BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 April, 2007, 21:42 GMT 02:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حملہ آور شیرپاؤ کی جانب بڑھ رہا تھا‘

خود کش حملے میں وزیرِ داخلہ کی گاڑی بھی بری طرح متاثر ہوئی
صوبہ سرحد کے ضلع چارسدہ میں پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ پر ہونے والے مبینہ خودکش حملے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ شام کے وقت جلسہ ختم ہونے کے بعد پیش آیا جب وزیر داخلہ شیرپاؤ اور ان کا بیٹا ایم پی اے سکندر حیات خان شیرپاؤ گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔

جلسے میں موجود ایک مقامی صحافی فیض محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جلسہ جب ختم ہوا تو میں اور چند دوسرے صحافی ساتھی آفتاب شیرپاؤ سے ملنا چاہتے تھے۔ جونہی ہم اگے بڑھے تو اس دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا اور ہم سب زمین پر گر گئے۔‘

فیض محمد کا کہنا تھا کہ ’ایک قیامت کا عالم تھا، ہر طرف چیخ و پکار تھی تمام لوگ افراتفری کے عالم میں ادھر ادھر بھاگ رہے تھے، سب لوگوں کے کپڑے خون میں لت پت تھے۔‘

فیض محمد نے بتایا کہ انہیں پولیس ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ مبینہ خودکش حملہ آور جلسہ ختم ہونے کے بعد آفتاب شیرپاؤ کے قریب بڑھ رہا تھا کہ وہاں پر موجود دو پولیس اہلکاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی جس پر اس نے اپنے آپ کو اڑا دیا۔

 میں آفتاب شیرپاؤ سے گلا ملا اور ان کے سیکرٹری سے بات کر رہا تھا کہ اس دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کے بعد مجھے صرف لوگوں کی چیخیں یاد ہیں۔ میں نے جب آنکھ کھولی تو ہپستال میں پڑا ہوا تھا۔
زخمی محمد اورنگزیب
اس واقعے میں زخمی ایک صحافی واجد آفریدی نے بتایا کہ ’دھماکے کی آواز اتنی شدید اور خوفناک تھی کہ میں بیان نہیں کرسکتا، ابھی تک میری کانوں میں وہ آواز گونج رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ آج میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے موت دیکھی ہے، کئی لوگوں کے سر، بازو، ٹانگیں اور ہاتھ ادھر ادھر پڑے ہوئے تھے اور لوگوں کی چیخ وپکار تھی۔‘

چارسدہ ہپستال میں ایک زخمی محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ’میں آفتاب شیرپاؤ سے گلا ملا اور ان کے سیکرٹری سے بات کر رہا تھا کہ اس دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کے بعد مجھے صرف لوگوں کی چیخیں یاد ہیں۔ میں نے جب آنکھ کھولی تو ہپستال میں پڑا ہوا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ دھماکے سے پہلے وہاں پر کوئی چار پانچ سو کے قریب لوگ موجود تھے جو وزیرداخلہ سے مل رہے تھے۔

ڈسٹرکٹ ہسپتال چارسدہ کے ایک ڈاکٹر فرمان اللہ درانی نے بتایا کہ ہپستال میں آٹھ ایسی لاشیں لائی گئیں ہیں جو شناخت کے قابل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’بعض ایسی لاشیں ہیں جن کے یا تو سر ہے تو بازو نہیں، اگر بازو ہے توٹانگ نہیں ہے۔ بعض ایسی بھی ہیں جن کا صرف گوشت باقی ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ دو تین سر بھی پڑے ہوئے ہیں جن کے دیگر اعضاء کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔‘

جائے وقوعہ پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ دھماکہ ایک ریلوے پلیٹ فارم کے قریب ہوا ہے جہاں پر جلسے کے لئے ٹینٹ لگائے گئے تھے۔ یہ علاقہ سٹیشن کورونہ کے نام سے مشہور ہے جو چارسدہ شہر سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

پندرہ سے بیس فٹ کے اس علاقے میں زمین پر ہر طرف خون کے لوتھڑے ہی دکھائی دیے۔ جائے وقوعہ کے پاس آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور سکندر حیات خان شیر پاؤ کی گاڑیاں بھی کھڑی تھیں جو اس واقعہ میں جزوی طورپر تباہ ہوگئیں ہیں۔ اس موقع پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکار بڑی تعداد میں موجود تھے۔

جائے وقوعہ کے قریب ایک مسجد بھی واقع ہے جہاں پر ہر دس منٹ کے بعد دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کے جنازوں کے بارے میں اعلانات ہوتے رہے جبکہ بعض ہلاک شدگان کو رات ہی کے وقت دفنا دیا گیا۔

میں نےدیکھا کہ۔۔۔
’حملہ آور شیرپاؤ کی جانب بڑھ رہا تھا‘
وزیرِداخلہ نشانےپر
شیرپاؤ کی ریلی پر خود کش حملہ:تصاویر میں
خود کش حملہچار ماہ، آٹھ حملے
پاکستان میں اس سال کا آٹھواں خود کش حملہ
اسی بارے میں
پشاور میں بم دھماکہ
06 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد