروا لیے ہیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ مسئلہ پر امن طریقے سے حل ہو جائے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ ب مزارعین کے پاس بے دخل ہونے سے پہلے بارہ ایکڑ یا اس سے زائد اراضی تھی تواب ان کو کم اراضی کیوں دی جا رہی ہے۔ تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ فوج کا ہے ہم اس میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ فارم پر رینجرز کی تعیناتی کے متعلق سوال پر بھی ان کا کہنا تھا فارم کہ معاملات فوج کے پاس ہیں ہمیں اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ وہاں پر کتنی اور کس کے احکامات پر رینجرز تعینات ہے۔ ملٹری فارم اور مزارعین کے تنازعے کے متعلق بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے کہا کہ بیل گنج فارم سے فوج کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ فارم فوج کا نہیں ریٹائرڈ فوجی افسروں کے ادارے آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کا ہے۔ آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کے چیئرمین جنرل ضرار عظیم سے بات کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن ان سے بات نہ ہو پائی۔ |
اسی بارے میں پھوکاڑا بیچ: تفریح گاہ یا موت گھر21 August, 2004 | پاکستان ملٹری فارمز: مزارعین کامحاصرہ25 July, 2004 | پاکستان اوکاڑہ محاصرہ: مویشی خطرے میں26 July, 2004 | پاکستان ’اوکاڑہ تنازعہ، انتظامیہ بے بس‘07 December, 2004 | پاکستان فوج اور کسانوں میں پھر کشیدگی 30 April, 2005 | پاکستان مزارعے بلڈوزروں کے آگے لیٹ گئے10 May, 2007 | پاکستان مزارعے بلڈوزروں کے آگے لیٹ گئے11 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||