’چھ سو سویلین عہدوں پر فوجی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب مخالف کی جماعت مسلم لیگ نواز کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے دعویٰ کیا ہے کہ چھ سو اہم ترین سویلین عہدوں پر فوج کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران قابض ہیں جس سے سول بیوروکریسی اور سول سوسائٹی تباہی کا شکار ہے۔ پیر کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں سویلین عہدوں پر جتنے فوجی افسران تعینات کیئے گئے ہیں اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ ان کے بقول اس سے ایک طرف سول سوسائٹی عدم تحفظ کا شکار ہے تو دوسری جانب فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں تباہ ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اتوار کے روز نیوز کانفرنس میں پاکستان کی کئی وزارتوں، کارپوریشنز، خود مختار اداروں اور بیرون ممالک سفیروں کے عہدوں پر فوجیوں کی تعیناتی کی ایک فہرست بھی جاری کی ہے۔ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم، شپنگ کارپوریشنز، سروے آف پاکستان، فیڈرل پبلک سروس کمیشن، سپارکو اور دیگر نفع بخش سویلین عہدوں پر کئی برسوں سے محض فوجی افسران کی تقرری سے ایسا لگتا ہے کہ یہ عہدے فوج نے اپنے لیئے مخصوص کر لیئے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ٹیکس جمع کرنے والے ادارے ’سی بی آر‘ میں ایک ریٹائرڈ میجر جنرل اور ماحولیات کی وزارت میں ایک ریٹائرڈ بریگیڈئر کی تعیناتی کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ فوجی افسران میں سویلین عہدوں پر تعیناتی کے لیئے دوڑ شروع ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی، تھائی لینڈ، امریکہ، برونائی، انڈونیشیا، ملائیشیا، سعودی عرب اور لیبیا سمیت مختلف ممالک میں فوجی افسران کو سفیر تعینات کیا گیا ہے۔ انہون نے ان سفراء کے ناموں کی فہرست بھی پیش کی۔ احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم کے معائنہ کمیشن، زلزلہ زدہ علاقوں کی تعمیرِ نو کے ادارے، فیڈرل پبلک سروس کمیشن، سویلین افسران کی تربیت کے ادارے ’نیپا، ٹیلی کام اتھارٹی، فرنٹیئر کانسٹیبلری، سائنس اور ٹیکنالوجی کے قومی ادارے کے ریکٹر، سٹیل ملز، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، نیشنل فرٹیلائزر کارپوریشن سمیت بیشتر نفع بخش اداروں کے سربراہ فوجی ہیں۔ انہوں نے کہا عدالت عظمٰی کے حکم کے تحت قومی احتساب بیورو کا سربراہ سپریم کورٹ کا ریٹائرڈ جج ہونا چاہیئے لیکن نہ صرف اس کے سربراہ بلکہ چاروں صوبوں میں احتساب بیورو کے سربراہان فوجی ہیں۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ فارن سروس سے لے کر کھیلوں تک کوئی ادارہ ایسا نہیں جہاں فوجی تعینات نہ ہوں اور ان کے مطابق ایسا کرنے سے سویلین افسران کا مورال پست ہورہا ہے اور ان کی ترقیوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے احسن اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فوج جس طرح سڑکیں بنانے، گڈز ٹرانسپورٹ، ٹیکسٹائل، بینکنگ، لیزنگ، شوگر ملز، سیمنٹ فیکٹریاں لگانے سمیت تمام کاروباری شعبوں میں گھس گئی ہے اس سے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ فوج کے مخالف نہیں ہیں لیکن پاکستان کی فوج جس طرح پاکستان کا ایک سب سے بڑا بزنس گروپ بن گیا ہے یہ ملکی دفاع کے لیے خطرناک ہے۔ انہوں نے حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ اکہتر کی جنگ ہارنے کی ایک بڑی وجہ فوج کے سویلین معاملات میں دخل اندازی کو قرار دیا گیا ہے اور مستقبل میں فوج کے سیاسی کردار کی سختی سے مخالفت کی گئی ہے۔ لیکن ان کے مطابق صورتحال اس کے برعکس چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک انڈیا میں جب کوئی فوجی جرنیل ریٹائر ہوتا ہے تو وہ ایک کتاب لکھتا ہے اور سول سوسائٹی کی بہتری کے لیے کام کرتا ہے لیکن پاکستان میں جہاں ریٹائر فوجی جرنیل کو پلاٹ اور مکان کی صورت میں کروڑوں روپوں کی مراعات ملتی ہیں وہاں وہ کسی سویلین کی حق تلفی کرتے کسی ادارے کا سربراہ بن بیٹھتا ہے۔ مسلم لیگ نواز کے رہنمانے کہا کہ صدر مشرف کئی بار واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ سویلین چور اور کرپٹ ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ فوجی افسران جن اداروں کے سربراہ ہیں وہاں بدعنوانی سویلین عہدوں والے افسران سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا صدر مشرف نے فوج اور سول سوسائٹی کو آمنے سامنے کھڑا کردیا ہے اور دونوں میں ایک دوسروں کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے جوکہ ان کے بقول ملکی سالمیت کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا صدر مشرف کی یہ سوچ غلط ہے کہ ’فوجی پاکستان‘، سلامت رہ سکتا ہے۔ جبکہ احسن اقبال نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ عوامی رائے کی بالادستی قائم کرنے اور جمہوری پاکستان ہی سلامت رہ سکتا ہے۔ | اسی بارے میں ’تعمیرنو کے لیے فوجی موزوں نہیں‘10 December, 2005 | پاکستان فوج کی ’منڈی مویشیاں‘13 January, 2005 | پاکستان سندھ حکومت میں 6 بریگیڈیئر24 June, 2005 | پاکستان نیب: تقریباً ڈھائی ارب روپے برآمد کیے09 December, 2004 | پاکستان پاکستان: تقریریاں اور تبادلے01 November, 2004 | پاکستان اسلام آباد میں ’صوابدیدی پلاٹ‘27 October, 2004 | پاکستان ’فوج کو پلیاں بنانی تو نہیں آتیں‘26 September, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||