BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 April, 2006, 22:17 GMT 03:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آرمی مزارعین تنازعہ، 30 گرفتار

اوکاڑہ
پاکپتن کے قریبی ضلع اوکاڑہ میں بھی مزارعین اور ملٹری فارم کی انتظامیہ پچھلے ایک عرصہ سے ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار ہیں
پنجاب کے علاقے پاکپتن میں آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت کام کرنے والے ’آرمی سٹڈ فارم‘ کی انتظامیہ اور مزارعین کے درمیان جاری تنازعہ پیر کے روز اس وقت شدت اختیار کرگیا جب پولیس نے مبینہ طور پر تیس سے زائد افراد کو مختلف الزامات کے تحت حراست میں لے لیا۔

گیارہ ہزار ایکڑ پر مشتمل گاؤں بیل گنج میں واقع آرمی سٹڈ (گھوڑا پال) فارم کے مزارعین پر مشتمل ایک سو سات خاندانوں کو انیس سو چوراسی میں زمین کاشت کرنے کے عمل سے بے دخل کر دیا گیا تھا اور تب سے یہ خاندان انتہائی کسمپرسی میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

مزارعین کے ایک نمائندہ اقبال بلوچ کے مطابق گزشتہ برس تمام مزارعین نے بغاوت کرتے ہوئے مشترکہ طور پر پینتیس ایکڑ زرعی اراضی پر قبضہ کر کےاس پر گندم کاشت کردی اور ساتھ ہی ان زمینوں پر مالکانہ حقوق کے لیئے جدوجہد شروع کر دی جن سے انہیں اکیس سال پہلے بے دخل کیا گیا تھا۔

مزارعین اور ان کے بیوی بچے پچھلے کئی ماہ سے روزانہ حویلی لکھا روڈ پر احتجاجی دھرنا دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن زمینوں سے آرمی سٹڈ فارم کی انتظامیہ نے انہیں زبردستی بے دخل کیا تھا، وہ اور ان کے باپ دادا ان زمینوں کو سو سال سے کاشت کرتے چلے آرہے تھے۔

احتجاجی تحریک چلانے سے پہلے بے دخل مزارعین نے ہر وہ دروازہ کھٹکھٹایا جہاں سے انہیں داد رسی کی امید تھی۔ مزارعین کا دعویٰ ہے کہ بندوبست اراضی کے حکام سے لے کر فیڈرل لینڈ کمیشن تک سب نے ان کے حق میں فیصلہ دیا ہے لیکن سٹڈ فارم کے حکام یہ سب ماننے کو تیار نہیں۔

مزارعین کے مطابق پیر کے روز بھی جب حسب معمول احتجاج جاری تھا تو انتظامیہ نے ان کے رہنماؤں کو مذاکرات کے لیئے فرید نگر پولیس سٹیشن بلوایا۔ جس پر مزارعین کا ایک گیارہ رکنی وفد یونس کھرل کی قیادت میں تھانے گیا تو پولیس نے ان سب کو گرفتار کر لیا۔

رہنماؤں کی گرفتاری کی خبر سنتے ہی مزارعین نے حویلی لکھا روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کر کے گاڑیوں کی آمدورفت معطل کر دی۔ اس پر ڈی ایس پی انور چشتی کی سربراہی میں پولیس کے ایک دستے نے کاروائی کرتے ہوئے بیس کے قریب مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ تاہم رات گئے تک خواتین دھرنا دیئے ہوئے تھیں اور تمام گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

موقع پر موجود ڈی ایس پی انور چشتی کا دعویٰ تھا کہ فرید نگر پولیس سٹیشن میں مزارعین کے رہنماؤں کو نقص امن کی دفعات کے تحت اس وقت حراست میں لینا پڑا جب اختلافات پیدا ہونے کے بعد وہ دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے اور نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔

ان کا کہنا تھا کچھ عرصہ قبل بے دخل مزارعین اور آرمی سٹڈ فارم کی انتظامیہ کے درمیان پاکپتن کے سابق ضلع ناظم امجد جوئیہ کے ذریعے مذاکرات ہوتے رہے ہیں جو کہ بے نتیجہ رہے۔ ڈی ایس پی کا کہنا تھا کہ مزارعین غلط کہتے ہیں کہ عدالتوں نے ان کے حق میں فیصلہ دے رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سٹڈ فارم کی زمین پنجاب کی صوبائی حکومت کی ملکیت ہے جسے اس نے پٹے (لیز) پر فوج کو دے رکھا ہے۔

انہوں نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان مظاہرین نے احتجاج کے دوران بعض بسوں کو روک کر ان میں بیٹھے مسافروں کو زدوکوب کیا ہے۔ گرفتاریوں کے خلاف رات گئے تک جاری مظاہرے کے بارے انہوں نے کہا ’ سب لوگ چلے گئے ہیں بس چند عورتیں بیٹھی ہوئی ہیں‘۔

مزارعین نے پولیس کے اس دعویٰ کی سختی سے تردید کی کہ تھانے میں ان کے رہنماؤں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ’مالکی یا موت‘ کے نعرے پر ہمیشہ اکھٹے رہنے کی قسم کھا رکھی ہے اور وہ پچھلے بائیس برس سے اس پر عمل پیرا ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق ضلع ناظم امجد جوئیہ نے انہیں یقین دلایا تھا کہ سال دو ہزار پانچ کے اوائل میں انہیں اپنی سابقہ زمینوں پر کاشتکاری کی اجازت دے دی جائے گی۔ ’لیکن جب ایسا نہ ہوا تو ہم نے اپنا اتحاد اور عزم دکھانے کے لیئے پینتیس ایکڑ اراضی پر قبضہ کر لیا‘۔

پاکپتن کے قریبی ضلع اوکاڑہ میں بھی مزارعین اور ملٹری فارم کی انتظامیہ پچھلے ایک عرصہ سے ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار ہیں اور یہ تنازعہ وقتاً فوقتاً ذرائع ابلاغ کی سرخیوں میں نمایاں ہوتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد