’خودکش حملے‘ کا منصوبہ، تین گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سکھر پولیس نے کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے تین اراکین کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان افراد نے چہلم کے ماتمی جلوس پر خودکش بم حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔ سکھر پولیس کے سربراہ مظہر شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے جمعہ کے روز دو افراد کو گرفتار کیا تھا، جن کی نشاندہی پر تیسرے ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد کی نام محمد علی ، عبداللہ اور نصیر احمد ہیں جو کالعدم لشکر جھنگوی کے عثمان کرد گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ پولیس نے کہا کہ انہوں نے ملزمان سے خودکش بم حملے میں استعمال ہونے والی ایک جیکٹ، دو دستی بم ، دیسی ساخت کے بم ، دیسی رول ، پسٹل، دیسی ساخت کے سرکٹ ، ڈیٹونیٹر اور ٹیلی فون ڈائریاں برآمد کی ہیں۔ ڈی پی او سکھر کا کہنا ہے کہ ملزمان نے دوراں تفتیش بتایا ہے کہ انہوں نے آٹھ اور نو محرم کی رات کو خودکش حملہ کرنا تھا مگر سخت حفاظتی انتظامات کی وجہ سے وہ ناکام رہے، جس کے بعد انہوں نے چہلم کے ماتمی جلوس پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یاد رہے کہ آٹھ اور نو محرم کو سکھر کے علاقے روہڑی میں نکلنے والے ماتمی جلوس میں ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں۔ پولیس کے مطابق نصیر احمد بولان، محمد علی جیکب آباد اور عبداللہ راجپوت کراچی بھینس کالونی کے رہنے والے ہیں۔ ڈی پی او مظہر شیخ کے مطابق یہ خودکش حملہ محمد علی نے کرنا تھا، جن کا ایک وصیت نامہ بھی ملا ہے۔ اس وصیت نامے میں محمد علی نے خودکش بم دھماکے کرنے کے اسباب اور مقاصد تحریر کیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے کراچی اور کوئٹہ میں اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد کو قتل کرنے کا بھی انکشاف کیا ہے۔ جن میں پروفیسر طاہر عباس، پرویز علی اور اللہ یار جعفری شامل ہیں۔ | اسی بارے میں لشکرِ جھنگوی کے آصف چھوٹوگرفتار28 September, 2005 | پاکستان ملتان:لشکر جھنگوی گرفتاریاں14 June, 2006 | پاکستان لشکر کے مبینہ کارکن گرفتار04 October, 2006 | پاکستان لشکر کے دواراکین کوسزائےموت31 October, 2006 | پاکستان لشکر جھنگوی کے امیرِکراچی گرفتار23 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||