کوئٹہ دھماکہ شہ سرخیوں میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کو بلوچستان کے اخبارات میں سینیئر سول جج کی عدالت میں دھماکے کی خبریں چھائی ہوئی ہیں اور کچھ اخبارات نے اس خبر کو آٹھ کالم میں ذیلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ سنیچر کے اس واقعے کے بعد لوگوں میں خوف بھی تھا اور وہ افسردہ بھی تھے۔ اتوار کو اخبارات کے قاری صبح سے اخبارات کے سٹال پر پہنچ گئے تھے۔ تاہم کچھ بڑے اخبارات آخری اطلاعات کا انتظار کرتے رہے یہی وجہ تھی کہ صبح اخبار مارکیٹ میں اخبارات تاخیر سے پہنچے۔ ان اخبارات میں جہاں واقعے کا ذکر ہے وہاں حکومت کے اقدامات کا بھی ذکر ہے اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کا سخت رد عمل بھی شائع کیا گیا ہے۔ ان رہنماؤں نے حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہو جائے۔ ایک کالمی خبروں میں کئی واقعات کا ذکر ہے جیسے کوئٹہ میں دو سال کے دوران عدالت کے احاطے میں یہ تیسرا واقعہ ہے اس کے علاوہ ہلاک ہونے والا ایک منشی شہریار والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اور اس کے باپ پر غشی کے دورے شروع ہوگئے۔ ایک خبر یہ ہے کہ کمرہ عدالت کے باہر چپڑاسی نے اگلی پیشی کے لیے آواز لگائی ہی تھی کہ زور دار دھماکہ ہو گیا۔ یہ خبر بھی شائع ہوئی ہے کہ وکلا برادری نے ہسپتال میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی اور بنیادی ضروریات کی کمی پر شدید احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ اس پریشانی میں صوبائی اور ضلعی حکومت کے حکام کافی تاخیر سے پہنچے۔ ہلاک ہونے والے جج عبدالواحد درانی کے بارے میں ایک خبر یہ شائع ہوئی ہے کہ انھوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت کے شعبے سے کیا اور انہوں نے پسماندگان میں بیوہ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ | اسی بارے میں کوئٹہ دھماکے کے بعد 30 گرفتار18 February, 2007 | پاکستان ’حملہ آورکاسراسلام آباد جارہا ہے‘17 February, 2007 | پاکستان کوئٹہ: سوگ اور معاوضوں کا اعلان17 February, 2007 | پاکستان کوئٹہ بم دھماکے میں پندرہ ہلاک17 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||