سندھ میں رینجرز کے لیے زمین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ حکومت پاکستان رینجرز کی صوبے میں مستقل تعیناتی کے لیے آمادہ ہوگئی ہے اوراس مقصد کے لیے محتلف اضلاع میں سینکڑوں ایکڑ زمین رینجرز کو دینے کا اصولی طور فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ سندھ سیکریٹری داخلہ غلام محمد محترم کا کہنا ہے کہ جس طرح سے سرحد اور بلوچستان میں فرنٹیئر کور اور فرنٹیئر کنسٹیبلری موجود ہیں اسی طرح اب سندھ میں مستقل طور رینجرز رہے گی۔ صوبائی حکومت نے سال 1994 میں امن و امان کی بحالی کے لیے رینجرز کو بلایا تھا جس کے بعد ہر سال جون کے مہینے میں اس کے قیام میں ایک سال کی توسیع کی جاتی رہی ہے۔ گزشتہ دنوں بورڈ آف ریونیو کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں رینجرز کوزمین دینے کے کام کا جائزہ لیا گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعلی سندھ کی صدارت میں بھی ایک اجلاس ہوا تھا جس میں کام کی رفتار کا جائزہ لیا گیا تھا۔
کراچی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں اسکول، کالج، تعلیمی ہوسٹل، کھیلوں کے میدان اور دیگر ایسے مقامات رینجرز کو دیے گئے تھے۔ ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ رشید عالم کا کہنا ہے کہ رینجرز نے مستقل قیام کے لیےزمین کی درخواست کی ہے۔ سن 1994 میں صوبائی حکومت کی درخواست پرامن و امان کی بحالی کے لیے رینجرز کو عارضی طور پرطلب کیا گیا تھا جس میں ہر سال توسیع ہوتی رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے آئی جی سندھ پولیس ایک رسمی درخواست دیتے ہیں کہ سندھ پولیس کے پاس مطلوبہ پولیس نفری اور سہولیات نہیں ہیں لہذا رینجرز کی تعینات میں ایک سال کی توسیع کی جائے۔ ابتدائی طور پر سندھ حکومت نے رینجرز کو طلب کیا تھا، تب وفاقی حکومت نے آدھے اخراجات ادا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعد میں صوبائی حکومت کو یہ رقم ادا نہیں ہو سکی۔ اس معاملے پر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان ایک عرصے تک تنازعہ چلتا رہا۔ حکومت میں آنے سے پہلے ایم کیو ایم صوبے میں رینجرز کے قیام کی سخت مخالفت کرتی رہی ہے۔ لیکن ابھی اسی پارٹی کے مشیر داخلہ کی سفارش پر رینجرز کو مستقل طور پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ رینجرز حکام نے کراچی کے کورنگی کے علاقے میں ایک سو ایکڑ، بن قاسم میں پچاس ایکڑ، لانڈھی میں چوبیس ایکڑ، کیماڑی میں پچاس ایکڑ، گھوٹکی میں ایک سو نوے ایکڑ، سانگھڑ میں پونے دو سو ایکڑ، خیرپور میں پچہتر ایکڑ، عمرکوٹ میں ایک سو ایکڑ، تھر میں دو سو ایکڑ اوراسی طرح سے لاڑکانہ، حیدرآباد، بدین، ٹھٹہ وغیرہ میں بھی زمین طلب کی ہے۔ گزشتہ دو سال سے سندھ میں امن وامان کے علاوہ زرعی پانی کی نگرانی کا کام لیا جاتا رہا ہے اور حال ہی میں اسکولوں کی مانیٹرنگ کا کام بھی رینجرز کے حوالے کیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں فوج کو زمین کیوں چاہئے؟20 June, 2005 | پاکستان فوجی اراضی کا استعمال09 July, 2004 | پاکستان زمیندار فوج13 July, 2004 | پاکستان پاک فوج کی کاروباری سرگرمیاں23 July, 2004 | پاکستان اسلام آباد: فوج کے لیئے مزید زمین14 April, 2006 | پاکستان مسلح افواج پر زمین پر قبضے کا الزام15 April, 2006 | پاکستان سندھ میں جعلی کمپنیوں پر پابندی31 August, 2005 | پاکستان اسلام آباد: زمین کی ریکارڈ قیمت09 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||