BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 November, 2006, 12:11 GMT 17:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’باجوڑ میں مرنے والے دہشتگرد تھے‘

شیرپاؤ
باجوڑ مدرسے پر حملے میں مرنے والے وہاں خود کش حملوں کی تربیت کے لیے پہنچے تھے۔|آفتاب شیرپاؤ
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے باجوڑ حملے کے مزید ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ درگئی میں زیر تربیت فوجیوں پر خود کش حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال تیس اکتوبر کو باجوڑ کے ایک مدرسے پر حملہ ہوا جس میں اسی افراد مارے گئے۔ اس بارے میں حکومت کہتی ہے کہ مرنے والے دہشت گرد تھے جبکہ بعض مذہبی جماعتوں کے رہنما کہتے ہیں کہ مارے جانے والے بیگناہ تھے۔


اس واقعہ کے چند روز بعد ایک خود کش بمبار نے درگئی میں زیر تربیت فوجیوں پر حملہ کرکے بیالیس فوجی ہلاک کردیئے تھے۔

وزیر داخلہ نے پارلیمان کے کیفے ٹیریا میں نیوز کانفرنس میں بتایا کہ شدت پسندوں کے کمانڈر مولوی فقیر محمد اور ہلاک شدہ مولوی لیاقت القاعدہ کے غیر ملکی شدت پسندوں کو پناہ دیتے رہے ہیں۔

وزیر داخلہ کے مطابق القاعدہ کے اہم رہنما

مولوی فقیر پناہ دیتا ہے
 القاعدہ کے اہم رہنما ابو فراج اللبی کو جب گرفتار کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ مولوی فقیر محمد کے گھر ٹھہرتے تھے۔جب مولوی فقیر محمد کے گھر پر چھاپہ مارا تو وہ خود بھاگ گئے لیکن ان کے گھر میں سے تیرہ غیر ملکی شدت پسند گرفتار کیے گئے۔
وزیر داخلہ
ابو فراج اللبی کو جب گرفتار کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ مولوی فقیر محمد کے گھر ٹھہرتے تھے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ رواں سال بیس اپریل کو جب القاعدہ کے بم بنانے کا ماہر مروان السوری مارے گئے تو ان سے ملنے والی ڈائری سے بم بنانے کی ترکیب اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں کافی اہم معلومات ملیں۔

وزیر کے مطابق باجوڑ میں مدرسہ پر حملے سے پہلے اس علاقے سے سرکاری اہلکاروں پر سینتیس میزائیل حملے ہو چکے تھے جس میں سات لیویز اہلکار ہلاک اور اتنی ہی تعداد میں زخمی ہوئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ جب ایک جگہ سے ایک میزائیل برآمد ہوا تو حکومت نے یہ پتہ چلانے کی کوشش کی کہ یہ میزائیل کہاں سے آتے ہیں اور جب اس سلسلے میں تربیت یافتہ کتوں کی مدد لی گئی تو کتے مولوی فقیر محمد کے گھر پہنچے۔

وزیر کے مطابق لیویز والے جب مولوی فقیر کے گھر کے پاس گئے تو ان پر میزائیلوں سے حملہ ہوا جس میں ایک اہلکار ہلاک ہوگیا۔

وزیر نے بتایا کہ ابو فراج اللبی سے ملنے والی معلومات کے بعد جب گزشتہ برس مولوی فقیر محمد کے گھر پر چھاپہ مارا تو وہ خود بھاگ گئے لیکن ان کے گھر میں سے تیرہ غیر ملکی شدت پسند گرفتار کیے گئے۔ ان میں ایک ازبک شہری بھی تھا جسے اپنے وطن روانہ کردیا گیا۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ القاعدہ کے حمزہ العربی جو باجوڑ میں خود کو حاجی نواب کہلاتے ہیں اس سمیت سعودی شہری اکرام الغامدی، ابو عبیدہ المصری، عبدالرحمٰن المغربی بھی مولوی فقیر محمد کے گھر اور مولوی لیاقت کے مدرسے میں آتے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ باجوڑ کے مدرسے میں خود کش بمباری کی تیاری کرنے والے اسی افراد پشاور، صوابی اور دیگر شہروں سے پہنچے تھے جو طالبعلم نہیں تھے۔

ان کے مطابق مرنے والے بمباروں میں سے کوئی حملے سے ایک دن پہلے وہاں پہنچے تو کوئی دو روز اور کچھ تین روز پہلے۔

شدت پسندوں کے پمفلٹ
 گزشتہ دوبرسوں میں مختلف اوقات میں تقسیم کیے جانے والے پمفلٹوں میں شدت پسندوں نے مقامی لوگوں کو ہدایت کی کہ انگریزی تعلیم حاصل کرنا غیر اسلامی ہے، پتلون پہنا کر بچوں کو سکول نہ بھیجو، این جی اوز علاقہ خالی کردیں، دیگر علاقوں سے پڑھانے کے لیے آنے والی استانیاں واپس جائیں، مڈل سکول اور اس سے اوپر کی کلاسوں میں کوئی لڑکی پڑھنے نہ جائے ورنہ انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا۔
آفتاب شیرپاؤ

آفتاب شیر پاؤ نے بتایا کہ اگر باجوڑ میں حملہ نہ کرتے تو یکم ستمبر سے پروگرام کے مطابق یہ خود کش بمبار وہاں سے ملک کے مختلف علاقوں میں حملوں کے لیے روانہ ہوجاتے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ باجوڑ سے دو منتخب اراکین اسمبلی میں سے ایک نے استعفیٰ دیا دوسرے نے ابھی تک نہیں دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ابھی تک ایک بچے کے مرنے کی شہادت سامنے نہیں لائی گئی اور شدت پسندوں نے وہاں بھاری اسلحہ کے زور پر عام لوگوں کو خوفزدہ کر رکھا ہے۔ ان کے مطابق باجوڑ سمیت مختلف علاقوں میں مدارس کے زیر زمین اسلحہ کے ذخیرے ہیں اور جب حملہ ہوتا ہے تو وہ پھٹتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ باجوڑ کے شرپسند عناصر جہاں دوسری طرف ( افغانستان) میں کارروائیاں کرتے ہیں وہاں اپنے علاقے میں بھی تشدد پھیلاتے ہیں۔ وزیر نے ایک سوال پر کہا کہ درگئی واقعہ میں کچھ گرفتاریاں ہوئی ہیں اور کافی مثبت پیش رفت ہو رہی ہے۔

انہوں نے باجوڑ میں گزشتہ دوبرسوں میں مختلف اوقات میں تقسیم کیے جانے والے پمفلٹ بھی دکھائے جس میں مقامی لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ انگریزی تعلیم حاصل کرنا غیر اسلامی ہے، پتلون پہنا کر بچوں کو سکول نہ بھیجو، این جی اوز علاقہ خالی کردیں، دیگر علاقوں سے پڑھانے کے لیے آنے والی استانیاں واپس جائیں، مڈل سکول اور اس سے اوپر کی کلاسوں میں کوئی لڑکی پڑھنے نہ جائے ورنہ انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا۔

وزیر نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل والے آئندہ انتخابات میں کامیابی کی خاطر باجوڑ کے واقعہ پر عوام کوگمراہ کر رہے ہیں اور وہ اس بار کسی طور پر ایسا نہیں کر پائیں گے۔

واضح رہے کہ سینٹ میں باجوڑ اور درگئی واقعہ پر تین روز سے بحث جاری تھی اور جب منگل کو بحث سمیٹ کر حکومتی موقف پیش کرنے وزیر داخلہ آئے تو مذہبی جماعتوں نے واک آؤٹ کرکے کورم کی نشاندہی کردی اور کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا اور وزیر داخلہ نے اپنا نکتہ نظر نیوز کانفرنس میں بیان کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد