BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر عدالت کو جوابدہ نہیں: وکیل

شریف الدین پیرزادہ نے اپنے دفاع میں آرٹیکل 248 کا حوالہ دیا
صدر جنرل پرویز مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیزادہ نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست سننے والے تیرہ رکنی بینچ کو بتایا ہے کہ صدر پرویز مشرف اپنے کسی فیصلے پر عدالت کو جوابدہ نہیں ہیں۔

سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت صدر، گورنر، وزیر اعظم، وفاقی وزیر، وزیر مملکت اپنے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے عدالتی کارروائی سے مستثنیٰ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی درخواست میں چونکہ وفاق پاکستان کو فریق بنایا گیا ہے اس لے صدر جنرل پرویز مشرف کو فریقین کی فہرست سے خارج کر دیا جائے۔

سید شریف الدین پیرزادہ نے سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بینچ کو بتایا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے کارروائی شروع کرنے کا مطلب کسی جج کے خلاف فرد جرم عائد کرنا نہیں ہے بلکہ یہ ایسی کارروائی ہے جس کا مقصد یہ پتہ لگانا ہوتا ہے کہ کیا یہ جج اپنے عہدے پر فائز رہ کر اپنے فرائض سرانجام دینے کے قابل ہے یا نہیں۔

سید شریف الدین پیرزادہ نے چار ایسے ججوں کے واقعات عدالت کے سامنے رکھے جن کو سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔

’کوئی جج احتساب سے بالاتر نہیں‘
 شریف الدین نے کہا کہ کوئی جج بھی احتساب سے بالا تر نہیں ہے اور ملائیشیا کی سپریم کورٹ کے ایسے فیصلے کا حوالہ بھی دیا جس میں ڈاکٹر مہاتر محمد نے نہ صرف چیف جسٹس آف ملائیشا کو نکال دیا تھا بلکل ان ججوں کو سپریم کورٹ سے نکال دیا گیا جنہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تھی۔
سید شریف الدین پیزداہ نے کہا کہ جسٹس حسن علی آغا کے علاوہ باقی تینوں جج اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں ناکام رہے ۔اس موقع پر بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ انہوں نے شریف الدین کے دلائل سے اخذ کیا ہے کہ مارشل لا کے دور میں جتنے ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کیے گئے ہیں وہ کامیاب ہوئے جبکہ سویلین دور میں ایک جج کے خلاف ریفرنس دائر ہوا اور وہ اپنے آپ کو کو بے قصور ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

سید شریف الدین پیرزادہ نے عدالت سے کہا کہ عدالتوں کی یہ روایت رہی ہے کہ ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے پہلے انہیں استعفی دینے کا موقع دیا جاتا ہے اور جسٹس افتخار چودھری کو بھی یہ موقع دیا گیا تھا۔

سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے کارروائی کا سامنا کرنا چاہیے اور سپریم کورٹ کو اس موقع پر کونسل کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

سید شریف الدین نے کہا کہ اگر کوئی جج یا وکیل سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبران پر الزامات لگائے تو اس کے خلاف ہتک عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب جسٹس شیخ شوکت کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ریفرنس دائر کیا گیا تو انہوں نے کچھ ججوں پر الزامات لگانے شروع کر دیے اورو عدالت نے ان کے خلاف ہتک عدالت کے تحت کارروائی کا بھی سوچا تھا۔

شریف الدین نے کہا کہ کوئی جج بھی احتساب سے بالا تر نہیں ہے اور ملائیشیا کی سپریم کورٹ کے ایسے فیصلے کا حوالہ بھی دیا جس میں ڈاکٹر مہاتر محمد نے نہ صرف چیف جسٹس آف ملائیشا کو نکال دیا تھا بلکل ان ججوں کو سپریم کورٹ سے نکال دیا گیا جنہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تھی۔

نیب کا سربراہ جج کیوں نہیں؟
 شریف الدین پیرزادہ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ نیشنل اکانٹبیلی بیورر (نیب ) کا سربراہ ایک جج ہونا چاہیے لیکن آج تک کسی نے اس فیصلے کو نہیں مانا۔
سید شریف الدین نے ملائیشا سپریم کورٹ کے فیصلے کی نقلیں عدالت کے تمام ججوں کے حوالےکیں۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے سید شریف پیرزادہ کو کہا کہ آپ تو دنیا کے ہر ملک کی عدالت کا فیصلہ پاکستان سپریم کورٹ کے سامنے لے آتے ہیں حتکہ آپ نے ایک مقدمے میں لیبیا کی سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا تھا۔

سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ کوئی شخص بھی احتساب سے بالا تر نہیں ہے اور نیب سے متعلق ایک سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا۔ جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ شریف الدین پیرزادہ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ نیشنل اکانٹبیلی بیورر (نیب ) کا سربراہ ایک جج ہونا چاہیے لیکن آج تک کسی نے اس فیصلے کو نہیں مانا۔

سپریم کورٹ بینچ کے سربراہ نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک ایسا ادارہ ہے جو صرف ریفرنس وصول کر کے اس کی انکوائری کر سکتا ہے اور اس کے پاس، بادی النظر میں، آئینی معاملات پر فیصلہ صادر کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے جب کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل بھی عدالت ہے اور اس کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ کسی کو ہتک عدالت کا نوٹس دے سکے تو جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہ ہتک عزت کا نوٹس دینے کا اختیار تو وفاقی متحسب کے پاس بھی ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ جس ادارے کے پاس بھی ہتک عدالت کا نوٹس جاری کرنے کا اختیار ہو وہ آئین کی تشریح کرنے کا اہل ہو جاتا ہے۔

مقدمے کی کارروائی جمرات کے روز بھی جاری رہے گی۔

کراچیکراچی میں قتل
شہر میں تشدد: خصوصی ضمیمہ
ایم کیو ایم یہ حکم کس کا تھا
کراچی پولیس پلان کس نے منظور کیا
کراچیکراچی تشدد
کون معصوم ہے اور کون قصور وار
صدر پرویز مشرف (فائل فوٹو)ایمرجنسی، افواہیں
ایمرجنسی ہرگز نافذ نہیں کی جائے گی: مشرف
جنرل اور سیاست
مشرف عوامی کٹہرے میں، انجام کیا ہوگا؟
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
اسلام آباد پولیساسلام آباد: سٹیج تیار
صدر مشرف کے جلسے کے تمام انتظامات مکمل
اسی بارے میں
’حکومت کی بڑی ناکامی‘
15 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد