’بیرونی ہاتھ خارج از امکان نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعلیٰ بلوچستان جام محمد یوسف نے کہا ہے کہ کوئٹہ کی ضلع کچہری میں دھماکے میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ کوئٹہ میں دھماکے کے بعد وزیر اعلیٰ کے دفتر میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اس واقعہ کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، تاہم تاحال ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ اس دھماکے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف نے کہا ہے کہ حکومت نے عدالتی احاطہ میں سکیورٹی کا انتظام بہتر بنانے کی کوشش کی تھی لیکن وکلاء برادری نے اس کی مخالفت کی اور کہا تھا کہ اس طرح ان کا کام متاثر ہو سکتا ہے۔ جام یوسف سے جب پوچھا کہ کہ یہ اقدام کس بنیاد پر کیا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا کہ ملک میں اس طرح کے واقعات اور کبھی کبھار جب ایسے حملوں کی دھمکیاں ملتی ہیں تو ان اطلاعات کی بنیاد پر حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو بہتر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور اس کے علاوہ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے معاوضے کی ادائیگی کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے۔ اس واقعہ کے کافی دیر بعد بڑی تعداد میں صوبائی وزراء اراکین صوبائی اسمبلی اور دیگر حکام ہسپتال پہنچ گئے تھے۔ کوئٹہ عدالت میں دھماکے کے بعد شہر میں حفاظتی انتطامات سخت کر دیے گئے ہیں اور تمام اہم مقامات پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ عدالت کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے جبکہ عدالت کے احاطے میں بڑی تعداد میں پولیس تعینات ہے۔ اس واقعہ کے بعد شہر میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ ٹیلیفون پر اس واقعہ کی تفصیل معلوم کرتے رہے۔ | اسی بارے میں سوئی: پائپ لائن میں دھماکہ28 January, 2007 | پاکستان کوئٹہ بم دھماکے میں پندرہ ہلاک17 February, 2007 | پاکستان عاشورہ: فوج اور فرنٹیئر کور تعینات29 January, 2007 | پاکستان بلوچستان: پانچ راکٹ داغے گئے26 January, 2007 | پاکستان قلات: بم حملہ، دالبندین پٹڑی تباہ15 June, 2006 | پاکستان بلوچستان: حالات معمول کی طرف 31 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||