| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوجی افسر اور شہری قانون
آج کل ملتان کینٹ کے بازار میں کپڑے کی ایک دکان کے سامنے ملٹری پولیس کے دو جوان ہر وقت کھڑے رہتے ہیں اور اس کے باہر ایک بورڈ پر لکھا ہے کہ اس دکان سے لین دین ہر رینک کے فوجیوں کے لیے منع ہےـ مذکورہ دکاندار کا قصور یہ بتایا جاتا ہے کہ اس نے قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر دو فوجی افسروں کے خلاف بیان دیا تھا جس کے نتیجہ میں اسے فوجداری مقدمہ، اس کے اہل خانہ کو عدالتوں اور ان کے کاروبار کو فوج کے اعلانیہ بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ـ دکاندار، اسلم شہزاد ، خود جان بچا کر کینیڈا چلا گیا ہے جہاں سے کاروبار کرنے کے لیے وہ پاکستان آیا تھا جبکہ اس کے بھائی اور چار ملازمین حال ہی میں مقامی عدالت سے ضمانت پر رہا ہوئے ہیں ـ ملتان کینٹ بازار کے دکاندار فوج کے خوف سے اس واقعہ پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں ـ بازار کی انجمن کے صدر اختر حسین نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے محتاط انداز میں بات کرتے ہوۓ کہا: |’یہ آرمی کا علاقہ ہے وہ جس کے چاہے بورڈ لگا دیتے ہیں ـ وہ مالک جو ہوئے ـ آپ جن کے گھر میں رہتے ہوں ان کے خلاف بات تو نہیں کرسکتے ـ‘ عینی شاہدین کے مطابق یہ اپریل کی تیرہ تاریخ کا واقعہ ہے کہ دو موٹر سائیکل سوار ممنوعہ سمت سے کینٹ کے بازار میں داخل ہوئے ـ ڈیوٹی پر موجود ایک ٹریفک کانسٹیبل ، لیاقت علی ، نے انہیں روکا اور ان سے ضروری کاغذات مانگے ـ نوجوانوں نے کاغذات دینے کے بجاۓ پولیس اہلکار کو تھپڑ مار دیا جس پر کانسٹیبل نے بھی ایک نوجوان کو تھپڑ مارا ـ یوں لڑائی شروع ہوگئی اور تھوڑی دیر میں قریبی تھانہ سے مزید پولیس اہلکار ان نوجوانوں کو پکڑ کر کینٹ پولیس اسٹیشن لے گۓ ـ اسی دوران میں ملٹری پولیس بھی وہاں پہنچ گئی اور لوگوں کو پتا چلا کہ وہ نوجوان آرمی کے افسر تھے جنہوں نے خاکی وردی نہیں پہنی ہوئی تھی ـ جس جگہ یہ واقعہ ہوا تھا اس کے قریب ہی شہزاد فیبرکس نامی کپڑے کی ایک دکان ہے جس کے مالک اسلم شہزاد نے بعد میں پولیس کانسٹیبل کے حق میں بیان دے دیا کہ زیادہ غلطی موٹر سائیکل سواروں کی تھی ـ سولہ اپریل کو ان میں سے ایک موٹر سائیکل سوار لیفٹیننٹ علی راج نے کینٹ پولیس میں اس دکاندار پر مقدمہ درج کرا دیا کہ پولیس کانسٹیبل سے جھگڑے میں اس دکاندار نے بھی اس کے ساتھ ہاتھا پائی کی یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ فوجی جوان ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دکاندار نے مجمع کو اس کے خلاف بھڑکایا تھا ـ اسلم شہزاد جو کینیڈا سے پاکستان آیا تھا جان بچانے کے لیے دوبارہ کینیڈا چلا گیا لیکن پولیس نے اس کے بھائی امجد شہزاد اور چار ملازمین کو گرفتار کرلیا جو مقامی عدالت سے ضمانت پر رہا ہوئے ہیں ـ اختر حسین کا کہنا ہے کہ ان کی انجمن شہزاد فیبرکس کی فوج سے صلح کی کوششیں کر رہی ہے اور ’دکان کے لوگوں کو پچاس فیصد ریلیف مل گیا ہے اور امید ہے جلد پورا ریلیف مل جاۓ گا‘ ـ کینٹ تھانہ کے محرر ریاست اللہ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ پولیس نے صرف ایک مقدمہ درج کیا تھا جو شہزاد فیبرکس کے خلاف تھا اور اس میں ان کی ضمانت پر رہائی ہوچکی ہے تاہم مقدمہ ابھی بدستور موجود ہے ـ جب پولیس اہلکار سے پولیس اور آرمی افسروں کے جھگڑے کے بارے میں پوچھا گیا تو محرر ریاست اللہ نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے ـ گزشتہ دو ماہ میں ملتان میں فوجی جوانوں کی پولیس اور عام شہریوں سے لڑائی کے کم سے کم تین واقعات ہوچکے ہیں ـ گزشتہ ماہ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی رہنما رانا ثنا اللہ کو فوج پر تنقید کرنے پر ان کے بقول اسے فوجی انٹیلیجنس ایجنسی ، آئی ایس آئی ، نے اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا او ان کے سر کے بال اوربھنویں مونڈ دیں ـ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||