BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 February, 2007, 06:44 GMT 11:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ بم دھماکے میں پندرہ ہلاک

کوئٹہ میں دھماکہ
حالیہ کچھ ہفتوں میں ملک کے مختلف شہروں میں بم حملے ہوئے ہیں
کوئٹہ کی ضلع کچہری میں ایک عدالت کے اندر ہونے والے بم دھماکے میں ایک جج اور سات وکلاء سمیت پندرہ افراد ہلاک جبکہ چونتیس زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دھماکہ ایک سینیئر سول جج کی عدالت میں داخل ہوتے ہی دروازے کے قریب کونے میں ہوا ہے۔ ایک عینی شاہد صلاح الدین اچکزئی نے بتایا ہے کہ دھماکے والی جگہ سے ایک انسانی سر ملا ہے، جس پر چھوٹی داڑھی اور لمبے بال تھے۔

کوئٹہ کے پولیس افسر راہو خان بروہی کے مطابق یہ خود کش حملہ ہی لگتا ہے، لیکن اس بارے میں ابھی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس دھماکے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔
جسم کرسی اور سر میز پر
 جب ہم لاشیں اٹھا رہے تھے تو دیکھا کہ جج عبدالواحد درانی کی لاش ان کی نشست پر اور سر میز پر تھا
عینی شاہدین

ایک اور عینی شاہد ایڈووکیٹ راشد اعوان نے بتایا کہ عدالت کے باہر کھڑے تھے کہ ایک شخص انہیں دھکا دے کر تیزی سے کمرہ عدالت کی طرف بڑھ رہا تھا۔ انہوں نے اس شخص آرام سے چلنے کے لیے کہا تو اس نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں ہے، اس نے شہادت دینی ہے۔

ایڈووکیٹ اعوان نے کہا کہ کچھ ہی دیر بعد دھماکہ ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو جائے واردات سے جو سر ملا ہے وہ اسی شخص کا معلوم ہوتا ہے جو ان کے پاس سے گزرا تھا۔

شہادت دینے والا
 ایک شخص مجھے دھکا دے کر تیزی سے کمرہ عدالت کی طرف بڑھ رہا تھا۔ میں نے اسے انتظار کرنے کے لیے کہا تو اس نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں ہے اور اس نے شہادت دینی ہے
عینی شاہد
صوبائی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ اگرچہ اس دھماکے میں حکومت کو موردِ الزام نہیں ٹھرایا جا سکتا لیکن اگر کوئی بھی اہلکار غفلت کا مرتکب پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی ضرور ہو گی۔

بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ یہ واقعہ حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے رونما ہوا ہے۔ ’جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں سیکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی اور غیر ضروری افراد کے ساتھ پولیس اہلکاروں کو تعینات کر دیا جاتا ہے‘۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ دھماکے کے بعد ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا اور لوگ چیخ و پکار کر رہے تھے۔ ضلع کچہری کے گیٹ کے سامنے سینیئر سول جج کی عدالت کی دیوار اور کھڑکیاں ہیں۔ دھماکہ اس قدر زور دار تھا کہ شیشے کے ٹکڑے گیٹ کے باہر سڑک تک آئے ہوئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں سات وکلاء بھی شامل ہیں

ضلع کچہری کے صحن میں وکلاء بیٹھے ہوتے ہیں جبکہ برآمدے کے اندر عدالتیں اور بار روم ہیں۔ پہلی منزل پر پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے دفاتر ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکے کے بعد جب وہ لاشیں اٹھا رہے تھے تو انہوں نے دیکھا کہ جج عبدالواحد درانی کی لاش ان کی نشست پر اور سر میز پر تھا۔

زخمیوں کو کوئٹہ کے سول ہسپتال لے جایا گیا، جہاں لوگوں کا بہت زیادہ ہجوم دیکھنے میں آیا جو اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کو دھونڈنے میں سر گرداں تھے۔ جن کے رشتہ دار ہلاک ہو گئے تھے ان میں سے بیشتر یا تو رو رہے تھے یا غصے میں چلاتے ہوئے حکمرانوں کے خلاف باتیں کر رہے تھے۔

نوٹ: اگر آپ ضلع کچہری دھماکے کے عینی شاہد ہیں تو آپ ہمیں اپنی یاداشتیں ای میل فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد