BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 December, 2006, 11:23 GMT 16:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب کو مالی بحران کا سامنا

ترقیاتی فنڈ پر صرف حکومتی اراکان کا حق ہے
پنجاب حکومت کو سالانہ میزانیہ سے زیادہ اخراجات کرنے کے باعث رواں مالی سال میں تقریباً بیس ارب روپے کی قلت کا سامنا ہے۔

تاہم صوبائی وزیر خزانہ حسنین دریشک نے بی بی سی سے کہا کہ ان کے خیال میں شاید صورتحال ایسی نہیں ہے۔

محکمہ خزانہ کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کو بقر عید پر یکم جنوری کی تنخواہیں چھبیس دسمبر کو دینے کے بعد پنجاب حکومت کے خزانہ میں کیش (نقد زر) ختم ہوجائے گا اور نقد رقوم کی کمی کے باعث صوبائی محکمہ خزانہ نے مختلف محکموں کو جاری کی جانے والی رقوم کی ادائیگی سست کردی ہے۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کیش کی قلت کے باعث گزشتہ مہینہ صوبائی حکومت نے محکمہ خوراک کے اکاؤنٹ سے دو ارب روپے حاصل کرکے اپنا کام چلایا حالانکہ یہ رقوم محکمہ خوراک نے بنکوں کو واپس کرنا تھیں۔ محکمہ خوراک کو ایک ماہ بعد یہ رقم واپس کی گئی۔

محکمہ خزانہ کے اہلکاروں کے مطابق مالی تنگدستی کے باعث اس ماہ دسمبر سے پنجاب حکومت کو ہر اگلےمہینہ میں دو سے تین ارب روپے مالیت کے کیش (نقد زر) کی کمی کا سامنا متوقع ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پنجاب کے کُل وسائل کا اسی فیصد حصہ وفاق سے قومی مالیاتی کمیشن کے حصہ میں سے آتا ہے اور چونکہ مرکزی بورڈ آف ریونیو اپنے ہدف کے مطابق محصولات جمع کررہا ہے اس لیے پنجاب کو وقت پر اپنا حصہ مل رہا ہے۔

تاہم سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کیش میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے عام انتخابات کے مد نظر کم سے کم بیس ارب روپے مالیت کے ایسے ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع کر دیا ہے جن کے لیے بجٹ میں رقوم مختص نہیں کی گئیں تھیں۔

پنجاب کے منصوبے
 بجٹ میں رقم مختص نہ ہونے کے باوجود حکومت نے فیصل آباد اور وزیر آباد میں کارڈیک انسٹی ٹیوٹ، میو ہسپتال لاہورمیں نیا سرجیکل ٹاور، سروسز ہسپتال لاہور میں میڈیکل کالج کے لیے نئی عمارت کی تعمیر، اور گلبرگ اور نواحی علاقوں میں سیوریج، سڑکوں اور پارکنگ پلازوں کی تعمیر جیسے منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔

ان منصوبوں میں فیصل آباد اور وزیر آباد کے کارڈیک انسٹی ٹیوٹ، میو ہسپتال لاہورمیں نیا سرجیکل ٹاور، سروسز ہسپتال لاہور میں میڈیکل کالج کے لیے نئی عمارت کی تعمیر، اور (گلبرگ اور نواحی علاقوں) میں سیوریج، سڑکوں اور پارکنگ پلازوں کی تعمیر جیسے منصوبے شامل ہیں۔

اگلے روز راولپنڈی میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر اعلی چودھری پرویز الہی نے کہا کہ راولپنڈی شہر میں اٹھارہ ارب روپے سے زیادہ مالیت کے ترقیاتی پروگراموں پر کام ہورہا ہے۔ چند سال پہلے پنجاب کا کل ترقیاتی بجٹ اٹھارہ ارب روپے مالیت کا تھا۔

صوبائی حکومت نے سکولوں کے شعبہ میں اصلاحات کے عنوان سے ایک منصوبہ شروع کیا ہوا ہے جس کی اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں تشہیر پر تین برسوں میں نوے کروڑ سے زیادہ خرچ کیے جا چکے ہیں۔

وزیراعلی پنجاب نے حال ہی میں لبرٹی پارکنگ پلازا کی تعمیر کے لیے دس کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے فنڈز جاری کیے ہیں جو سالانہ میزانیہ کا حصہ نہیں تھے۔

بارہ ارب روپے تو حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی کے حلقوں میں ان ارکان کی سفارش پر ترقیاتی کام کروانے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

ہر حکومتی رکن صوبائی اسمبلی کی سفارش پر تین کروڑ روپے جبکہ رکن قومی اسمبلی کی سفارش پر دو کروڑ روپے کے ترقیاتی کام ان کے حلقوں میں کروائے جارہے ہیں۔

سرکاری ارکان اسمبلی کی سفارش پر ترقیاتی کاموں کی نگرانی اور رابطہ کے لیے دارالحکومت لاہور (ماڈل ٹاؤن) میں ایک پراجیکٹ مینجمینٹ یونٹ (پی ایم یو) بھی حال ہی میں قائم کیا گیا ہے اور ایک سینئیر انجینئیر کو اس کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔

صوبائی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت اپنے مالی بحران سے نپٹنے کے لیے وفاقی حکومت سے وہ اربوں روپے واپس مانگ رہی ہے جو اس نے زیادہ سود والے قرضے ریٹائر کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو ادا کردیے تھے لیکن وفاقی حکومت ان قرضوں کو ریٹائر کرنے پر رضا مند نہیں ہوئی تھی۔

محکمہ خزانہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اربوں روپے کے منصوبے ایک دم شروع کرنے کے باعث نقد زر (کیش) میں کمی کا سامنا ہے اور اس کی وجہ سے ان منصوبوں پر کام کی رفتار بہت سست ہوگئی ہے۔

محکمہ خزانہ کے افسران کا کہنا ہے کہ اگر نقد زر ( کیش) کی قلت جاری رہی تو صوبے میں شروع کیے گئے بڑے بڑے منصوبوں کا نام تو رہے گا لیکن ان کی تکمیل معینہ مدت کی بجائے طویل عرصہ بعد ممکن ہوسکے گی اور یا صوبائی حکومت کو دس سے بارہ فیصد شرح سود پر بنکوں سے اوور ڈرافٹ لینا پڑے گا۔

اسی بارے میں
پنجاب کتنا پڑھا لکھا ہے؟
25 December, 2006 | پاکستان
تنخواہ ضبط کرنے کا حکم
06 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد