BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 February, 2007, 09:49 GMT 14:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: مشتبہ خودکش بمبارگرفتار

کراچی: فائل فوٹو
پولیس کے مطابق ملزمان نے کئی حملے کرنے کا منصوبہ بنایا تھا
کراچی پولیس نے تین مشتبہ خود کش بمباروں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزماں نے دفاعی اسلحے سازی کی نمائش ’آئیڈیاز دو ہزار چھ‘ اور دس محرم کو حملے کی منصوبہ بندی کی تھی جس میں وہ ناکام رہے۔

ایس پی سی آئی ڈی فیاض خان نے بتایا ہے کہ تینوں ملزمان کو شہر کے علاقے گلستان جوہر سے مقابلہ کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ جن کی شناخت شاہد، فرحان اور عبدالغنی کے ناموں سے ہوئی ہے۔

پولیس کے مطابق شاہد اور فرحان کراچی جبکہ عبدالغنی وزیرستان کا رہنے والا ہے۔ پولیس نے ملزمان سے تین دستی بم، دو عدد ٹی ٹی پستول ، ایک کلاشنکوف اور خودکش حملے میں استعمال ہونے والی دھماکہ خیز جیکٹ برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کے کہنا ہے کہ ملزماں کا تعلق قاری ظفر گروپ سے ہے جو القاعدہ کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

سی آئی ڈی پولیس کے مطابق ملزماں نے کراچی میں نومبر میں ہونے والی اسلحہ سازی کی نمائش’ آئیڈیاز دو ہزار چھ‘ میں خودکش حملے کی منصوبہ بندی کی تھی، جس میں وہ کامیاب نہ ہوسکے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملزمان نے ’آئیڈیاز دو ہزار چھ‘ میں آنے والے غیر ملکی وفود پر بھی حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

ملزمان نے تفتیش کے دوراں مستقبل میں ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ دیگر خودکش بم حملوں کے حوالے سے بھی انکشافات کیے ہیں۔

فیاض خان کے مطابق ملزمان کو خودکش حملوں اور دیگر کارروائیوں کے لیے وانا میں اعظم ورسک ،وزیرستان میں قاری ظفر ، مولوی عباس ، کمانڈر جاوید اور کچھ غیر ملکیوں دہشت گردوں نے بھی تربیت دی ہے اور یہ لوگ پورے پاکستان میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی کرتے رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے دس محرم کو بھی بم حملہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن سخت حفاظتی انتظامات کی وجہ سے وہ اپنی کوشش میں ناکام رہے۔

پولیس نے بتایا کہ ملزمان نے چہلم کے موقعے پر نکلنے والے ماتمی جلوس پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔ جس کے لیے عبدالغنی کو تیار کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ کراچی میں محرم الحرم میں دہشت گردی کے خدشات کی وجہ سے ہائی الرٹ ہے۔ اس دوران پولیس کو کئی مرتبہ بم کی جھوٹی اطلاعات بھی ملی ہیں۔

بیت اللہ محسود’میں ملوث نہیں‘
بیت اللہ کا خود کش حملوں سے اعلان لاتعلقی
پشاور دھماکہ (فائل فوٹو)انسانی جان کی ارزانی
پشاور خود کش حملے پر ہارون رشید کا تجزیہ
خودکش حملے کیوں؟
پاکستان میں خود کش حملوں کا بڑھتا رجحان
خواب بنا زندگی
’خود کش حملہ آووروں کا کوئی خواب نہ تھا‘
اسی بارے میں
مزید خود کش حملوں کا خطرہ
13 November, 2006 | پاکستان
خود کش حملہ آوروں کے خاکے
08 February, 2007 | پاکستان
خود کش حملے میں 42 فوجی ہلاک
09 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد