سرکاری اراضی لیز پر دینے کی نئی پالیسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کی حکومت سرکاری اراضی لیز پر دینے کے لیے نئی پالیسی تشکیل دے رہی ہے۔ جبکہ فی الوقت سرکاری اراضی کسی کو بھی لیز پر دینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وزیرِ کالونیز مناظر علی رانجھا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لیز ختم ہوجانے کے باوجود ملٹری فارم لاہور کی زمین کا قبضہ فوج کے پاس ہے اور وہاں سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی فوج کو ہی جاتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ مزارعین کا پنجاب حکومت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور زمیندار فوج ہے اور ان کو اگر کوئی مسئلہ ہے تو وہ ان کا زمیندار (فوج) ہی حل کر سکتا ہے۔ صوبہ میں اس وقت حکومتِ پنجاب کی اراضی پر واقع ملٹری فارم برکی روڈ لاہور، اوکاڑہ ملٹری فارم اور رینالہ سٹیٹ ملٹری فارم مزارعین اور فوج کے درمیان تنازعہ کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔ اوکاڑہ ملٹری فارم کے مزارعین نے فوج اور رینجرز کی جانب سے مبینہ طور بے دخل کیے جانے کے خلاف سنہ دو ہزار سے تحریک شروع کر رکھی ہے۔ ان کی تحریک کے نتیجے میں دو ہزار پانچ میں رینجزر کو حکومت نے مداخلت سے روک دیا اور آہستہ آہستہ وہاں قائم رینجرز کی چوکیاں بھی ختم کر دی گئیں۔جس کے بعد مزارعین اوکاڑہ اور رینالہ میں نہ صرف کاشت کاری کر رہے ہیں بلکہ پوری پیداوار بھی خود ہی لے رہے ہیں ۔ تاہم صوبائی حکومت نے مالکانہ حقوق دینے والا ان کا مطالبہ تاحال تسلیم نہیں کیا۔ اوکاڑہ ملٹری فارم ساڑھے آٹھ ہزار ایکڑ سے زیادہ اراضی پر قائم ہے۔ جبکہ رینالہ سٹیٹ کے اراضی تین ہزار ایکڑ سے زیادہ ہے۔ ملٹری فارم لاہور کے مزارعین بھی فوج کی لیز ختم ہو جانے کے باوجود ان کو مالکانہ حقوق نہ ملنے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ فوج کی لیز دو ہزار پانچ میں ختم ہو چکی ہے لیکن وہ اب بھی تیرہ ہزار ایکڑ زرعی زمین پر قابض ہے اور مزارعین کو بے دخل کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔جبکہ یہ زمین پنجاب حکومت کی ملکیت ہے ۔ مزارعین کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس زمین پر ایک سو تین سال سے کھیتی کررہے ہیں اور اب ان کا قانونی طور پر یہ حق بن گیا ہے کہ اس زمین کے مالکانہ حقوق ان کہ دیے جائیں۔ اور فوج کی لیز میں توسیع نہ کی جائے۔
مزارعین کا دعویٰ ہے کہ بورڈ آف ریونیو سے لے کر سپریم کورٹ تک سب نے ان کے حق میں فیصلہ دیا ہے لیکن فوج کے قبضے کی وجہ سے صوبائی حکومت بھی بے بس ہے اور ان کو مالکانہ حقوق نہیں دیئے جا رہے۔ اب نئی لیزنگ پالیسی کے بعد ہی متنازعہ سرکاری اراضی اور مزارعین کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے کہ آیا حکومتِ پنجاب سرکاری اراضی کے مالکانہ حقوق مزارعین کو دیتی ہے کہ فوج کو یہ زمین دوبارہ لیز پر دی جاتی ہے۔اس صورت میں فوج مزارعین سے کاشتکاری کروائے گی یا کہ ان کو بے دخل کر دیا جائے گا۔ مناظر حسین رانجھا کے مطابق نئی لیزنگ پالیسی کی تشکیل کے بعد ملٹری فارمز سمیت تمام سرکاری اراضی کے حوالے سے فیصلے کئے جائیں گے۔ حکومت جو پالیسی تشکیل دے رہی ہے وہ عام شہریوں اور فوج کےلیے یکساں ہوگی۔ مزارعین کے مطالبے کے حوالے سے متعلقہ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ مزارعین ہمارے پاس کبھی نہیں آئے ۔ان کے مطابق ’مجھے نہیں پتہ کہ مزارعین کون سی عدالت میں گئے ہیں اور کس عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ کیا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ کے وزیراعلیٰ نے لیز پر پابندی عائد کر رکھی ہے جو کہ ان کا صوابدیدی اختیار ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ لیزنگ کی نئی پالیسی آنے کے بعد فوج کو اگر یہ اراضی دوبارہ لیز پر دینے کا فیصلہ کیا گیا تو لیز کی توسیع دو ہزار پانچ سے ہی نافذِالعمل ہوگی۔ لیز کی میعاد بڑھانے کے بعد ہی فوج کے ساتھ لیز کی رقم اور دیگر شرائط طے کی جائیں گے۔ لیز دوبارہ فوج کو دینے اور مزارعین کے مستقبل سے متعلق جب ان سے پوچھا گیا تو صوبائی وزیر نے کہا ’یہ مزارعین اور فوج کا آپس کا معاملہ ہے فوج زمیندار ہے اور زمین کاشت کرنے والے اس کے مزارعے ہیں لہذا اس معاملے سے حکومتِ پنجاب کا کوئی لینا دینا نہیں ہے‘۔ ملٹری فارم لاہور کے مزارعین ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی لاہور پر بھی الزام عائد کر رہے ہیں کہ وہ فیز پانچ، چھ اور سات میں توسیع کرنے کے لیے ان سے یہ زمین خالی کرانا چاہتی ہے۔ جبکہ ڈی ایچ اے نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ڈی ایچ اے کے ترجمان تجمل حسین نے چیئرمین کے حوالے سے بتایا کہ نہ تو ڈی ایچ اے کا اُس طرف ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کا کوئی ارادہ ہے اور نہ ہی مزارعین کو کسی نے ڈرایا دھمکایا ہے۔
اوکاڑہ اور رینالہ سٹیٹ ملٹری فارم کا معاملہ ملٹری فارم لاہور سے کچھ مختلف ہے۔ لاہور ملٹری فارم کی لیزر تو ننانوے سال تک فوج رہی ہے لیکن انجمن مزارعین پنجاب کے نائب صدر ندیم اشرف کے بقول اوکاڑہ اور رینالہ سٹیٹ کی اراضی کبھی بھی لیز پر فوج کے پاس نہیں رہی رینالہ سٹیٹ تو انیس سو بانوے تک انگریز کی ملکیت رہا ہے اس کے بعد فوج اس پر قابض ہو گئی۔ جبکہ اوکاڑہ فارم کی لیزکے متعلق کئی بار لاہور سے بورڈ آف ریونیو فارم کی انتظامیہ کو نوٹس بھیج چکی ہے کہ بتایا جائے کہ ان کو سرکاری اراضی کی لیزنگ کس نے اور کن شرائط پردی۔ مزارعین کے اس رہنما (جوکہ رینالہ خورد کی یونین کونسل نمبر پینتیس کے ناظم بھی ہیں) کے مطابق ایک بار بھی ملٹری فارم انتظامیہ نے بورڈ کے نوٹس کا جواب نہیں دیا۔ انہوں نے بتایا کہ مزارعین کی تحریک کے بعد اب وہاں پر فوج نہیں آتی نہ ہی بٹائی میں فوج کو حصہ دیا جاتا ہے۔ ’ہم نے حکومت پنجاب کو بٹائی سے حصہ لینے کا کہا تھا لیکن حکومت نے ہماری اس پیشکش کا کوئی بھی جواب نہیں دیا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ مزارعین تین نسلوں سے کاشتکاری کرتے آ رہے ہیں۔ ٹیننسی ایکٹ کہ مطابق اگر کوئی مزارع پانچ سال تک سرکاری اراضی کاشت کرتا ہے تو اس اراضی پر مزارع کا حق بن جاتا ہے۔ پہلے یہ مدت پندرہ اور پینتیس سال بھی رہی ہے لیکن نواز شریف کے دور میں اس میں ترمیم کر کے یہ مدت پانچ سال کر دی گئی تھی۔ | اسی بارے میں ’فوج ہماری زمین پر قبضہ کر رہی ہے‘15 April, 2007 | پاکستان کوئٹہ: زمینداروں کی احتجاجی ریلی11 April, 2007 | پاکستان اوکاڑہ: کرنل اور اہلخانہ کا قتل21 April, 2007 | پاکستان ازبک جنگجوؤں کے خلاف فوج تعینات07 April, 2007 | پاکستان پنجاب کو مالی بحران کا سامنا26 December, 2006 | پاکستان ’پارا تھرمامیٹر دا‘ 07 March, 2007 | پاکستان پنجاب کی صوبائی وزیر ظل ہما قتل20 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||