سندھ میں جعلی کمپنیوں پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ حکومت نے کراچی ، اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور میں پلاٹ دینے کا جھانسہ دیکر عوام سے پیسے لوٹنے والی کمپنیوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ رؤف صدیقی نے بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ کمپنیاں پچیس روپے سے ڈھائی سو روپے میں یہ کہہ کر ٹوکن فروخت کر رہی ہیں کہ اس سے آپ کو قرعہ اندازی کے ذریعے اسلام آباد ، راولپنڈی اور لاہور میں پلاٹ دیا جائیگا جبکہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسی چودہ سے پندرہ کمپنیاں ہیں جن کے خلاف ایکشن لیا جارہا ہے۔ آئندہ ان کمپنیوں کا کوئی بھی نمائندہ یہ کوپن فروخت کرتا ہوا پایا گیا تو اس کمپنی کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔ اس سوال کے جواب میں کہ ان کمپنیوں کے خلاف کس نوعیت کی کارروائی کی جائیگی ، صوبائی وزیر نے کہا کہ ان کمپنیوں کی رجسٹریشن منسوخ کردی جائیگی اور اس میں ملوث لوگوں کو گرفتار کیا جائیگا اور سخت سزا دلوائی جائیگی۔ تاکہ آئندہ کوئی بھی عوام کو سبز باغ دکھا کر لوٹ نے سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوام خود دھوکہ دینے والے عناصر کو اپنی محنت کی کمائی لوٹنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے عوام سے اپیل کی کہ اگر ان کو ایسا کوئی آدمی نظر آئے تو شکایتی سینٹر ون فائیو پر اطلاع دی جائے۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ سندھ بھر میں صحافیوں پر قائم مقدمات واپس لیے جارہے ہیں۔اس سلسلے میں کراچی میں صحافی فضل ندیم، اسد ابو الحسن، رشید چنہ ، محمد طاہر، عبدالطیف ابو شامل پر دائر مقدمات واپس لینے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ کراچی میں روڈ حادثات پر کنٹرول کے لیے انہوں نے بتایا کے موٹر سائیکل پر سواری کے لیے ہیملٹ پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ اس کی خلاف ورزی کرنے پر پچاس روپے جرمانہ عائد کیا جائیگا۔ اسی طرح سگنل کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پولیس چوکی پر ضرور لایا جائیگا پھر چاہے اسے شخصی ضمانت پر ہی رہا کیا جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||