BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 May, 2007, 23:29 GMT 04:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مزارعے بلڈوزروں کے آگے لیٹ گئے

اوکاڑہ ملٹری فارم: فائل فوٹو
فوج اور مزارعین کے درمیان چند برس سے کاشتکاری کے معاہدے اور ملکیت کے حوالے سے تنازعہ چلا آ رہا ہے
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر اوکاڑہ میں چھاؤنی کے گرد تقریباً دس کلومیٹر لمبی دیوار کی تعمیر پر فوج اور ملٹری فارم کے مزارعین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی۔ مزارعین نے فوج کے بلڈوزروں کے سامنے لیٹ کر دیوار کی تعمیر عارضی طور پر رکوا دی ہے۔

فوج کے ایک افسر کے مطابق یہ دیوار چھاؤنی کے گرد حفاظتی نکتہ نظر سے تعمیر کی جا رہی ہے اور کسی مزارعے کی جگہ پر قبضہ نہیں کیا جا رہا۔

انجمن مزارعین پنجاب کے ایک عہدیدار عبدالستار چمن نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ پانچ روز پہلے فوج نے چیک پوسٹیں قائم کیں اور بدھ کو ان کے بلڈوزر آگئے جو ان کے بقول کھڑی فصلوں پر چلائے جانے تھے۔

دیہات گیارہ سے پندرہ فور ایل کے کئی درجن مزارعے مرد خواتین اور بچے وہاں پہنچ گئے اور بلڈزوروں کے سامنے لیٹ گئے۔

انجمن مزارعین کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ فوج کے جوانوں نے رائفلیں سیدھی کرکے پوزیشنیں سنبھال لی تھیں لیکن مزارعے ڈٹے رہے جس پر دیوار کی تعمیر عارضی طور پر روک دی گئی۔جمعرات کی صبح مزارعوں کے نمائندوں سے گفتگو کے بعد مقامی فوجی انتظامیہ نے دیوار کی تمعیر کا معاملہ عارضی طور پر روک دیا ہے۔

عبدالستار چمن نے کہا کہ اس دیوار کے احاطے میں ان کی دس سے پندرہ مربع اراضی آجائے گی اور انہیں لگتا ہے کہ یہ فوج کی ان کی زمین پر قبضہ کرنے کی ایک نئی سازش ہے۔

اوکاڑہ ملٹری فارم کی کل سترہ ہزار ایکٹر اراضی ہے۔ فوج اور مزارعین کے درمیان چند برس سے کاشتکاری کے معاہدے اور ملکیت کے حوالے سے تنازعہ چلا آ رہا ہے لیکن دونوں فریقین کے مابین بات چیت کے بعد کشیدگی میں کمی ہوگئی تھی اور مزارعین نے کاشتکاری جاری رکھی تھی۔

تاہم دو روز سے ایک بار پھر ملٹری فارم پر حالات کشیدہ ہوچکے ہیں۔اوکاڑہ کے ایک فوجی افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ گذشتہ مہینے ایک کرنل اور ان کے بیوی بچوں کے پراسرار قتل کے بعد چھاؤنی کے علاقے کے گرد آٹھ فٹ اونچی دیوار کھڑی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔اس فوجی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ کسی بھی جگہ کھڑی فصل میں بلڈوزر چلانے کی کوشش نہیں کی گئی اور نہ کسی کو دیوار کے اندر آنے والی زمین پر کاشتکاری سے منع کیا گیا۔

انجمن مزارعین کا کہنا ہے کہ ملٹری فارم کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ایک دو روز میں چاردیواری جاری رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں انہیں آگاہ کر دیا جائے گا۔

اسی بارے میں
زمیندار فوج
13 July, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد