BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 January, 2007, 15:26 GMT 20:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں محرّم کاجلوس اور دھرنا

جلوس
کراچی میں محرم کے جلوس کے لیے سخت حفاظتی بند وبست کیے گیے ہیں
کراچی میں نویں محرم الحرام کے جلوس کے موقع پر ملک کے بعض علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

جب محفل شاہ خراساں سے جلوس نکلا تو پولیس اور رینجرز کے جوان گشت کر رہے تھے اور جلوس کے راستے یعنی محمد علی جناح روڈ کی طرف نکلنے والی تمام سڑکوں اور گلیوں کی مکمل ناکہ بندی کی گئی تھی۔

ایم اے جناح روڈ پر واقع بڑی عمارتوں کی چھتوں پر بھی رینجرز کے اہلکار تعینات تھے اور ایک ہیلی کاپٹر بھی فضا سے نگرانی کر رہا تھا۔

تین لاپتہ شیعہ نوجوانوں کے اہل خانہ اور شیعہ تنظیموں نے ایم اے جناح روڈ پر احتجاجی دہرنا دیا اور لاپتہ افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ امام بارگاہ علی رضا کے سامنے لاپتہ نوجوانوں کی رشتے دار خواتین اور بچے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ لیکر بیٹھے۔اس دھرنے کی وجہ سے نویں محرم الحرام کا جلوس کئی گھنٹے تک رک گیا۔

اس دھرنےکو مرزا یوسف حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گورنر ہاؤس میں وزیر اعظم کو ایک ملاقات میں بتایا تھا کہ ان کے تین سنجیدہ اور پڑھ لکھے نوجوان سات ماہ لا پتہ ہیں، جن کے بارے میں آج تک یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔

ان کے مطابق وزیر اعظم نے اسی وقت نوجوانوں کے نام لیکر اپنے سیکریٹری کو ہدایت کی کہ ان کے بارے میں معلوم کرکے بتایا جائے۔

مرزا یوسف کے مطابق وزارت داخلہ نے اعتراف کیا ہے کہ ڈاکٹر علی رضا ان کی تحویل میں ہیں تاہم ممتاز حسین اور عمران شاہ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا کہ وہ کس حال میں اور کہاں ہیں۔

اس دھرنے کے دوران کراچی کی نائب ناظمہ نسرین جلیل بھی پہنچیں اور کہا کہ گورنر سندھ حکام سے رابطے میں ہیں اور لاپتہ افراد کے بارے میں معلوم کرکے بتایا جائیگا اس لیے دھرنا ختم کیا جائے۔ان کی اس بات پر نوجوان مشتعل ہوگئے اور نعرے لگائے، صورتحال کشیدہ ہونے کے بعد محافظ نسرین جلیل کو مجمع سے باہر لے گئے۔

ڈاکٹر علی رضا کی بیگم نے دھرنے کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورکمانڈر اور گورنر کو انہوں نے مہلت دی کہ اگر چوبیس گھنٹوں کے اندر اسیروں کے بارے میں اطلاع نہیں دی گئی تو عاشورہ کا ماتمی جلوس یہاں سے آگے نہیں بڑھےگا، جس کے بعد دھرنے کو ختم کر دیا گیا۔

اسی بارے میں
کراچی میں ہائی الرٹ
26 January, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد