’پختون قوم کو بقاء کا مسئلہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امن عامہ کی بگڑتی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیئے پختون امن جرگہ صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں شروع ہوا ہے۔ اس جرگے کے انعقاد کا اعلان عوامی نیشنل پارٹی نے باجوڑ میں ایک مدرسے پر پاکستانی فوج کی بمباری میں اسی افراد کی ہلاکت کے بعد کیا تھا۔ جرگے میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنما شرکت کر رہے ہیں۔ اے این پی کے مرکزی دفتر’باچہ خان مرکز‘ میں منعقد اس جرگے میں قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد مولانا فضل الرحمان، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، اے آر ڈی کے طفر اقبال جھگڑا، پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر رحیم داد خان اور جے یو آئی (س) کے رکن قومی اسمبلی حامد الحق شرکت کر رہے ہیں۔ اب تک کی تقاریر میں سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے واضع کیا ہے کہ پختونوں نے کبھی بھی جارحیت تسلیم نہیں کی ہے اور موجودہ حالات کے مقابلے کے لیئے انہیں سب سے زیادہ ضرورت اتحاد کی ہے۔ اس جرگے کا اعلان کرتے وقت اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی نے کہا تھا کہ پختون قوم کو آج بقاء کا مسئلہ درپیش ہے جس کا واحد حل حجرے اور مسجد کا اکھٹے ہونے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج صرف پختون کا، چاہے وہ افغانستان میں ہو یا پاکستان میں، خون بہایا جا رہا ہے۔ جرگے کے اختتام پر توقع ہے کہ مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ ادھر اس جرگے سے ایک روز قبل پشاور میں ہی متحدہ مجلس عمل نے تحفظ قبائل کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں قبائلی علاقوں سے فوج کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ | اسی بارے میں باجوڑ میں اے این پی کا جلوس 15 November, 2006 | پاکستان اورکزئی ایجنسی، جرگہ ناکام 08 October, 2006 | پاکستان حمایت یافتہ جرگہ کا نام ومقام تبدیل04 November, 2006 | پاکستان باجوڑ حملہ امریکہ نے کیا تھا: رپورٹ13 November, 2006 | پاکستان باجوڑ حملہ ملکی سالمیت پر حملہ09 November, 2006 | پاکستان ’حکومتی دعوے جھوٹ ہیں‘: باجوڑ کے زخمیوں کی باتیں01 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||