BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 May, 2007, 20:56 GMT 01:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم کیو ایم سے تعلق نہیں: مشرف

مشرف
جنرل مشرف انتخابات سے پہلے سیاسی جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں
صدر جنرل پرویز مشرف نے نجی ٹی وی چینل ’آج‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے اس ارادے کو دہرایا ہے کہ وہ سابق وزرائےاعظم بےنظیر بھٹو اور نواز شریف کو اس برس ہونے والے عام انتخابات سے پہلے پاکستان واپس نہیں آنے دینگے۔ تاہم انہوں نے زور دیا ہے کہ انتخابات میں ’اعتدال پسند قوتیں‘ شدت پسندوں کو شکست دیں اور پھر ایک مخلوط حکومت تشکیل دیں جو شدت پسندوں کا مقابلہ کرے۔

انہوں نے یہ بھی کہا وہ موجودہ اسمبلیوں سے ہی دوبارہ صدر منتخب ہوں گے اور ان کا یہ اقدام آئین کے مطابق ہوگا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انہیں خود کو صدر منتخب کرانے کے لیے کچھ ماورائے آئین اقدامات بھی کرنا پڑے تو وہ کریں گے تاہم انہوں نے اس کی وضاحت کرنے سے گریز کیا۔


جنرل مشرف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اس قسم کی خبریں موصول ہو رہی تھیں کہ آئندہ انتخابات سے پہلے وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنماء بےنظیر بھٹو کے ساتھ کوئی ’ڈیل‘ کرنیوالے ہیں۔

صدر مشرف نے کہا کہ وہ اردو بولتے ہیں لیکن ان کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں۔ ’مخالفین زبردستی میرا تعلق ایم کیو ایم سے جوڑنا چاہتے ہیں‘۔

اگر ریلی نہ ہوتی تو
 اگر 12 مئی کو ایم کیو ایم ریلی نہ کرتی تو یہ پچیس تیس ہزار لوگوں کو لے کر کراچی میں دندناتے پھرتے ان کا پروگرام صرف یہ نہیں تھا کہ کورٹ جاتے اور جب یہ لوگ ایم کیو ایم کے علاقوں سے گزرتے تو یہی افراتفری ہوتی
صدر مشرف
مبصرین کا کہنا ہے کہ 12 مئی کو کراچی میں ہونے والے تشدد کے واقعات کے بعد ’مشرف بےنظیر ڈیل‘ کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں۔

ادھر کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو انٹرویو دیتے ہیں بےنظیر بھٹو نے بھی کہا ہے کہ جنرل مشرف سے ’ڈیل‘ کرنے کا ابھی مناسب وقت نہیں ہے۔ اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوامی جذبات ان کے (مشرف) خلاف ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مشرف سے ان کی ’ڈیل‘ جمہوریت کے لیے ہو گی اور اس کے لیے پہل کرتے ہوئے انہیں فوجی یونیفارم اتارنا ہوگی۔

جنرل مشرف سے جب پوچھا گیا کہ کیا بیرون ملک مقیم دونوں سابق وزرائے اعظم کو انتخابات کے بعد وطن واپس آنے دیا جائے گا تو انہوں نے کہا کہ ’ہم جو بھی فیصلہ کریں گے پاکستان کے مفاد میں کریں گے‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ انہیں چیف جسٹس کو نو مارچ کو اپنے کیمپ آفس میں فوجی وردی میں نہیں ملنا چاہیے تھا کیونکہ اس سے بہت غلط تاثر پیدا ہوا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی چیف جسٹس سے دو تین بار فوجی وردی میں ملاقات کرچکے تھے۔

انہوں نے چیف جسٹس کے معاملے کی پاکستانی ذرائع ابلاغ پر ہونے والی کوریج پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ میڈیا نے اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور اس طرح رپورٹ کیا جیسے پاکستان بھارت کے درمیان کرکٹ میچ کی کوریج ہوتی ہے۔

میرا مقام
 ’اگر میں پچھلے چھ سات سالوں میں اپنا ایک مقام بنالیا ہے اور لوگ میری بات سنتے ہیں تو اس میں آپ کو یا کسی اور کو کیا مسئلہ ہے
صدر مشرف
اپنے انٹرویو میں جنرل مشرف نے کراچی میں بارہ مئی کو ہونے والے واقعات کا ذمہ دار براہ راست چیف جسٹس اور ان کے حامیوں کو ٹھہرایا اور کہا کہ ’وہ وہاں گئے ہی کیوں‘۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے ریلی نکالنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ چیف جسٹس اور ان کی حامیوں نے ریفرنس کے عدالتی اور قانونی معاملے کو سیاسی رنگ دیدیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ کراچی اور اسلام آباد میں ریلیاں نکالنے کا فیصلہ متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان مسلم لیگ کا تھا ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔’سب سے خطرناک بات اس میں یہ ہے کہ اسے لسانی رنگ دیا جارہا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے اگر خدانخواستہ لسانی فسادات شروع ہوئے تو ہم پھر سے 1990 کے دور میں چلے جائیں گے‘۔

جنرل مشرف نے کہا کہ ’میں مانتا ہوں کہ میں اردو بولنے والا ہوں لیکن اپوزیشن جان بوجھ کر مجھے ایم کیو ایم سے جوڑ رہی ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’اگر 12 مئی کو ایم کیو ایم ریلی نہ کرتی تو یہ پچیس تیس ہزار لوگوں کو لے کر کراچی میں دندناتے پھرتے ان کا پروگرام صرف یہ نہیں تھا کہ کورٹ جاتے اور جب یہ لوگ ایم کیو ایم کے علاقوں سے گزرتے تو یہی افراتفری ہوتی‘۔

’آپ کیوں ایم کیو ایم، مسلم لیگ یا دوسری حلیف جماعتوں کو للکار رہے ہیں جب ایسا کریں گے عدالتی معاملے کو سیاسی بنائیں گے تو وہ تو جواب دیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ نو مارچ کو انہیں کراچی جانا تھا لیکن چیف جسٹس نے خود ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی جس کی بناء پر انہوں نے اپنا دورہ ملتوی کردیا تھا۔ جنرل مشرف نے دعوی کیا کہ چیف جسٹس کے بال کھینچنے کا الزام غلط ہے ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔

لوگ ڈرتے نہیں
 ’ایسا نہیں ہے کہ لوگ میری وردی کی بناء پر مجھ سے ملنے، میری بات سننے آتے ہیں، اب لوگ مجھے ایک ایسے شخص کے طور پر جانتے ہیں جو آزاد ذہن اور خیالات رکھتا ہے اور وہ مجھے پسند کرتے ہیں مجھ سے ڈرتے نہیں
صدر مشرف
انہوں نے کہا کہ یہ بات غلط ہے کہ وہ اپنی وردی کو ملک پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ لوگ میری وردی کی بناء پر مجھ سے ملنے، میری بات سننے آتے ہیں، اب لوگ مجھے ایک ایسے شخص کے طور پر جانتے ہیں جو آزاد ذہن اور خیالات رکھتا ہے اور وہ مجھے پسند کرتے ہیں مجھ سے ڈرتے نہیں‘۔

آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کے اپنے پرانے وعدے کو یاد دلانے پر انہوں نے کہا کہ اس وقت حزب اختلاف نے ملک میں ایسی صورتحال پیدا کردی تھی کہ انہیں اپنا ذہن بدلنا پڑا ’حالانکہ میرے لیے ایسا کرنا آسان نہیں تھا میں اپنے وعدے سے نہیں پھرتا‘۔

جنرل مشرف نے کہا کہ ملک میں کوئی فوجی حکومت نہیں ہے اور انہیں پارلیمنٹ نے دو تہائی اکثریت سے صدر چنا ہے۔ ملک میں طاقت کے توازن کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر جنرل مشرف نے کہا کہ ’میں اس ملک کو نہیں چلا رہا بلکہ پاکستان مسلم لیگ اور اس کی کابینہ چلارہی ہے میں اس میں بالکل مداخلت نہیں کرتا۔ ہاں میں چیزوں کا مشاہدہ ضرور کرتا ہوں اور جہاں ضروری سمجھتا ہوں حکومت کی مدد کرتا ہوں‘۔

ایک موقع پر انہوں نے انٹرویو کرنے والے صحافی سے کہا کہ ’اگر میں پچھلے چھ سات سالوں میں اپنا ایک مقام بنالیا ہے اور لوگ میری بات سنتے ہیں تو اس میں آپ کو یا کسی اور کو کیا مسئلہ ہے‘۔

متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے جنرل مشرف کی عمر سرکاری ملازمت کے لیے مقررہ عمر سے زیادہ ہونے کے باوجود آرمی چیف کے عہدے پر برقرار رہنے کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست داخل کر رکھی ہے۔ اس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’میں نے بھی اب ڈپلومیسی سیکھ لی ہے جو بھی کام کروں گا آئین کے مطابق کروں گا‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ موجودہ اسمبلیوں سے ہی دوبارہ صدر منتخب ہوں گے اور ان کا یہ اقدام آئین کے مطابق ہوگا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انہیں خود کو صدر منتخب کرانے کے لیے کچھ ماورائے آئین اقدامات بھی کرنا پڑے تو وہ کریں گے تاہم انہوں نے اس کی وضاحت کرنے سے گریز کیا۔

وردی میں ملاقات
 میں مانتا ہوں کہ مجھے چیف جسٹس کو نو مارچ کو اپنے کیمپ آفس میں فوجی وردی میں نہیں ملنا چاہیے تھا کیونکہ اس سے بہت غلط تاثر پیدا ہوا۔ تاہم میں پہلے بھی چیف جسٹس سے دو تین بار فوجی وردی میں ملاقات کرچکا تھا
صدر مشرف
انہوں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ ملکی امور پر قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تو کیا دنیا کے کسی بھی ملک میں کبھی قومی اتفاق رائے نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اکثریت کی رائے ہی قومی اتفاق رائے ہوتی ہے اور وہ اسی پر یقین رکھتے ہیں۔

جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستان میں القاعدہ موجود ہے اور انہوں نے امریکی حکام کے اس بیان کی بھی تصدیق کی کہ میروالی اور دیگر قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے لوگ ہیں۔ انہوں نے اسامہ بن لادن، الزواہری اور القاعدہ کے دیگر رہنماؤں کے نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ پاکستان میں بھی ہوسکتے ہیں اور کہیں اور بھی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ القاعدہ اور طالبان کے شدت پسندوں کو صرف فوجی کارروائیوں سے قابو نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لئے انٹیلی جنس جنگ کی ضرورت ہے جو پاکستانی ادارے کررہے ہیں اور اس میں انہیں کامیابی بھی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک حکمت عملی کے تحت القاعدہ اور طالبان کے جنگجوؤں کی سرکوبی کے لیے کام کررہے ہیں اور اس سلسلے میں انہیں امریکی حکام سے سیکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ امریکی حکام کو ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

امریکہ کی جانب سے پیش بندی کے طور پر پاکستانی سرزمین پر القاعدہ کے ٹھکانوں پر ممکنہ حملوں کے بارے میں جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں فوج کے بارے میں اے بی سی بھی نہیں پتہ۔ یہ لوگ ذرا جائیں میر علی میں جائیں اور کر کے دکھائیں۔ ان کو (شدت پسندوں) کو کم نہ سمجھیں۔ اگر وہ (امریکہ) ایسا کریں گے تو یہ بڑی غلطی ہوگی اور اس کا بڑا نقصان ہوگا‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد