BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 February, 2007, 14:35 GMT 19:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور: دھماکے، سکیورٹی اور خوف

پشاور دھماکہ
لوگ امن و امان کی صورتحال کی ذمہ داری پولیس پر عائد کرتے ہیں
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں جمعہ کو عالمی ادارے ہلال احمر کے دفتر میں بم دھماکے کے بعد شہر میں گزشتہ پانچ مہینوں سے ہونے والے بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی تعداد گیارہ تک پہنچ گئی ہے۔

پشاور میں اس سلسلے کا پہلا بم دھماکہ اٹھارہ ستمبر سن دو ہزار چھ کو کنٹونمنٹ پولیس سٹیشن کے سامنے ہوا تھا جس میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

ان گیارہ میں سے سب سے زیادہ جان لیوا دھماکہ ستائیس جنوری کا خود کش حملہ تھاجو عاشورے سے محض تین روز قبل ڈھکی دلگراں میں پیش آیا جس میں دو اعلٰی پولیس افسروں سمیت اٹھارہ افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

پشاور شہر میں آج کل پولیس نے سڑکوں کی ناکہ بندی کی ہے اور گاڑیوں کی سخت چیکنگ ہوتی ہے۔ کینٹ کا علاقہ عام گاڑیوں کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

حملوں نے پشاور کے عام شہریوں کی زندگیاں مشکل بنا دی ہیں۔شہر کے بازاروں اور پارکوں میں لوگوں کا رش کم دکھائی دیتا ہے۔

ہر شخص ایک انجانے خوف کا شکار ہے۔ نثار محمد خان کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی کے معمولات بدل گئے ہیں۔ ’گزشتہ دو ماہ سے بچوں کو نہ پارک اور نہ ہی ہوٹل لے جا سکا ہوں کیونکہ ہر وقت بم دھماکے یا خود کش حملے کا خوف لگا رہتاہے‘۔

نثار خان بچوں کے سامنے اپنی ذہنی کیفیت کا اظہار بھی نہیں کرنا چاہتے کہ کہیں ان کے دلوں میں بھی خوف نہ بیٹھ جائے۔

پشاور کے مرکزی بازار صدر میں دکانداروں کو شکایت ہے کہ شہر میں امن و امان کی ابتر صورتحال نے ان کے کاروبار کو تقریباًً چوپٹ کر دیا ہے ۔محمد ظریف کا کہنا ہے کہ ’دھماکوں کے بعد سے گاہکوں کی تعداد نصف ہوگئی ہے‘۔

دکاندار کا سات سالہ بیٹا اعزاز کہتا ہے کہ ضد کرنے کے باوجود بھی اس کے والد اسے بازار نہیں لے جاتے۔

پھر بھی حملہ ہوگیا۔۔۔
 ’ہمیں حملے کے دن خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ایک خودکش بمبار شہر میں داخل ہورہا ہے۔ پولیس نے ناکہ بندی کی اور سکیورٹی مزید سخت کر دی مگر بدقسمتی سے وہ خود کش حملہ کر نے میں کامیاب ہو ہی گیا۔
سینئر سپرانٹنڈنٹ پولیس افتخار احمد

اویس خان پہلے اپنی پوری فیملی کے ساتھ شاپنگ کرنے صدر آتے تھے لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ بم دھماکوں کو خوف سے وہ تنہا ہی بازار آکر پوری فیملی کے لیے شاپنگ کر لیتے ہیں‘۔

پشاور میں لوگ زیادہ رش کی جگہوں مثلاً پارک، مساجد اور بازار جانے سے یا تو کترانے لگے ہیں یا پھر زیادہ محتاط رہ کر کم سے کم وقت گزار کر واپس نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

لوگ امن و امان کی صورتحال کی ذمہ داری پولیس پر عائد کرتے ہیں لیکن پشاور کے سینئر سپرانٹنڈنٹ پولیس افتخار احمد کا کہنا ہے کہ گزشتہ سات ماہ سے پولیس اہلکارشب و روز امن و امان کو بر قرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

افتخار احمد کا کہنا ہے کہ ’خود کش حملہ روکنا امریکہ کے بس کی بات نہیں تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔ ہم نے سادہ کپڑوں میں مختلف جگہوں پر اہلکار تعینات کیے ہیں اور پولیس کی نفری اور گشت بڑھادیا ہے۔ ہم آئے روز دہشت گردی کی کوئی نہ کوئی کوشش ناکام بناتے ہیں مگر لوگوں کو نظر ہی نہیں آتا‘۔

پشاور کے ان گیارہ دھماکوں کے بعد پولیس نے بارہا کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں لیکن آج تک کسی کو معلوم نہیں ہوسکا کہ تحقیقات کس مرحلے پر ہیں اور واقعہ کے ذمہ دار کون ہیں۔ایس ایس پی افتخار احمد کا کہنا ہے کہ ’پشاور کے دھماکے جرائم پیشہ افراد کا کام نہیں ہے بلکہ ان واقعات کا تعلق حکومت کی سیاسی پالیسیوں سے ہے‘۔

افتخار احمد نے الزام لگایا کہ دھماکوں میں پڑوسی ملک افغانستان کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے پہلی مر تبہ انکشاف کیا کہ ستائیس جنوری کا خودکش حملہ افغانستان کے ایک ازبک شخص نے کیا تھا۔ ان کے مطابق ’ہمیں حملے کے دن خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ایک خودکش بمبار شہر میں داخل ہورہا ہے۔ پولیس نے ناکہ بندی کی اور سکیورٹی مزید سخت کر دی مگر بدقسمتی سے وہ خود کش حملہ کر نے میں کامیاب ہو ہی گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد