’ یہ داداللہ ہلاکت کا ردعمل نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ پشاور میں ہونے والے حملے کو طالبان کے اہم رہنما ملا داد اللہ کی ہلاکت سے براہِ راست نہیں جوڑا جا سکتا کیونکہ ان کی ہلاکت میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ ادھر وفاقی حکومت نے پشاور دھماکے کی تحقیقات کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم روانہ کر دی ہے۔ اسلام آباد میں نیشنل کرائسس مینجمنٹ سیل کے سربراہ بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے بتایا کہ پاکستان نے ملا داد اللہ کے بارے میں افغان حکام کو کوئی معلومات نہیں دی تھیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا حصہ ہونے کا ردِعمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک، قوم اور اسلام دشمن عناصر کی کارروائی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچیس ہے جبکہ تیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ بظاہر خودکش حملہ ہی محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے مقام سے دو ٹانگیں اور خودکش حملے میں استعمال ہونے والے نٹ ، بولٹ ملے ہیں جبکہ دھماکے کے مقام پر کوئی گڑھا بھی نہیں پڑا ہے تاہم ’اس بارے میں حتمی رائے ماہرین کی تحقیقات کے بعد ہی قائم کی جا سکتی ہے‘۔ انہوں نے اس بارے میں بھی کوئی واضح جواب دینے سے انکار کیا کہ اس دھماکے کے تانے بانے کہاں ملتے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا’ماضی میں ان کا تعلق قبائلی علاقوں یا سرحد پار سے ثابت ہوا ہے لیکن اس قسم کی کوئی بات کرنا قبل از وقت ہوگا‘۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ پر خودکش حملے کی واقعے کی تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے اور اس سلسلے میں جلد کامیابی ملنے کی امید ہے۔ جاوید اقبال نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ حکومت خودکش حملوں اور بم دھماکوں کے مجرموں تک پہنچنے میں ناکامی رہی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ گزشتہ تین چار برس میں کئی افراد کو ان حملوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے سزائیں دلوائی جا چکی ہیں۔ | اسی بارے میں پشاور:خودکش دھماکہ، 25 ہلاک15 May, 2007 | پاکستان حکمت عملی، لائحہ عمل اور خودکش حملے30 April, 2007 | پاکستان ’زیادہ تر مقامی لوگ ہی نشانہ بنے‘29 April, 2007 | پاکستان تفتیش کا دائرہ پھیل رہا ہے: پولیس29 April, 2007 | پاکستان خودکش حملہ: چوبیس ہلاک، شیرپاؤ زخمی28 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||