’اندورنی سلامتی کو خطرہ لاحق‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں گزشتہ چار روز کے دوران تین خود کش حملوں کے بارے میں پاکستان کی وزارتِ داخلہ میں قائم ’ کرائسس مینجمنٹ سیل‘ کے سربراہ بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ کہتے ہیں کہ تینوں وارداتیں منظم جرائم ہیں اور اس کا تعلق قبائلی شدت پسندوں سے ہو سکتا ہے۔ گزشتہ جمعہ کو اسلام آباد کے ایک فائیو سٹار ہوٹل، سنیچر کو پشاور اور پیر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں محرم الحرام کی نسبت سے منعقد کردہ پروگرامز میں تین خود کش بمباروں سمیت کم از کم سولہ افراد ہلاک اور اس سے زیادہ تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔ بریگیڈئر چیمہ کہتے ہیں کہ یہ حملے سکیورٹی ایجنسیز کے لیے چیلنج ضرور ہیں لیکن انہیں ان کی ناکامی نہیں کہا جاسکتا۔ ان کے بقول تینوں حملوں میں سکیورٹی اہلکاروں نے بڑی بہادری اور فرض شناسی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں ورنہ جس طرح کے حملے تھے اس میں کہیں زیادہ ہلاکتوں کا خدشہ تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ سکیورٹی ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں اور ابھی تک کسی نے نہ واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور بظاہر کوئی گرفتاری بھی عمل میں نہیں آئی تو انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں کے گروہ کے بارے میں تحقیقات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور اِس وقت اس کی تفصیل بتانا مناسب نہیں۔ باجوڑ اور وزیرستان میں سکیورٹی ایجنسیز کی حالیہ کارروائیوں کے بعد شدت پسندوں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ تمام پہلوؤں کو نظر میں رکھتے ہوئے تحقیقات آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ اسی حوالے سے سکیورٹی امور کے تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل(ر) طلعت مسعود نے کہا کہ پاکستان کی اندرونی سلامتی کو جو خطرہ آج لاحق ہے وہ ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ ان کے مطابق اس میں سب سے زیادہ ذمہ داری فوجی حکمرانوں باالخصوص جنرل ضیاءالحق پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’اِن دنوں اندرونی سلامتی کو جو خطرہ لاحق ہے وہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خطرہ ہے اور اس سے نمٹنا صدر مشرف کی فوجی حکومت کے بس میں نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے طالبان نواز شدت پسند حالیہ خود کش حملوں میں ملوث ہوسکتے ہیں اور قبائلی علاقوں سے شدت پسندی اب دیگر علاقوں تک پھیل رہی ہے۔ شدت پسندی کو روکنا حکومت اور قوم کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ جنرل(ر) طلعت مسعود کے مطابق اس خطرے کو صرف اور صرف عوام کی منتخب کردہ جمہوری حکومت ہی کم کرسکتی ہے اور وہی اس سے موثر طور پر نمٹ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ایک کمانڈر بیت اللہ محسود نے دھمکی دی تھی کہ وہ سکیورٹی ایجنسیز کی کارروائی کا ایسی جگہ بدلہ لیں گے جہاں حکومت کو تکلیف محسوس ہوگی۔ ماضی میں صدر جنرل پرویز مشرف کور کمانڈر کانفرنس کے دوران اور دیگر مواقع پر کئی بار کہتے رہے ہیں کہ پاکستان کی سلامتی کو اندرونی خطرہ لاحق ہے۔ بیشتر تجزیہ کار ان کے اس خدشے کو قبائلی علاقوں میں شدت پسندی اور بلوچستان میں مزاحمت کے تناظر میں دیکھتے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چار روز میں تین خود کش حملوں نے جہاں ملک کی اندرونی سلامتی کے لیے خطرہ بڑھاتے ہوئے صدر مملکت کے خدشات کو تقویت پہنچائی ہے وہاں سکیورٹی ایجنسیز کے لیے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑا ہے۔ | اسی بارے میں عاشورہ: فوج اور فرنٹیئر کور تعینات29 January, 2007 | پاکستان کراچی میں محرّم کاجلوس اور دھرنا29 January, 2007 | پاکستان بجلی کے تار گرنے سے دس افراد ہلاک28 January, 2007 | پاکستان پاکستان: سکیورٹی انتظامات سخت28 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||