ایک اور ’سرے محل‘ برائے فروخت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرے کے علاقے میں 70 ملین پاؤنڈ کا مکان مارکیٹ میں آیا ہے۔ ایجنٹوں کا کہنا ہے کے اس قیمت کی وجہ سے یہ ملک کا مہنگا ترین گھر ہے۔ پچھلے سال کینزنگٹن پیلس گارڈنز کے علاقے میں ایک گھر کی قیمت 85 لاکھ پاؤنڈ لگائی گئی تھی۔ مگر اسٹیٹ ایجنٹوں کا کہنا ہے کہ اب تک کسی بھی گھر کیلیۓ سب سے زیادہ ادا کی گئی رقم سات کروڑ پاؤنڈ ہے۔ وِنڈلشیم نام کے گاؤں میں یہ 58 ایکڑ کی جاگیر نے بہت سے بین الاقوامی خریداروں کو متوجہ کیا ہے۔ تعمیری کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اصل خریداروں کی تعداد بہت حد تک محدود ہے۔
رائمر انویسٹمنٹس کے ایک اہلکار لیزلی ایلن ورکو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس گھر کو بیچنے والے ایجنٹوں کو لکھ پتیوں کی نہیں بلکہ کڑوڑپتیوں کی تلاش ہے۔ انکا کہنا ہے کہ مالیاتی ذرائع کا خیال ہے کہ دنیا بھر میں 600 سے زیادہ کڑوڑپتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان سے بھی دو گنا تعداد ان کروڑ پتیوں کی ہے جو اپنی شناخت کو راز میں رکھتے ہیں اس گھر کی تعمیر 1924 میں 12 ایکڑ کی زمیں پر ہوئی اور 1970 کہ دوران اسکے مالک مصر کے راجا سمیع غاید رہ چکے ہیں۔ تعمیراتی کمپنی کا کہنا ہے کہ 1987 کے عظیم طوفان میں آگ لگ جانےکہ بعد یہ کھنڈر بن گئی تھی اور بعد میں اس کی بحالی کے لیے بنایا جانے والا منصوبہ بھی پایا تکمیل کو نہیں پہنچ سکا تھا۔ رائمر کمپنی نے 2002 میں ان سے 20 ملین پاؤنڈ میں عمارت خرید لی اور اب تک اسکی مرمّت پر 30 لاکھ پاؤنڈ خرچ کیے جا چکےہیں۔ وِنڈسر گریٹ پارک کہ کنارے پر واقع اس گھر کے تمام نظام کمپیوٹر سے چلاۓ جاتے ہیں جن تک دنیا بھر سے پہنچا جا سکتا ہے۔ اس مکان کہ 22 بیڈ روم اور کمروں میں رہائش رکھنے والے لوگ ایک ہیٹڈ ماربل ڈرائیو وے اور پرایئویٹ سینما اور بولنگ ایلی سے لطف اٹھا سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||