’حکومت کی بڑی ناکامی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور میں پندرہ مئی کو پھر وہ ہوا جوگزشتہ نو دس ماہ سے وقفے وقفے سے ہوتا آ رہا ہے۔ کبھی تو بم دھماکے اور کبھی خودکش حملے۔ ان میں ہلاک ہونے والے اکثر غریب اور عام لوگ یا پھر ڈی آئی جی رینک کے پولیس افسر ہیں۔ عام تاثر یہی ہے کہ شاید اسی وجہ سے ان حملوں کو روکنے میں حکومت کو کوئی خاص کامیابی ہاتھ نہیں آ رہی ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف ہوں یا پھر ڈینیئل پرل جیسے غیرملکی صحافی ان پر حملے میں ملوث افراد تو غیرمعمولی پھرتی کے ساتھ پکڑے گئے، ان پر مقدمات چلے اور انہیں سزائیں ہوئیں لیکن ان تقریباً روزمرہ کے واقعات کے پیچھے کون لوگ یا گروہ ہیں یہ آج تک واضح نہیں ہوسکا ہے۔ پشاور میں منگل کو ہونے والے خودکش حملے کے بعد یہ سوال ایک مرتبہ پھر لوگوں کے ذہنوں میں ابھرا ہے کہ ان واقعات کی پشت پر کون لوگ ہیں۔ کیوں پشاور اور اس کے باسیوں کو ہاتھیوں کی کسی جنگ میں گھاس جیسی کوئی چیز بنا دیا گیا ہے؟ کبھی افغانستان میں روسی افواج کے خلاف جہاد اور کبھی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں کیوں پشاور ہی کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے؟ حکومت نے کبھی ان واقعات کی ذمہ داری پوری طرح سے معلومات نہ ہونے کی وجہ سے قبائلی علاقوں اور وقتی حالات اور اپنی آسانی کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے کبھی مشرقی اور کبھی مغربی سرحد پار عناصر پر ڈال دی۔ ’بیرونی ہاتھ’ کی اصطلاح شاید ایسے ہی سرکاری ردعمل کی وجہ سے بدنام ہوگئی ہے اور حکومت کی جانب سے ان حملوں کی وجوہات کے بارے میں کوئی واضح بیان نہ ہونے کی وجہ سے جتنے منہ اتنی باتیں ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ خود صوبائی حکومت کے وزراء بیانات میں ایسی ایسی حیران کن وجوہات بتا رہے ہیں کہ جو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتیں۔ مثال کے طور پر صوبائی وزیر قانون ملک ظفر اعظم کا اس دھماکے کو ایک روز قبل سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسڑار حماد رضا کی ہلاکت سے جوڑنا کہ یہ اسی کا ایک تسلسل ہے۔ ایسے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خود حکومت کو نہیں معلوم آخر پشاور میں کون سا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ ایسے بیانات صرف وزراء تک ہی محدود نہیں۔ ہر شخص اپنی سوچ اور شعور کے مطابق اپنی سی کہانی گھڑ لیتا ہے۔ اس حملے کے بارے میں کی جانے والی قیاس آرائیوں میں ایک یہ بھی ہے کہ چند روز قبل افغانستان میں مارے جانے والے طالبان کے اہم رہنما ملا داد اللہ کی ہلاکت کا یہ ردعمل ہوسکتا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مرحبا ہوٹل کے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افغان مالک کی جانب سے مہیا کی گئی معلومات کی بنیاد پر چند روز قبل خفیہ داروں نے پشاور میں چند گرفتاریاں کی تھیں۔ ان میں ملا داد اللہ کے بیٹے بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس ہوٹل کا مزار شریف سے تعلق رکھنے والا مالک جعلی افغانی پاسپورٹ بنانے جیسے کام بھی کرتا تھا۔ سو آیا یہ انہیں معلومات اور غیر قانونی کاروبار کا بدلہ تھا یا کچھ اور؟ اس بارے میں حکام باضابطہ طور پر کچھ کہنے سے حسب معمول کتراتے ہیں۔ خودکش حملوں کی تاریخ میں ایک نیا عنصر حکام کے مطابق حملہ آور کی ٹانگ سے بندھا پیغام ہے جس میں امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے والوں کا یہی انجام کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس سے ہوٹل کی مالک سے منسلک کہانیوں کو تقویت مل سکتی ہے۔ ایک اور وجہ جس پر شک ہوسکتا ہے وہ گزشتہ دو تین روز سے پاک افغان سرحد پر کشیدگی ہے۔ دونوں ممالک کی سکیورٹی فورسز نے سرحد پر باڑ لگانے اور چوکی قائم کرنے کے معاملے پر ایک دوسرے کے فوجی بھی ہلاک کیے۔ ماضی میں بھی دونوں ہمسایہ ممالک میں سرحد کے تعین پر تلخی رہی ہے۔ کبھی چمن میں باب آزادی کی تعمیر پر اور کبھی طورخم میں لیکن بظاہر اس کا اتنا شدید ردعمل سامنے نہیں آیا کہ ایک دوسرے کے شہروں میں حملے ہوئے ہوں۔ صوبہ سرحد کا دارالحکومت گزشتہ ستمبر سے کبھی بم حملوں اور کبھی خودکش حملوں کی زد میں ہے۔ کبھی سات ہلاک ہوتے ہیں تو کبھی سترہ۔ صرف اس برس یہ صوبہ سرحد میں اب تک کا یہ چوتھا خودکش حملہ ہے۔ ابھی لوگ اس سال جنوری میں قصہ خوانی بازار میں ہلاک ہونے والے پولیس کے اچھی شہرت والے افسر کی تصاویر اپنی گاڑیوں سے نہیں ہٹا پائے ہیں کہ یہ ایک اور اندوہناک واقع پیش آیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان اور چارسدہ بھی لوگوں کو نہیں بھولا ہے۔ لیکن یہ تمام جان لیوا واقعات لوگوں کے ذہنوں میں ابہام زیادہ چھوڑ جاتے ہیں لیکن اس بات میں کوئی ابہام کی گنجائش نہیں مجرموں کو گرفت میں نہ لا سکنا حکومت کی بظاہر بڑی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ |
اسی بارے میں پشاور:خودکش دھماکہ، 25 ہلاک15 May, 2007 | پاکستان کھاریاں آرمی سنٹر پر خودکش حملہ29 March, 2007 | پاکستان ’پاکستان میں ہمارا مضبوط نیٹورک ہے‘10 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||