بجلی کے تار گرنے سے دس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں محکمہ ریلوے کے حکام کا کہنا ہے کہ سندھ کے شہر شکارپور میں ایک ٹرین پر بجلی کے تار گرنے سے کم از کم دس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ ٹرین کی چھت پر سوار یہ لوگ روہڑی میں نکلنے والے ماتمی جلوس میں شریک ہونے کے لیے جار رہے تھے۔ اتوار کی شب تقریباً ساڑھے آٹھ بجے کوئٹہ ایکسپریس شکارپور شہر سے باہر ایک نالے کے اوپر سے گزر رہی تھی کہ بجلی کی تاریں ٹرین کی چھت پر گرگئیں جس سے کرنٹ لگنے اور چلتی ہوئی ٹرین سے گرنے کی وجہ سے دس افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔ ڈی ایس پی شکارپور علی محمد شاہانی نے بی بی سی کو بتایا کہ بجلی کی جو تار عزاداروں پر گری ہے وہ ہائی ٹرانسمیشن لائن تھی، جو اس وقت ٹوٹ گئی ہے مگر وہ یہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اس میں کرنٹ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا ’تار اوپر گرنے کے بعد لوگ ٹرین سے گرتے گئے اور یہ پلک جھپکتے میں ہوا ہے‘۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ یہ ٹرین جیکب آباد سے سکھر جا رہی تھی اور اس کی منزل کوئٹہ تھی، شکارپور اور حبیب کوٹ کے درمیان اس پر بجلی کی ہائی ٹرانسمیشن لائن گرگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹرین حادثہ نہیں بلکہ واپڈا کی تار گرنے سے افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ان کی اطلاعات کے مطابق بارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ سندھ کے صوبائی وزیر صحت سردار احمد کا کہنا تھا اس حادثے میں ہلاک ہونے والے پانچ افراد کی لاشیں سول ہسپتال شکارپور لائی گئی ہیں، جبکہ انہیں چار مزید افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے مگر ان کی لاشیں ہسپتال نہیں لائی گئیں۔ ایدھی ٹرسٹ کے مطابق کچھ لوگ لاشیں ہسپتال لانے کی بجائے اپنے ساتھ لے گئے ہیں، اس طرح زخمیوں کو بھی ان کے رشتہ دار شہر کے دیگر ہسپتالوں میں لے گئے ہیں۔ زخمیوں کو لاڑکانہ اور سکھر کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جن میں سے اکثر کی حالت تشویشناک ہے، ڈاکٹروں کا کہنا ہے چھت سے گرنے کی وجہ سے کئی لوگوں کے اعضا کو نقصان پہنچا ہے۔ حادثے کےبعد ریلوے ٹریفک عارضی طور پر معطل کردی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس ٹرین میں جیکب آباد اور شکارپور کے لوگ افراد تھے جو روہڑی سے آٹھ محرم کی رات کو نکلنے والی تاریخی ماتمی جلوس میں شریک ہونے کے لیے جا رہے تھے۔ ٹرین میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے اندرون سندھ کئی لوگ ٹرین کی چھت پر بیٹھے کر یہ سفر کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ چھوٹے سٹیشنوں پر انتظامی اسباب کی وجہ سے لوگوں کو اس سفر سے نہیں روکا جاتا ۔ | اسی بارے میں بلوچستان میں دو ٹرینوں پر حملہ27 February, 2006 | پاکستان ایرانی سرحد تک ریل سروس معطل08 March, 2006 | پاکستان کراچی سے اندرون ملک ٹرینیں بحال 06 August, 2006 | پاکستان تیز رفتار ٹرین سروس کا منصوبہ18 October, 2006 | پاکستان کوئٹہ ایکسپریس پرحملہ، 2 زخمی26 October, 2006 | پاکستان تھر ایکسپریس میں مزید تاخیر 20 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||