’پارا تھرمامیٹر دا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چند سال پہلے کالم نگار اور شاعر منوبھائی نے اپنی پنجابی نظم ’اجے قیامت نئیں آئی‘ میں لکھا تھا: پارا تھرمامیٹر دا سیاست چودھری طالب دی (پارا تھرمامیٹر کا سیاست چودھری طالب کی فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے چودھری طالب نےگزشتہ روز اپنے بھتیجے اور مسلم لیگ (ق) کے رہنما سعید اقبال چودھری کے ساتھ ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ آئندہ انتخاب کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرنے کا سلسلہ فیصل آباد کی ایک نشست تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں انتخابات کا باقاعدہ اعلان نہ ہونے کے باوجود انتخابی صف بندی کا آغاز ہوچکا ہے اور صدر مشرف کے چند اتحادیوں کی جانب سے انتخابی عمل کو ایک سال تک کے لیے ملتوی کرنے کے مطالبے کے باوجود اس کی رفتار میں کوئی کمی نہیں آئی۔ چودھری طالب کی سیاست اور تھرمامیٹر کے پارے سے متعلق منو بھائی کے حوالے کو سمجھنے کے لیے ان کے سیاسی سفر کو جاننا بہت ضروری ہے۔ ستر کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہونے والے چودھری طالب غلام مصطفیٰ کھر کے دستِ راست اور ان کی کابینہ میں صوبائی وزیر تھے۔ بعد میں چودھری صاحب نے بھٹو کے خلاف بغاوت کرنے والے اس وقت کے شیرِ پنجاب (غلام مصطفیٰ کھر) کے ساتھ پیپلز پارٹی کو چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے ضیاء دور میں پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ حنیف رامے کے ساتھ پیر پگارا کی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ بعد میں بھی وہ مختلف سیاسی پارٹیوں میں آتے جاتے رہے۔
سن دو ہزار دو میں ہونے والے انتخابات میں انہوں نے فیصل آباد کی قومی اسمبلی کی ایک نشست سے مسلم لیگ (ق) کے امیدوار کے طور پر حصہ لیا لیکن وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر نثار احمد بندیشہ سے ہار گئے۔ اب ڈاکٹر نثار احمد بندیشہ براستہ پی پی پی پیٹریاٹ مسلم لیگ میں پہنچ چکے ہیں اور امید یہی تھی کہ آئندہ انتخابات میں چودھری طالب کا خاندان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے گا۔ اس سے پہلے جھنگ سے سیدہ عابدہ حسین بھی پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد پی پی پی پیٹریاٹ کے مرکزی رہنما کی حیثیت سے مسلم لیگ میں شامل ہونے والے سید فیصل صالح حیات کا مقابلہ کرنے کے لیے بینظیر بھٹو سے ہاتھ ملا چکی ہیں۔ ان کے شوہر سید فخر امام بھی ایک اور پیٹریاٹ رضا ہراج کے مقابلے میں انتخابی میدان میں اتر سکتے ہیں۔ دیگر سیاسی پارٹیوں میں بھی کچھ اسی طرح کی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
پہلے بابائے جمہوریت نوابزدہ نصراللہ خان کے صاحبزادوں کی مسلم لیگ میں شمولیت کی خبریں آئیں۔ پھر پیپلزپارٹی پیٹریاٹ اپنے ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کو سرکاری پارٹی کے ٹکٹ ملنے کی امید میں مسلم لیگ میں ضم ہوگئی۔ اس سے پہلے سابق صدر فاروق لغاری کی ملت پارٹی والا نیشنل الائنس، مسلم لیگ چٹھہ، میاں منظور وٹو کی مسلم لیگ (جناح)، اعجاز الحق کی مسلم لیگ اور دیگر کئی چھوٹی بڑی جماعتیں سرکاری مسلم لیگ میں ضم ہو چکی ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو حکومتی مسلم لیگ کے پاس ایسے مضبوط امیدواروں کی کوئی کمی نہیں ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے کامیابی پہ کامیابی حاصل کیے جا رہے ہیں۔ ماضی کا ریکارڈ سامنے رکھتے ہوئے ان امیدواروں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہونے کے بارے میں بھی کسی کو کوئی شک نہیں ہے جو ملک کے پیشتر علاقوں میں جیت اور ہار کے درمیان بنیادی فرق بن کر سامنے آتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر چودھری طالب سرکاری مسلم لیگ کو چھوڑ کر پی پی پی میں شمولیت کا فیصلہ کرتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔ اب یا تو انہیں مبینہ مشرف بینظیر معاہدے کی کامیابی کا پختہ یقین ہے یا پھر انہوں نے ووٹر کے موڈ میں کوئی غیر معمولی تبدیلی دیکھی ہے۔ | اسی بارے میں کون سچا، کون جھوٹا؟02 August, 2005 | پاکستان انتخابات: پہلے سے زیادہ امیدوار23 July, 2005 | پاکستان ’انتخابات سے قبل دھاندلی ‘03 August, 2005 | پاکستان انتخابات: پنجاب میں زیادہ امیدوار21 July, 2005 | پاکستان انتخابات میں یورپی یونین کی دلچسپی01 June, 2006 | پاکستان ’نواز، بینظیر انتخابات میں نہیں‘11 October, 2006 | پاکستان ’انتخابات کی بھر پور تیاریاں جاری‘18 December, 2006 | پاکستان عام انتخابات: اس بار کیا ہوتا ہے؟ 29 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||