BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 May, 2004, 02:25 GMT 07:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرانس کے دیہاتی

لیزا اور البان کی دیسی مرغی کے انڈوں کی تلاش
صبح صبح دیسی مرغی کے انڈوں کی تلاش
سات سالہ فرانسیسی بچی لیزا کو میں نے ان کے گھر قیام کے دوران ایک روز مغربی موسیقی کے ساتھ ساتھ پٹھانے خان کی گائیکی پر رقص کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا۔

لیزا اپنے والدین اور چھوٹے بھائی تین سالہ البان کے ساتھ فرانس کے شمال مغرب میں مایین کے قصبے کے قریب ہی ایک خوبصورت سے گاؤں میں رہتی ہے۔

ان کے والدین نے حال ہی میں ان کو بہتر تربیت کے لئے گاؤں کے سکول میں داخل کرایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کا یہ شہر کے سکول سے اچھاہے اور یہاں سب لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں جو بہتر ہوتا ہے۔

مایین کے قصبے کی ایک منفرد بات یہ ہے کہ وہاں ہر سال دنیا کے کسی نے کسی ملک کا دن منایا جاتا ہے۔ اس بار ’انڈیا ڈے‘ منایا گیا، گزشتہ سال مڈغاسکر کا دن منایا گیا اور اگلے برس چین یا مراکش کی باری ہے۔

مایین کے لوگوں کے مطابق اس ساری کاوش کا مقصد بڑوں اور چھوٹوں کی معلومات میں اضافہ کرنا اور ذہنی وسعت پیدا کرنا ہے۔

News image
فرانس کے دیہات میں ایک گھر
لیکن لیزا کی ماں اِزابیل کا کہنا ہے کہ پیرس میں بہت سے لوگوں کو مایین کے بارے میں نہیں معلوم اور جو جانتے بھی ہیں ان کا خیال ہے یہاں دیہاتی رہتے ہیں جن سے بو آتی ہے۔

لیزا اپنی زندگی سے بہت خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کی زندگی اسی وقت ختم ہو جائے تو انہیں کوئی افسوس نہیں ہوگا۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں زِندگی میں سب کچھ مِل چکا ہے۔

ان کے خاوند انتواں ایک سپر مارکیٹ میں کام کرتے ہیں اور زیادہ تر وقت اپنے چھوٹے سے باغیچے اور بچوں کی دیکھ بھال میں گزارتے ہیں۔ ان کا مشغلہ فوٹوگرافی ہے اور وہ مایین اور اس کے قریبی قصبوں اور شہروں میں بیس کے قریب نمائشیں کر چکے ہیں۔

ازابیل کا اپنے خاوند کے مشغلے کے بارے میں کہنا ہے کہ ’ہم مشہور نہیں ہیں لیکن ہم خوش ہیں‘۔

ازابیل اور انتواں، ان کے بہن بھائی اور والدین سب مایین کے قصبے میں ہی پیدا ہوئے اور اب وہیں پر یا اس کے قریبی کسی علاقے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ مایین کی آبادی پندرہ ہزار ہے۔

News image
ایک گاؤں کے راستے پر صلیب کا نشان
ازابیل کہتی ہیں کہ انہوں نے بہت پہلے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ دنیا بھر میں گھومیں گے لیکن رہیں گے اپنے ہی گاؤں میں۔ ان دونوں کا تعلق عیسائیت کے کیتھولک فرقے سے ہے لیکن ازابیل نے کہا کہ وہ اتنی ہی عیسائی ہیں جتنے وہ مسلمان جو عبادت نہیں کرتے۔

یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ اس علاقے میں اکثر فارم ہاؤس یا دیہات کی طرف جانے والی سڑک پر صلیب کا نشان نصب ہوتا ہے۔ ازابیل اور انتواں کے پڑوسی کے گھر کے باہر بھی ایک صلیب کا نشان نصب تھا۔

اِزابیل اور انتواں افریقہ اور ایشیا کے آدھ درجن سے زیادہ ممالک کی سیاحت کر چکے ہیں۔ ان کے اس شوق کا یقیناً ان کے بچوں پر بھی اثر پڑا ہے جو سارا دن مختلف ممالک کی موسیقی اور باتیں سنتے ہیں اور اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب ان کے والدین کا کوئی سیاح دوست ان کے گھر رہنے آئے گا۔

ازابیل اور انتواں کا آخری دورہ بھارت کا تھا جہاں پر انہوں نے پانچ ماہ گزارے اس سے پہلے وہ چین میں بھی ایک ماہ گزار چکے ہیں۔

مایین میں ان کے دوستوں میں ایک جوڑا ایسا بھی ہے جو کم و بیش پندرہ ممالک کی سیر سائیکل پر کر چکا ہے۔

مایین میں ہی مارکو نامی نوجوان سے بھی ملاقات ہوئی جو پاکستان اور بھارت کی سیاحت کر چکا ہے اور وہ ابھی اپنی تصویروں کی نمائش کر چکا ہے۔ مارکو اب پاکستان کے قبائلی علاقوں کی سیر کرنے کے لئے بے چین ہے۔

مایین کے زیادہ تر لوگ کسان ہیں۔ کچھ گائیں پالتے ہیں اور کچھ سرسوں، جوار، مکئی اور دیگر فصلیں اُگا کر گزارا کرتے ہیں۔ فرانس کے اس عللاقے میں سیب کا استعمال ہر چیز میں کثرت سے ہوتا ہے۔

انتوان نے مجھے بتایا کہ یہاں کی سب سے مشہور شراب بھی سیب سے بننے والی سائڈر ہے جو عام طور گھروں میں بنائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹھے سے لے کر سالن تک ہر چیز میں سیب ڈلتا ہے اور سیب گوشت وہاں کی ایک مرغوب ڈِش ہے۔

ازابیل نے بتایا کہ مایین کے پاس ایک بہت بڑا ہسپتال بھی ہے۔ انہوں نے کہا دیگر وجوہات کے علاوہ لوگ تنہائی، غیر یقینی صورتحال اور شراب نوشی کی وجہ سے بیمار ہوتے ہیں۔

لیکن انہوں نے کہا کہ لوگوں کی اوسط عمر میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب ان کا بہتر خیال رکھا جا رہا ہے۔

کسی بھی دیہاتی کی طرح لیزا اور البان کو معلوم ہے کہ مہمان کو ہر چیز پر فوقیت دی جاتی ہے۔

News image
مایین میں ’انڈیا ڈے‘ کے شرکاء
میرے ان کے گھر چار روزہ قیام کے دوران ایک روز ان کے والدین صبح کے وقت گھر پر نہیں تھے اور ان کو ناشتہ کرانا اس دن میری ذمہ داری تھی لیکن انہوں نے اشاروں کی زبان میں مجھ پر واضح کر دیا جب تک میں پہلے کچھ نہیں لوں گا وہ ناشتہ نہیں شروع کریں گے۔

مجھے یہ بات سمجھنے میں کچھ دیر لگی کہ لیزا نے مالٹے کے جوس کا گلاس اپنے لئے نہیں بلکہ میرے لئے تیار کیا ہے۔

میری اس فرانسیسی جوڑے کے ساتھ لندن میں ملاقات ہوئی تھی۔ دونوں بمشکل انگریزی بولتے ہیں اور میری فرانسیسی زبان سے واقفیت صرف چند جملوں کی ہے۔ لیکن دوستی ہو گئی اور انہوں نے مجھے اپنے گاؤں آنے کی دعوت دی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد