BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 April, 2007, 14:08 GMT 19:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرنل قتل:’دہشت گردی کا امکان؟‘

پولیس (فائل فوٹو)
واقعہ کی تحقیقات پولیس، فوج اور دیگر حساس اداروں پر مشتمل ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کر رہی ہے
اوکاڑہ کے ضلعی پولیس افسر نے کہا ہے کہ کرنل ابرار احمد اور ان کے اہل خانہ کی ہلاکت میں دہشتگردی کے عنصر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم اس کے علاوہ بھی کئی پہلوؤں پر تفتیش کی جا رہی ہے۔

مقتول کرنل ابرار، ان کی بیوی اور دو بیٹوں کی نعشیں پوسٹ مارٹم کے بعد لاہور بھیجی گئیں جہاں اتوار کے روز ان کو سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔

کرنل ابرار کو ان کی بیوی سمبل دو بیٹوں خضر اور مصطفیٰ سمیت اوکاڑہ چھاونی میں ان کی رہائش گاھ پر جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب نامعلوم افراد نے قتل کر دیا تھا۔

واقعہ کی تحقیقات پولیس، فوج اور دیگر حساس اداروں پر مشتمل ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کر رہی ہے۔

کرنل ابرار اور ان کے اہل خانہ کے قتل کا مقدمہ ملٹری پولیس کی درخواست پر چھاونی تھانہ اوکاڑہ میں درج کر دیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ کرنل ابرار کے گھر میں کام کرنے والا خاکروب پرویز مسیح اور فوجی سپاہی نواز جب معمول کے مطابق سنیچر کی صبح بنگلے میں داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ کرنل ابرار کی نعش گھر کے صحن میں پڑی ہے جب کہ ان کی بیوی اور دو بیٹوں کی جلی ہوئی نعشیں باورچی خانے میں پائی گئیں۔ خاکروب اور سپاہی نے ملٹری پولیس کو اطلاع دی جبکہ ملٹری پولیس نے کینٹ تھانہ کی پولیس کو واقعہ سے آگاہ کیا اور مقدمہ درج کروایا۔

واقعہ کے بعد مقامی پولیس کے علاوہ راولپنڈی سے بلائی گئی خصوصی ٹیم سراغ رساں کتوں کی مدد سے تحقیقات کر رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ واردات میں ایک سے زیادہ لوگ ملوث ہو سکتے ہیں۔

 جب ان سے پوچھا گیا کہ کہا جا رہا ہے کہ مقتول کرنل نے اپنے اہلکاروں کے کورٹ مارشل کروائے تھے کیا ان کا یہ اقدام اس چوہرے قتل کا سبب تو نہیں بنا تو انہوں نے کہا کرنل ابرار نے ایک یا دو نہیں کئی لوگوں کے کورٹ مارشل کئے تھے تاہم تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر تفتیش آگے بڑھائی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق سراغ رساں کتے گھر کے باہر والی سڑک تک تو تحقیقاتی ٹیم کو لے کر جا رہے ہیں لیکن اس سے آگے نہیں جا پا رہے جس کی وجہ سے کہا جا رہا ہے کہ واردات کے بعد قاتل (قاتلوں) نے فراور کے لئے گاڑی استعمال کی ہے۔

اوکاڑہ کے ضلعی پولیس افسر مرزا فاران بیگ نے بتایا کہ مشترکہ ٹیم یہ جائزہ لے رہی ہے کہ واقعہ دہشتگردی کا نتیجہ ہے، اس کے پیچھے خاندانی دشمنی ہے یا کوئی ذاتی رنجش اس واقعہ کا سبب بنی ہے۔ ان کے مطابق ہو سکتا ہے کہ گھر کے کسی نوکر نے اندرونی معاملات کی وجہ سے جنونیت میں آکر واردات کی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کہا جا رہا ہے کہ مقتول کرنل نے اپنے اہلکاروں کے کورٹ مارشل کروائے تھے کیا ان کا یہ اقدام اس چوہرے قتل کا سبب تو نہیں بنا تو انہوں نے کہا کرنل ابرار نے ایک یا دو نہیں کئی لوگوں کے کورٹ مارشل کئے تھے تاہم تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر تفتیش آگے بڑھائی جا رہی ہے۔

پولیس افسر مرزا فاران بیگ کے مطابق کسی حد تک سراغ بھی مل گیا ہے اور کئی لوگوں کو حراست میں لے کر تفتیش بھی کی جا رہی ہے اس لئے امید ہے کہ کچھ دنوں کے اندر اصل قاتلوں کا پتہ چل جائے گا۔

اسی بارے میں
اوکاڑہ:صحافی کی گرفتاری
02 August, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد