خودکش حملہ: چوبیس ہلاک، شیرپاؤ زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چارسدہ میں پاکستان کے وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی ایک ریلی پر ہونے والے خودکش حملے میں کم سے کم چوبیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ خود وزیرِ داخلہ اس حملے میں معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق خود کش حملے میں پینتالیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں آفتاب شیر پاؤ کے صاحبزادے سکندر شیر پاؤ اور کئی سیاستدان بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو پشاور منتقل کر دیا گیا ہے اور ان میں سے کئی کی حالت نازک ہے۔ ابتدا میں ہلاکتوں کی تعداد بائیس بتائی گئی تھی لیکن پشاور کے ایس ایس پی افتخار خان نے ہلاکتوں کی تعداد چوبیس بتائی ہے۔ چارسدہ کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر فیروز شاہ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو ٹیلیفون پر بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد میں آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے بیٹے کے ذاتی اسسٹنٹ جہانزیب کے علاہ تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب شیرپاؤ اپنی تقریر ختم کر چکے تھے جبکہ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے خفیہ حکام کے حوالے سے یہ بھی بتایا ہے کہ خود کش حملہ آور نے وزیرِ داخلہ کے قریب پہنچنے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی اہلکاروں نے اسے روک لیا جس کے بعد اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر وزیرِ داخلہ کو دھماکے کے بعد خون آلود چہرے کے ساتھ اپنی گاڑی کی جانب جاتے ہوئے دکھایا گیا۔ صوبہ سرحد کے سیکرٹری داخلہ باچہ گل وزیر نے خبر رساں ادارے رائٹرز کوبتایا ہے کہ انہوں نےشیرپاؤ کے چہرے پر خون دیکھا ہے تاہم انہیں نہیں معلوم کہ یہ خون کس کا تھا۔ وزیرِ داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے بعد ازاں پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حملے کا ہدف تھے۔ انہوں نے کہا’یہ حملہ مجھے قتل کرنے کے لیے کیا گیا تھا‘۔شیر پاؤ نے کہا کہ انہیں ہلاک ہونے والوں لوگوں کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’میں اس واقعہ کو سیاسی مقاصد کے لیےاستعمال نہیں کرنا چاہتا اور ہمارا یہ مصمم ارادہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی‘۔
اس سے قبل پاکستان کے وزیرِاطلاعات و نشریات محمد علی درانی نے کہا تھا کہ وزیرِ داخلہ اس خود کش حملے کا نشانہ ہو سکتے تھے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس کے پیچھے کون لوگ ہیں۔ نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے سربراہ بریگیڈیئر جاوید اقبال چیمہ کا کہنا ہے کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم چارسدہ پہنچ چکی ہے۔ دریں اثناء وفاقی سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ نے کہا کہ خفیہ اداروں نے چند ہفتے قبل اپنی رپورٹوں میں اس نوعیت کے خودکش بم حملوں کے خدشے کا اظہار کیا تھا۔بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کی رپورٹس ابھی حال ہی میں نہیں آئی تھیں۔ تاہم وہ خاص طور پر اس جلسے کے متعلق نہیں تھیں لیکن چند ہفتے پہلے آئی تھیں‘۔ اس سوال پر کہ کیا اس واقعے کے پیچھے ان لوگوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے جنہوں نے پچھلے دنوں حکومت کو خود کش حملوں کی دھمکیاں دی تھیں، سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ ’جب تک ابتدائی تفتیش نہیں ہو جاتی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا اور کسی پر فوری طور پر اس واقعے کا الزام لگانا مناسب بات نہیں ہے‘۔ حملہ آور کا سر مل گیا ہے
ملک ظفر اعظم نے ملک کی انٹیلیجنس ایجنسیوں پر الزام لگایا کہ وہ صوبہ سرحد میں داخل ہونے والے مشتبہ افراد کے بارے میں معلومات کا تبادلہ صوبائی حکومت سے نہیں کرتی ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ جائے وقوع پر سکیورٹی اہلکار مناسب تعداد میں کیوں نہیں تعینات تھے، ظفر اعظم کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو اس جلسے کے بارے میں اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کا اپنا اندازہ یہ تھا کہ یہ ایک ’کارنر میٹنگ‘ تھی اور اسی کے حساب سے سکیورٹی تعینات کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ سے قبل سنہ 2003 میں صدر جنرل پرویز مشرف اور سنہ 2004 میں وزیراعظم شوکت عزیز پر بھی ناکام خودکش حملے کیے جا چکے ہیں جن میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں پشاور میں بم دھماکہ06 April, 2007 | پاکستان کھاریاں آرمی سنٹر پر خودکش حملہ29 March, 2007 | پاکستان دو مزید مشتبہ خودکش بمبارگرفتار20 February, 2007 | پاکستان کراچی: مشتبہ خودکش بمبارگرفتار16 February, 2007 | پاکستان ’خودکش حملے‘ کا منصوبہ، تین گرفتار17 February, 2007 | پاکستان اسلام آباد ایئرپورٹ پر دھماکہ، حملہ آور ہلاک06 February, 2007 | پاکستان ڈیرہ آئی خان میں خود کش حملہ29 January, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||