BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 October, 2006, 13:27 GMT 18:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ میں رینجرز کے لیے زمین

رینجرز اب مستقل طور پر سندھ میں تعینات ہوں گی
سندھ حکومت پاکستان رینجرز کی صوبے میں مستقل تعیناتی کے لیے آمادہ ہوگئی ہے اوراس مقصد کے لیے محتلف اضلاع میں سینکڑوں ایکڑ زمین رینجرز کو دینے کا اصولی طور فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

سندھ سیکریٹری داخلہ غلام محمد محترم کا کہنا ہے کہ جس طرح سے سرحد اور بلوچستان میں فرنٹیئر کور اور فرنٹیئر کنسٹیبلری موجود ہیں اسی طرح اب سندھ میں مستقل طور رینجرز رہے گی۔

صوبائی حکومت نے سال 1994 میں امن و امان کی بحالی کے لیے رینجرز کو بلایا تھا جس کے بعد ہر سال جون کے مہینے میں اس کے قیام میں ایک سال کی توسیع کی جاتی رہی ہے۔

گزشتہ دنوں بورڈ آف ریونیو کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں رینجرز کوزمین دینے کے کام کا جائزہ لیا گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعلی سندھ کی صدارت میں بھی ایک اجلاس ہوا تھا جس میں کام کی رفتار کا جائزہ لیا گیا تھا۔

تعیناتی میں مسلسل توسیع
 سن 1994 میں صوبائی حکومت کی درخواست پرامن وامان کی بحالی کے لیے رینجرز کو عارضی طور پرطلب کیا گیا تھا جس میں ہر سال توسیع ہوتی رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے آئی جی سندھ پولیس ایک رسمی درخواست دیتے ہیں کہ سندھ پولیس کے پاس مطلوبہ پولیس نفری اور سہولیات نہیں ہیں لہذا رینجرز کی تعینات میں ایک سال کی توسیع کی جائے۔
سیکرٹری داخلہ نے تصدیق کی کہ رینجرز کی مستقل تعیناتی کے لیے زمین دینے کے لیے صوبے کے بورڈ آف ریونیو سے بات چیت چل رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کو رینجرز کی رہائش، دفاتر اور دیگر سہولیات کے لیے تقریبا ساڑھے چودہ کروڑ روپے فراہم کیے ہیں جبکہ ان تعمیرات کے لیے زمین سندھ حکومت فراہم کرے گی۔

کراچی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں اسکول، کالج، تعلیمی ہوسٹل، کھیلوں کے میدان اور دیگر ایسے مقامات رینجرز کو دیے گئے تھے۔ ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ رشید عالم کا کہنا ہے کہ رینجرز نے مستقل قیام کے لیےزمین کی درخواست کی ہے۔

سن 1994 میں صوبائی حکومت کی درخواست پرامن و امان کی بحالی کے لیے رینجرز کو عارضی طور پرطلب کیا گیا تھا جس میں ہر سال توسیع ہوتی رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے آئی جی سندھ پولیس ایک رسمی درخواست دیتے ہیں کہ سندھ پولیس کے پاس مطلوبہ پولیس نفری اور سہولیات نہیں ہیں لہذا رینجرز کی تعینات میں ایک سال کی توسیع کی جائے۔

ابتدائی طور پر سندھ حکومت نے رینجرز کو طلب کیا تھا، تب وفاقی حکومت نے آدھے اخراجات ادا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعد میں صوبائی حکومت کو یہ رقم ادا نہیں ہو سکی۔ اس معاملے پر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان ایک عرصے تک تنازعہ چلتا رہا۔

حکومت میں آنے سے پہلے ایم کیو ایم صوبے میں رینجرز کے قیام کی سخت مخالفت کرتی رہی ہے۔ لیکن ابھی اسی پارٹی کے مشیر داخلہ کی سفارش پر رینجرز کو مستقل طور پر تعینات کیا جا رہا ہے۔

رینجرز حکام نے کراچی کے کورنگی کے علاقے میں ایک سو ایکڑ، بن قاسم میں پچاس ایکڑ، لانڈھی میں چوبیس ایکڑ، کیماڑی میں پچاس ایکڑ، گھوٹکی میں ایک سو نوے ایکڑ، سانگھڑ میں پونے دو سو ایکڑ، خیرپور میں پچہتر ایکڑ، عمرکوٹ میں ایک سو ایکڑ، تھر میں دو سو ایکڑ اوراسی طرح سے لاڑکانہ، حیدرآباد، بدین، ٹھٹہ وغیرہ میں بھی زمین طلب کی ہے۔

گزشتہ دو سال سے سندھ میں امن وامان کے علاوہ زرعی پانی کی نگرانی کا کام لیا جاتا رہا ہے اور حال ہی میں اسکولوں کی مانیٹرنگ کا کام بھی رینجرز کے حوالے کیا گیا ہے۔

پاکستانی فوجیزمیندار فوج
سینیٹ میں فوجی اراضی کی تفصیلات پیش
فوج میں تبدیلیاںفوج میں تبدیلیاں
معاشی مجبوریاں یا اندرونی اصلاحات
آرمی ویلفئیر ٹرسٹ محلات اور قومی مفاد
دفاعی اور قومی مفاد میں لی گئی زمین کا کیا ہوا!
فوجی ٹوپی600 عہدوں پر فوجی
’فوج پاکستان کا سب سے بڑا بزنس گروپ‘
اسلحہفوج کی محافظ
فوج نےلیویز کی خدمات حاصل کر لیں ہیں
 قومی اسمبلی اے کی گل اے؟
پنجاب کے ایم این ایز کی جرنیلوں پر تنقید
اسی بارے میں
فوج کو زمین کیوں چاہئے؟
20 June, 2005 | پاکستان
فوجی اراضی کا استعمال
09 July, 2004 | پاکستان
زمیندار فوج
13 July, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد