BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 April, 2007, 12:59 GMT 17:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ: زمینداروں کی احتجاجی ریلی

کوئٹہ میں کسانوں کا احتجاج (فائل فوٹو)
زمینداروں کے مطابق اکثر شہروں میں ایک یا دو گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے
بلوچستان کے زمینداروں نے بدھ کو کوئٹہ میں احتجاجی ریلی نکالی ہے اور چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

زمینداروں نے کہا ہے کہ اکثر شہروں میں صرف ایک سے دو گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے جس سے سیب اور انگور کے علاوہ ٹماٹر، پیاز اور زیرے کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

بلوچستان میں گزشتہ دو ہفتوں میں کوئی آٹھ بجلی کے کھمبوں کو دھماکوں سے اڑایا گیا تھا جن کی مرمت کا کام مکمل ہونے کو ہے۔

کوئٹہ میں زمینداروں کی ریلی زرغون روڈ اور انسکمب روڈ سے ہوتی ہوئی کوئٹہ پریس کلب پہنچی جہاں صوبہ بھر سے آئے ہوئے زمینداروں نے زبردست نعرہ بازی کی۔

زمینداروں نے کہا ہے کہ صوبے کے اکثر شہروں میں ایک یا دو گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے جس سے ٹیوب ویل چل تو جاتے ہیں لیکن پانی کی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ان ہی دنوں میں کھمبوں پر حملے کیے گئے لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان پر حملے کن لوگوں نے کیے ہیں۔ زمینداروں کے مطابق یہی دن فصلوں کو سیراب کرنے کے ہوتے ہیں اور ان ہی دنوں میں درختوں اور فصلوں پر کیڑے حملہ کرتے ہیں۔

اکثر شہروں میں صرف ایک سے دو گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے جس سے سیب اور انگور کے علاوہ ٹماٹر، پیاز اور زیرے کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے
زمیندار احتجاج

زمیندار ایکشن کمیٹی کے چئرمین عبدالرحمان بازئی نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ بجلی کے کھمبوں کو دھماکوں سے کون اڑاتا ہے لیکن اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کی حفاظت کرے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو بجلی کی ضرورت ساڑھے نو سو میگا واٹ ہے لیکن اس وقت صرف ایک سو میگا واٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ہر زمیندار اور کاشتکار نے حالیہ فصلوں کے لیے چار سے پانچ لاکھ روپے بیج اور دیگر ضروریات پر خرچ کیے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ ضائع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک ہفتے کے دوران بجلی بحال نہ کی گئی تو وہ انتہائی قدم اٹھائیں گے۔

اس سلسلے میں کوئٹہ میں بجلی فراہم کرنے والے محکمے کے سربراہ شفیق خٹک سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے کہا کہ بجلی کی کمی کھمبوں پر دھماکوں کی وجہ سے ہوئی ہے اور آج ان کھمبوں کی مرمت مکمل ہوچکی ہے لیکن بجلی کی مکمل بحالی ترسیل میں نقص کی وجہ سے نہیں ہوسکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دن آٹھ گھنٹے بجلی فراہم کی جارہی ہے اور مرمت کے بعد چوبیس گھنٹے بجلی تو فراہم نہیں کی جاسکے گی لیکن صورتحال بہتر ہو جائے گی۔

یاد رہے مارچ کے آخری ہفتے سے بجلی کے کھمبوں پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور نامعلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اسی بارے میں
کوئٹہ: دو راکٹ حملے
18 December, 2006 | پاکستان
کوئٹہ دھماکہ شہ سرخیوں میں
18 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد